چین نے پہلے مریخ ماڈل بیس کا آغازقنگھائی میں کر دیا:۔

(خصوصی رپورٹ):۔ چین نے ملک کے خلائی سائنسدانوں اور نوجوان خلاءبازوں کی مریخ تحقیقات کے حوالے سے پہلے مریخ ماڈل بیس کا آغاز چین میں صوبے قنگھاہی میں کر دیا ہے، تاکہ ملک میں نوجوان خلاءبازوں اور پروفیشنل خلائی سائنسدانوں کو خلائی تحقیقات اورخلائی ریسرچ کے حوالے سے سہولیات یقینی بنائی جا سکیں۔ چین کے خلائی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے مریخ ماڈل بیس کا باقاعدہ افتتاح گزشتہ جمعہ کے روز چین کے جنوب مغربی صوبے قنگھاہی کے علاقے میں منگایا شہر کے قریب جو تبت آزادانہ ریجن اورہیکسی منگولین کے خود مختار علاقے کے گردا کرد واقع ہے وہاں پر قائم ہے، اس حوالے سے ماریخ ماڈل کے پروجیکٹ فاﺅنڈرگاﺅ جنلگ نے کہا ہے کہ اس علاقے کی زمیں قدرتی لینڈ اسکیپ بالکل اسی طرح کا ہے جس طرح سے سرخ سیارے مریخ کا دکھائی دیتا ہے۔ اسی بنیادی وجہ سے اس علاقے کا انتخاب مریخ ماڈل تحقیقات کے لیے کیا گیا ہے۔ اس علاقے کے خدوخال کو واضح کرتے ہوئے گاﺅ نے مزید بتایا کہ یہ علاقے ملک کا ےارڈنگ لینڈ فارم کے حوالے سے سب سے نمایاں اور بڑا خطہ ہے، اور درجہ حرارت کے حوالے سے اس علاقے کے درجہ حرارت میں بہت تنوع ہے اور دن اور رات کے درجہ حرارت کے حوالے سے بھی اس علاقے کے ٹمپریچر میں بہت تفاوت ہے، اور یہ وہ بنیادی عوامل ہیں جو اس علاقے کو مریخ سے مماثل کرتے ہیں۔ گاﺅ نے کہا کہ اس علاقے میں مریخ پر تحقیقات کرنے کے حوالے سے بہت مدد حاصل ہوگی کیونکہ اس علاقے کا لینڈ اسکیپ بہت حد تک سرخ سیارے مریخ سے مشابع ہے اور خلائی تحقیق کار خود کو اس علاقے کے ماحول میں ڈھال کر بعد ازاں با آسانی خود کو مریخ کے ماڈل سے متعلق تحقیقات میں ڈھال سکتے ہیں۔ اوراس علاقے میں کیئے گئے مختلف تجربات بشمول مریخ میں ممکنہ آلو کاشت کرنے اور سولر پاور جنریشن کے حوالے سے اس علاقے میں تحقیق کار بہتر اور موثر انداز میں تحقیقات سر انجام دے سکتے ہیں۔ قنگھائی کا علاقہ جہا ں پر مریخ ماڈل تحقیق کے حوالے سے بیس قائم کی گئی ہے یہ علاقہ53,300مربع میٹر پر مشتمل ہے اور بیس پر ایک کیپسول میں 60لوگ رہائش اختیار کر سکتے ہیں جبکہ مجموعی طور پر اس مریخ ماڈل بیس کیمپ پر سینکڑوں کی تعداد میں سائنسدان اور تحقیق کار مختلف خیموں میں رہائش اختیار کر سکتے ہیں۔ مریخ ماڈل اس بیس کیمپ پر تعمیرات کا آغازجون2018میں 22.3ملین ڈالر کی مالیت سے کیا گیا تھاس۔ اس بیس کیمپ کے حوالے سے پیکنگ یونیورسٹی کے اسپیس سائنس پروفیسر جیاﺅ ویکسن کا کہنا ہے کہ مریخ کو ساس کے یونکیک آب وہوا کے حوالے سے تحقیقات کے لیے بہت مشکل سیارا گردانا جاتا ہے، اور مریخ میں درجہ حرارت کے تفاوت، کم ہوائی پریشرتیز ترین ریڈی ایشن (تابکاری) اور مستقل ریتلے طوفانوں کی وجہ سے شدید ترین موسمی تبدیلیوں کا ھامل سیارہ کہا جاتا ہے، اور انہی تفاوفات کی وجہ سے اس سیارے کو شدید جیوگرافییکل ماحول کے حوالے سے بھی جانا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ چین مریخ پر اپنے پہلے خلائی مشن کا آغاز 2020میں کرنے جا رہا ہے۔ اور اس حوالے سے چین امید کر رہا ہے کہ مریخ پر اپنے پہلے خلائی مشن کے حوالے سے اس کے مدار کا احاطہ کیا جائے اور کچھ وقت کیلئے اس سرخ سیارے پر رہ کر اس کے سطع اور ممکنہ ماحول کے حوالے سے مکمل معلومات حاصل کی جائیں۔ بنی نوع انسان کا ایک لمبے عرصے سے مریخ سیارے کا احاطہ کرنے کا خواب رہا ہے اور بنی نوع انسان کی جانب سے اس سرخ سیارے میں ممکنہ رہائش کے حوالے سے ابھی ایک بہت بڑا سفر طے کرنا باقی ہے۔

Scroll To Top