خیبرپختونخوا :وزیراعلیٰ کی ہر15دن کے بعد کابینہ اجلاس بلانے کی ہدایت

  • ایجنڈے پرپہلاآئٹم سابقہ فاٹا کے صوبے میں شامل نئے اضلاع کے انضمام سے متعلق ہوگا،اضلاع کو ترقی کے قومی دہارے میں لانے پر خصوصی توجہ دی جائیگی
  • قبائلی عمائدین اور عوام سے براہ راست ملاقات اور مذاکرات کی منصوبہ بندی تاکہ صوبائی حکومت کے اقدامات بارے آگاہ کیا جاسکے

پشاور(الاخبار نیوز)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے ہر پندرہ دن کے بعد صوبائی کابینہ کا اجلاس بلانے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کابینہ اجلاس میں پہلا ایجنڈا سابقہ فاٹا کے صوبے میں شامل نئے اضلاع کے انضمام سے متعلق ہوا کرے گا۔ تمام محکمے ضم شدہ قبائلی اضلاع کو ترقی کے قومی دہارے میں لانے پر خصوصی توجہ دے۔ نئے اضلاع کے عوام کی زندگی کو مثبت تبدیلی سے ہمکنار کرنا اور ان کو ریلیف دینا حتمی اور ناگزیر ہدف ہونا چاہیئے ، جس کا ہر کابینہ اجلاس میں جائزہ لیا جائیگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سول سیکرٹریٹ پشاور میں صوبائی کابینہ کے خصوصی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا ۔ صوبائی وزراء، وزیراعلیٰ کے مشیروں اور معاونین خصوصی ، چیف سیکرٹری ، صوبائی محکموں کے انتظامی سیکرٹریز ، انسپکٹر جنرل پولیس اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں کابینہ کے سابقہ اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا ، اور سابقہ فاٹا کے صوبے میں انضمام کے حوالے سے پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعلیٰ نے اس موقع پر صوبائی محکموں کو نئے اضلاع کے تیز رفتار انضمام اور انکی فلاح و ترقی کے مجموعی عمل پر غیر معمولی توجہ مرکوز کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ تمام محکمے اس سلسلے میں ہمہ وقت اپڈیٹ رہیں۔ ہر پندرہ دن کے بعد کابینہ کا اجلاس ہوگا جس میں سابقہ فاٹا کے انضمام پر پیش رفت کا جائزہ لیا جائیگا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس معاملے کو آسان نہ لیا جائے ، کیونکہ ہم نے جس حد تک ممکن ہوا جلد سے جلد نئے اضلاع کے عوام کی زندگی میں بہتری لانی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ انضمام کے پس پردہ اہداف کا حصول یقینی ہو، اور اس کے مثبت اثرات قبائلی عوام کے طرز حیات میں نظر آئےں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نئے اضلاع کو قومی ترقی کے دہارے میں لانے کے سلسلے میں صوبائی حکومت کے فیصلوں سے عوام کو بروقت آگاہ کیا جائیگا، اور قبائلی عوام کے تحفظات دور کئے جائےں گے۔ اجلاس کو نئے اضلاع کے لئے دس سالہ ترقیاتی پلان پر بھی بریفنگ دی گئی ، اور آگا ہ کیا گیا کہ قبائلی عمائدین اور عوام سے براہ راست ملاقات اور مذاکرات کا پلان تیار ہے تاکہ انہیں صوبائی حکومت کے اقدامات اور ان کے فوائد سے متعلق آگاہ کیا جاسکے۔ اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ قبائل سے مذاکرات کا یہ سلسلہ سابقہ فاٹا کے شمائلی اضلاع سے شروع کیا جا رہا ہے، جن میں باجوڑ ، مہمند ، خیبروغیر ہ شامل ہیں۔ وزیراعلیٰ نے اس پلان سے اتفاق کیا اور کہا کہ قبائلی عوام سے رابطے کی اس کاوش میں متعلقہ صوبائی وزراءکو بھی ساتھ لیا جائے، وہ بہت جلداس کا شیڈول مہیا کریں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ قبائلی علاقے اب آئینی اور قانونی طور پر خیبرپختونخوا کا حصہ ہے ہم ان کی بھر پور فلاح اور ترقی چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لیویز اور خاصہ داروں کی ملازمت کو تحفظ دیا جارہا ہے اور اسی مقصد کے لئے آرڈیننس لایا جارہا ہے۔ وزیراعلیٰ نے اس موقع پر پی ٹی آئی کی سابقہ صوبائی حکومت اور موجودہ حکومت کی طرف سے بنائے گئے نئے قوانین کے تحت رولز کی تشکیل اور اداروں کے قیام کے حوالے سے پیش رفت بھی طلب کی۔ انہوں نے اس سلسلے میں کابینہ کے آئندہ اجلاس میں مکمل تفصیل فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ اور واضح کیا کہ ایک ماہ کے اندر خاطر خواہ پیش رفت یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صرف قوانین بنا لینا کافی نہیں ہوتا جب تک ان قوانین کے تحت رولز میسر نہ ہوں، اور ادارے موجود نہ ہوں تو حکمرانی کا مجموعی نظام سست روی کا شکار ہو جاتاہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ صوبائی حکومت کی عمومی ہدایت تھی کہ تمام محکمے اپنے قوانین کے رولز بلاتاخیر تشکیل دیں۔کابینہ کے فیصلوں پر عمل درآمد میں تاخیر نہیں ہونی چاہیئے۔ متعلقہ محکمے اس سلسلے میں تیز رفتار عملدرآمد کے پابند ہے ۔ وزیراعلیٰ نے مزید ہدایت کی کہ وزراءاپنے اپنے محکموں کے اندر کابینہ کے فیصلوں پر پیش رفت کا ماہانہ بنیادوں پر جائزہ لیا کریں تاکہ معاملات سرعت کے ساتھ آگے بڑھ سکےں۔

Scroll To Top