مشرقی اور مغربی سرحد وںپر کشیدہ صورتحال کا سامنا ہے،شاہ محمود قریشی

  • افغانستان میں امن عمل کیلئے کوشاں ہیں ،اقتصادی بحالی بڑا چیلنج ہے ، قرضوں میں اضافہ اور عوام کی مشکلات گزشتہ حکومتوں کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے
  • جی ایس پی پلس کے حصول میں یورپی یونین کی حمایت پر شکر گزار ہیں، 26مارچ کو پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان معاہدہ ہونے جا رہا ہے

اسلام آباد(صباح نیوز)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مشرقی سرحد پر امن کیلئے ہمارے اقدامات کا مثبت جواب نہیں دیا گیا،مشرقی اور مغربی سرحد پر کشیدہ صورتحال کا سامنا رہا ہے، افغانستان میں امن عمل کیلئے کوشاں ہیں ، قرضوں میں اضافہ اور غریبوں کی مشکلات ماضی کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے، اقتصادی بحالی بڑا چیلنج ہے، جس میں اسد عمر کامیاب ہوں گے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بزنس لیڈرز سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا جی ایس پی پلس کے حصول میں یورپی یونین کی حمایت پر شکر گزار ہیں، 26مارچ کو پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان معاہدہ ہونے جا رہا ہے، ملک کو معاشی طور پر مستحکم بنانا ترجیح ہے، بیرون ملک اکاﺅنٹس اور جائیدادیں بنانے کیلئے اقتدار میں نہیں آئے۔ انہوں نے کہا جی ڈی پی بڑھانے اور خسارہ کم کرنے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں، اقتصادی بحالی بڑا چیلنج ہے، کامیاب ہوں گے، گزشتہ برسوں میں بیرونی سرمایہ کاری میں نمایاں کمی آئی، ماضی کی غلط پالیسیوں سے غریب اور پسماندہ طبقے کی مشکلات بڑھیں۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا ماضی کی حکومتوں نے قرضوں میں ہو شربا اضافہ کیا، غربت کا خاتمہ وزیراعظم کی اولین ترجیح ہے، درست معاشی پالیسیوں سے اداروں کو بہتر سمت میں گامزن کر رہے ہیں، معاشی استحکام کیلئے امن ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا مشرقی اور مغربی سرحد پر کشیدہ صورتحال کا سامنا رہا ہے، افغانستان میں امن عمل کیلئے کوشاں ہیں، یقین ہے کہ افغان امن مذاکرات سے صورتحال بہتر ہوگی، وزیراعظم نے بھارت سے کہا آپ ایک قدم بڑھا ہم دو بڑھائیں گے، مشرقی سرحد پر امن کیلئے ہمارے اقدامات کا مثبت جواب نہیں دیا گیا۔

Scroll To Top