نواز شریف کمزور ہوتے ہیں تو پاﺅں پڑتے ہیں، موقع ملے تو گردن پکڑتے ہیں، اعتزاز احسن

  • مفاہمت کی سیاست پر یقین رکھتا ہوں،بلاول کی نواز شریف سے ملاقات کی مخالفت نہیں کی، میں نے کبھی نہیں کہا کہ بلاول کو نواز شریف سے نہیں ملنا چاہیے، نواز شریف خود علاج نہیں کرانا چاہتے، پیپلز پارٹی چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں
  • یہ پی پی پی کا ظرف ہے کہ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری جیل میں نواز شریف سے ملنے گئے لیکن جب آصف علی زرداری حراست میں تھے تو انہیں اذیتیں پہنچائی گئیں ،رہنما پیپلزپارٹی

اسلام آباد(صباح نیوز)پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ نواز شریف کا یہ طریقہ ہے کہ وہ جب کمزور ہوتے ہیں تو پاوں پکڑتے ہیں اور جب موقع ملتا ہے تو گردن پکڑتے ہیں۔سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے کہا کہ بہت سارے بیانات اور ٹوئٹس مجھ سے منسوب کیے جا رہے ہیں، سوائے ایک اکاونٹ کے میرا کوئی ٹوئٹر اکانٹ نہیں، میرا آفیشل اکانٹ دی رئیل اعتزاز احسن کے نام سے ہے، جعلی ٹوئٹر اکانٹ سے چلایا جا رہا ہے کہ میرے پیپلز پارٹی سے اختلافات ہیں، میں پیپلز پارٹی نہیں چھوڑ رہا اور ایسا کوئی ارادہ بھی نہیں۔ پیپلز پارٹی ایک خاندان ہے اور میں اس کا فرد ہوں، پارٹی کے اندر اختلافات ہوتے ہیں اور وہ پارٹی کے اندر ہی نمٹائے جاتے ہیں۔اعتزاز احسن نے کہا کہ میں نے بلاول کی نواز شریف سے ملاقات کی مخالفت نہیں کی، میں نے کبھی نہیں کہا کہ بلاول کو نواز شریف سے نہیں ملنا چاہیے، میں بھی نواز شریف کے دور میں قید کاٹ چکا ہوں، مفاہمت کی سیاست ہونی چاہیے، پیپلز پارٹی نے سندھ میں بھی علاج کی آفر کی ہے، نواز شریف خود علاج نہیں کرنا چاہتے، نواز شریف کا طریقہ یہ ہے جب کمزور ہوتے ہیں تو پاوں پکڑتے ہیں جب موقع ملتا ہے تو گردن پکڑتے ہیں، انہوں نے ہی پیپلز پارٹی کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو نکلوایاتھا۔

Scroll To Top