دو دہائیاں جو ضائع نہیں ہوئیں !

(یہ بحث بڑے عرصے سے جاری ہے کہ آئین پاکستان کے لئے ہونا چاہئے یا پاکستان آئین کے لئے ۔۔۔1973کا آئین اسی بحث کے ساتھ جُڑا ہوا ہے۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی اٹھارہویں ترمیم بھی۔۔۔ آصف علی زرداری کے فرزند بلاول نے دھمکی دی ہے کہ اگر اٹھارہویں ترمیم کو چھیڑا گیا تو وہ لانگ مارچ کریں گے۔۔۔ اس دھمکی نے متذکرہ بالابحث میں ایک نئی جان ڈال دی ہے۔۔۔ میں برملا لکھتا رہا ہوں کہ پاکستان کا سب سے سنگین مسئلہ 1973ءکا آئین ہے جس نے اِس ملک کو اس کی اساس سے دور کررکھا ہے۔۔۔اپنے اس موقف کی وضاحت کے لئے میں نے اپنے ایسے کالمز کا سلسلہ شروع کررکھا ہے جو پہلے بھی شائع ہوچکے ہیں۔ آج کا کالم ملاحظہ فرمائیں۔۔۔ ) (حصہ دوم )
ہم خود اس ” جمہوریت“ سے نجات پر بارگاہ ایزدی میں شکرانے کے سجدے ادا کرتے رہے ہیں جس جمہوریت کو لانے کے لئے ہم بار ہا سڑکوں پر نکلے ہیں۔
ایک نقطہ ءنظر سے دیکھاجائے تو ہم من حیث القوم اس بات پر خود کو قابلِ فخر قرار دے سکتے ہیں کہ جمہوریت کی بحالی کے لئے جس سرفروشی کے ساتھ جدوجہد ہم کرتے رہے ہیں وہ کسی دوسری قوم کے حصے میں نہیں آئی۔ اس روایت کا آغاز 1960ءکی دہائی کے آخر میں ہوا جب قوم ذوالفقار لی بھٹو مرحوم اور جناب اصغر خان کی قیادت میں ” ایوبی آمریت“ کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی۔
میں اس ” سرفروشی “ میں خود کو اور اپنی نسل کو پوری طرح شریک سمجھتا ہوں۔ ” ایوبی آمریت“ کا تختہ الٹنے میں ہم سب نے اپنے اپنے انداز میں حصہ ڈالا۔ اس بات کو تقریباً پینتالیس چھیالیس برس گزر چکے ہیں۔ آج ہمیں اپنے آپ سے یہ ضرور پوچھنا چاہئے کہ ” اس “ ” سرفروشی“ کے نتیجے میں ہمیں اور قوم کو کیا ملا ؟ سقوطِ مشرقی پاکستان اور دو حکمران خاندان!
ایک زیڈ اے بھٹو کا ۔ اور دوسرا میاں نوازشریف کا۔
آج ہم جس جمہوریت کی برکات کا دم بھر رہے ہیں اس کی پوری عمارت ان دو خاندانوں کی طاقت پر کھڑی ہے ۔ یہ حقیقت تلخ ہے یا شریں ` میں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا لیکن حقیقت یہ اس قدر ٹھوس ہے کہ اس سے نظریں نہیں چُرائی جاسکتیں۔
مجھے اس ضمن میں مرحوم نصرت بھٹو کا یہ مشہور جملہ یاد آرہا ہے کہ ” بھٹو صرف حکومت کرنے کے لئے پیدا ہوتے ہیں۔“ شاید یہی وجہ ہے کہ زرداری خاندان کے چشم و چراغ جناب بلاول نے بھی بھٹو کا نام اپنی وارثت سے الگ ہونے نہیں دیا۔
غالب امکان اس بات کا ہے کہ اگر یہی جمہوریت قائم رہی تو آنے والے ادوار میں شریف خاندان کے بزرگ بھی یہی کہا کریں گے ” ہر شریف حکومت کرنے کے لئے پیدا ہوتا ہے۔“
یہاں مقصود ان خدمات کی قدر و قیمت کو گھٹانا نہیں جو اِن ناموں کے حامل اصحاب نے ملکی تاریخ میں انجام دی ہیں۔ مقصود صرف اس بات پر زور دینا ہے کہ ہمارے ملک میں جمہوریت چند خاندانوں کی حاکمیت سے آگے نہیں بڑھ سکی اور عوام کی حاکمیت کا جو تصور جمہوریت کے ساتھ وابستہ ہے وہ ہماری تاریخ کے کسی بھی برس میں حقیقت کا روپ دھار نہیں سکا۔ عوام یہاں پر ہر دور میں محکوم رہے ہیں ” جمہوری “ ادوار میں حکومت ان کے نام پر کی گئی ہے ` ان کے لئے نہیں۔ آمرانہ ادوار میں البتہ ایسا ضرور ہوا ہے کہ مطلق العنان حکمرانوں نے حکومت کسی نہ کسی حد تک اُن یعنی عوام کے لئے بھی کی ہے۔ ایوب خان مرحوم اور ضیاءالحق مرحوم کے ادوار کو میں اسی خانے میں رکھتا ہوں ۔ ڈھائی دہائیاں قبل تک میں ان دونوںجنرلز کے ادوار کو بھی ضائع شدہ دہائیوں کے زمرے میں شمار کرتا تھا مگر جو ” کارہائے نمایاں“ میں نے حالیہ جمہوریتوں میں تاریخ کا حصہ بنتے دیکھے ہیں ان کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچنے پر مجبور ہوگیا ہوں کہ فیلڈ مارشل ایوب خان اور جنرل ضیاءالحق کی دہائیاں درحقیقت ضائع نہیں ہوئی تھیں۔
ایوب خان کے دور میں پاکستان صنعتی اور تجارتی ترقی کی راہ پر گامزن ہوا۔ قومی معیشت کو جو فروغ ملا اس پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالنا یہاں ممکن نہیں لیکن تربیلا اور منگلا کے نام لے لینا ہی میرے خیال میں کافی ہے۔ ہماری تاریخ کی یہ حقیقت کس قدر ستم ظریف اور المناک ہے کہ دورِ ایوب کے بعد پاکستان میں کوئی ڈیم تعمیر نہ کیا جاسکا۔ اگر اُن پانیوں کی قیمت کا تخمینہ لگایا جائے جو گزشتہ نصف صدی کے دوران سمندر میں گر کریا سیلابوں کی صورت میں ضائع ہوا ہے تو اعداد و شمار کئی ہزار کھرب تک جا پہنچیں گے۔ مجھے یاد ہے کہ ایوبی دور میں ٹائم مگزین میں ڈیڑھ روپے میں خریدا کرتا تھا جب کہ بھارت میں اس کی قیمت ساڑھے چار روپے تھی!۔جہاں تک دورِ ضیاءکا تعلق ہے اگر اس بارے میں یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ اسے تاریخ کی سب سے زیادہ نفرت انگیز ` متعصبانہ ` جانب دارانہ اور غیر منصفانہ ` پروپیگنڈہ مہم “ کا نشانہ بننا پڑا ہے۔
یہ درست ہےکہ جنرل ضیاءالحق نے اقتدار بھٹو مرحوم سے غیر آئینی طور پر چھینا تھا ۔ یہ بھی درست ہے کہ بھٹو مرحوم کو پھانسی قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہیں دی گئی تھی اور جس لمحے جنرل ضیاءالحق نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ اقتدار کسی کو سونپنے کے لئے نہیں آئے اُسی لمحے انہوں نے یہ فیصلہ بھی کرلیا تھا کہ اگر بھٹو کی تلوار اُن کے سر پر لٹکتی رہی تو اُن کی گردن کسی بھی وقت اس تلوار کی زد میں آسکتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں بھٹو کو راستے سے ہٹانے کا فیصلہ جنرل ضیاءعدالتی کارروائی کے آغاز سے پہلے ہی کرچکے تھے۔ یقینی طور پر یہ فیصلہ تمام ایسی اقدار کی نفی کرتا تھا جن پر اخلاقیات اور انصاف کی عمارت کھڑی کی جاتی ہے لیکن تاریخ شاہد ہے کہ اقتدار کی جنگ یا کشمکش میں ایسے جرائم اکثر ہوتے رہے ہیں۔ کیا خود زیڈ اے بھٹو پر اقتدار کی خاطر مشرقی پاکستان کی قربانی دینے کا الزام نہیں لگتا۔؟ میں یہاں مثال حجاج بن یوسف کی بھی دوں گاجن کے دور میں سندھ فتح ہوا اور جنہیں بے شمار لوگ عقیدت اور تحسین کی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ لیکن کیا وہ حجاج بن یوسف ہی نہیں تھے جن کی سالاری میں مکہ پر حملہ ہوا تھا اور حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ خانہ خدا میں شہید کئے گئے تھے۔؟
اگر انسانوں کو انسان ہی سمجھیں اور انہیں نہ تو فرشتہ بنائیں اور نہ ہی شیطان ` تو ہم حقیقت بینی میں ایسی کوتاہیاں کرنے سے بچ سکتے ہیں جو ہمیں کبھی بینائی سے اور کبھی سماعت سے محروم کردیتی ہیں۔
میں خود جنرل ضیاءالحق کو کئی برس تک معاف نہیں کرسکا لیکن جو کچھ میں نے 1990ءاور 2000ءکی دہائیوں میں دیکھا ہے اور جواب زیادہ شدت کے ساتھ دیکھ رہا ہوں اس نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ ہم جنرل ضیا الحق کی شخصیت کا وہ پہلو بھی سامنے لائیں جس کی وجہ سے وہ بجا طور پر آنے والے ادوار میں ایک ایسے مسلمان حکمران کے طور پر پہچانے جائیں گے جنہوں نے پاکستان کی نظریاتی اساس کو طاغوتی طاقتوں کی بھرپور یلغار سے بچایا۔
جس افغان جہا د کا نام لے کر جنرل ضیاءالحق کو کلاشنکوف کلچر کے فروغ کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے ` اسی افغان جہاں کے نتائج پاکستان کو آنے والے ادوار میں سربلند اور سرفراز کریں گے ۔ آج اگر وسطی ایشیاءکے مسلمان آزادفضاﺅں میں سانسیںلے رہے ہیں تو اس کا کریڈٹ جنرل ضیاءالحق کو ہی جاتا ہے۔
جنرل ضیا ءالحق کے دور میں ڈالر کی قیمت سترہ روپے تھی۔ پٹرول ساڑھے چار روپے فی لیٹر تھا۔ اور پاکستان حقیقی معنوں میں ایٹمی طاقت اسی دور میں بنا۔
اس کالم میں بہت ساری تفصیلات میں جانا میرے لئے ممکن نہیں۔ لیکن وقت آگیا ہے کہ ہم 1980ءکی دہائی کو Revisitکریں۔ اس دہائی میں جاکر دیکھیں کہ کیا برا ہوا اور کیا چھا ہوا۔ ہمیں اس سوال کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا کہ امریکہ نے جنرل ضیاءالحق کو راستے سے کیوں ہٹایا۔
ٓآخر میں یہاں یہ کہوں گا کہ پاکستان جمہوریت کے لئے قائم نہیں ہوا تھا۔ یہ ضرور ہے کہ جمہوریت کو ان مقاصد کے حصول کا ذریعہ بنایا جاسکتا تھا جن کے لئے پاکستان کا قیام عمل میں آیا تھا ۔ لیکن ایسا آج تک نہیں ہوسکا۔ جمہوریت نے کوئی ایسی دہائی نہیں دی جس کے بارے میں کہا جاسکے کہ وہ ضائع نہیں ہوئی۔
اختتام میں اس بات پر کرنا چاہتا ہوں کہ اگر جنرل ضیاءالحق کا عہد نہ آتا تو آج بے لباسی کو سب سے جاذبِ نظر لباس سمجھا جاتا اس کے لئے ٹی وی سکرین کاجائزہ لینا ہی کافی ہے۔

Scroll To Top