چین ملک میں روزگار کے مستحکم مواقعوںکیلئے پرعزم

(خصوصی رپورٹ):۔ چینی قیادت ملک تمام شعبوں میں اصلاحات اور کشادگی پر مبنی پالیسز کے تسلسل کے باوجود شہری علاقوں روزگار کے حوالے سے دباﺅ کا شکا ر ہے کیونکہ چین کے دیہی علاقوں سے 15ملین لوگ بہتر روزگار اور مستحکم ایمپلائمینٹ اقدامات کےلیے تیزی سے شہری علاقوںکا رخ کر رہے ہیں۔ عالمی سطع پر جہاں اقتصادی صورتحال غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہی ہے وہیں عالمی معیشت کے دنیا بھر کے ممالک کی مقامی معیشتوں پر تیزی سے دباﺅ پیدا ہو رہا ہے۔ اس تناظر میں دنیا بھر کے ممالک سمیت چین کو مقامی سطع پر بالخصوص ایک بڑی آبادی کو روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے حوالے سے بڑے پریشر اور دباﺅ کا سامنا ہے۔ چین نے گزشتہ سال2018میں شہری سطع پر13.11ملین نئے روزگار کے مواقع پیدا کیئے ہیں اس حوالے سے چین نے گزشتہ سال کے حوالے سے روزگار کے نئے مواقعوں کے لیے قائم ہدف کو 127فیصد کیساتھ کامیابی سے حاصل کیا ہے۔ جو گزشتہ سال کے حوالے سے ملک تاریخ میں ریکارڈ ساز سنگِ میل ہے۔ چین مقامی سطع پر ملک میں گزشتہ چھ سالوں سے تیرہ ملین نئی ملازمتوں کے حوالے سے ملازمتیں پیدا کر رہا ہے۔ اس حوالےسے چین کی تیانجن یونیورسٹی کے کالج آف مینجمنٹ اینڈ اکنامکس کے ہیڈشانگ شیئبو کا کہنا ہے کہ رواں سال کے حوالے سے چین میں روزگار کے نئے مواقع تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ رواں سال2019میں 8.34ملین کالج سٹوڈنٹس کالج گریجو ایشن کی تعلیم مکمل کر لیں گے۔ اس حوالے سے رواں سال کے حوالے سے حکومت پر روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے اس ضمن میں بھی دباﺅ ہے کیونکہ بیشتر کچھ ایسی انٹر پرائسز جواصلاحات کے حوالے سے یا تو بند کر دی گئیں ہیں یا انہیں دیگر انڈسٹریز یا انٹر پرائسز میں ضم کر دیا گیا ہے اس طرح سے ان بند ہونیوالی انٹر پرائسزکے متاثرہ ملازمین کو بھی دیگر انٹر پرائسز میں ایڈ جسٹ کرنا حکومتی ترجیع کا حصہ ہے۔ چین کے نیشنل بیورو آف اسٹیٹیکس کی جانب سے جاری ہونیوالی رپورٹ کے مطابق ملک کی گراس دومیسٹک پراڈکٹ(GDP)کے ہر پوائینٹ کے بدلے میں ملک میں سال2017کے دوران1.96ملین نئی ملازمتیں پیدا ہوئیں، جو 2012کےمقابلے میں 340ہزار زائد تھیں، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ چین میں نئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے حوالے سے وسیع عوامل موجود ہیں۔ دوسری جانب چین کے قانون ساز ادارے اور سیاسی مشیران اور مبصرین بھی اس حوالے سے سفارشات مرتب کر رہے ہیںکہ حکومتی سطع پر ملک میں نئے روزگار کے حوالے سے مواقع بڑھائیں جائیں۔ اسی طرح ملک میں انٹر پراسئز کی استطاعت اور روزگار کے حوالے سے اہلیت میں اضافہ کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے ان انٹر پراسئز کےلیے امدادی امور یقینی بنانے کیلئے امور وضح کیئے جا رہے ہیں اور ملک میں بڑے پیمانے پر بہتر مستحکم کاروباری ماحول پیدا کرنے کے لیے بڑی انٹر پرائسز کو ایک مربوط پلیٹ فارم سے منسلک کرنا ہوگا،اسی طرح سے اعلی قومی ایدوائزری باڈیز کی جانب سے بھی ملک میں ٹیکنیکل سکلز میں اضافوں کے حوالے سے مختلف پروگرامز شروع کرنے کے حوالے سے بھی لائحہ عمل تخلیق کرنےکے حوالے سے سفارشات کی ہیں تاکہ ملک میں مارکیٹ کی سطع پر طلب و رسد کے مابین توازن پیدا ہو اور بہتر اور نئی ملازمتیں ملک میں پیدا ہوں۔ جیسے جیسے چین کی مینوفیکچرنگ مارکیٹ تیزی سے مڈل اور اعلی سطع کی مارکیٹ میں تبدیل ہو رہی ہے۔ ا س ضمن میں ملک میں سینئر ٹیکنیشینز اور تکنیکی ماہرین کے حوالے سے ملازمتیں تیزی سے پیدا ہو رہی ہیں اس حوالے سے ورکرز کو ٹریننگ اور بہتر سکلز کیساتھ سآنیوالی ملازمتوں کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ ان عوامل کو مدنظر رکھ کر چین میں فزیکل فٹنس کیساتھ ساتھ تکینکی مہارتو ں کے ھامل اعلی ہنر مند ورکرز کی مارکیٹ تیزی سے پیدا ہو رہی ہے۔ اس حوالےسے جنرل سیکرٹری برائے پارٹی برانچ آف مکینکل اسمبلی اینڈ مینٹینس ڈیپارٹمنٹ کے ژیا شاﺅجی نے کہا ہے کہ چین کو بہتر اعلی ہنر مند ورکرز کے متبادل ڈھونڈنا ہونگیں اور بہتر ٹریننگ اور سکلز پروگرام سے ہی ورکنگ فورس کو متبادیل ساہل ورکنگ فورس میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ شانگ نے مزید واضح کیا کہ ایسے ورکرز جو بس ااوقات بیماری یا کسی اور وجہ سے ملازمت چھوڑ دیتے ہیں جن میں ریٹائرمینٹ پہلو بھی نمایاں ہے ایسی ورک فورس کے متبادل اور ایسی ورکنگ فورس جو گھر بیٹھ کر اپنے روزگار کے اسباب یقینی بنا رہی ہے۔ اس حوالے سے ایک بہت بڑی ورکنگ فورس جو سینٹری ورکنگ، وولنٹیرز، کمیونٹی کوریئرز، وہ ایسے عناصر ہیں جنہیں مشکل سے ملازمت حاصل ہوتی ہے اس حوالے سے متعلقہ اداروں کو اس تمام ورکنگ فورس کے حوالے سے سنجیدگی سے سوچنا ہوگا اور انکے بہتر معیارِ زندگی کو با آسانی روزگار کیساتھ بہتر بنانے کے حوالے سے مقامی سطع پر میکنزیم تشکیل دینا ہو گا۔۔

Scroll To Top