عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کا نوٹس لے، عمران خان

  • جرمنی کے ساتھ تعلقات کو بہت اہمیت دیتے ہیں ، جرمنی تعلیم اور صحت کے میدان میں بھی ہمیں ٹیکنیکل تعاون فراہم کرے، وزیر اعظم عمران خان کی جرمن وزیر خارجہ ہیکوماس سے ملاقات کا اعلامیہ
  • پاکستان اور بھارت مسئلہ کشمیرکے حل کیلئے مذاکرات کریں، جرمن وزیر خارجہ ، مسئلہ کشمیر پربھارتی قیادت کے ساتھ مذاکرات کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی

اسلام آباد ( آن لائن+صباح نیوز ) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان نے جرمنی کے ساتھ تعلقات کو ہمیشہ بہت اہمیت دی ہے۔ جرمنی کے معاملے پر ہمارے اہم شراکت دار ہے جرمنی تعلیم اور صحت کے میدان میں بھی ہمیں ٹیکنیکل تعاون فراہم کرے۔ وزیراعظم عمران خان کی جرمن وزیر خارجہ سے ملاقات کا اعلامیہ جاری کردیا گیا اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان جرمنی کے ساتھ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے وزیراعظم نے جرمن قیادت کی بہت تعریف کی عمران خان نے کہا کہ پاکستان نے جرمنی کے ساتھ تعلقات کو ہمیشہ بہت  اہمیت دی ہے پاکستان اور جرمنی کے تعلقات مشترکہ جمہوری ادارمیں جڑے ہیں عمران خان نے امیگریشن بحران سے نمٹنے پر جرمن چانسلر انجیلا مرکل کی تعریف کی اور کہاکہ بھارت اور افغانستان کی علاقائی صورتحال میں جرمن کا کردار قابل تعریف رہا۔ وزیراعظم نے ملاقات کے دوران مسئلہ کشمیر کو بھی اٹھایا اور کہا کہ عالمی برادری کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم کا نوٹس لے‘ اعلامیے کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور جرمنی کے مابین سرمایہ کاری پر بھی بات چیت ہوئی۔ وزیراعظم نے توانائی اور آٹو موبائل سیکٹر میں جرمن سرمایہ کاری کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ جرمنی ترقی کے معاملے میں ہمارا اہم شراکت دار ہے جرمنی تعلیم اور صحت کے میدان میں ٹیکنیکل تعاون فراہم کرے۔ جرمن وزیر خارجہ نے جرمن چانسلر انجیلا مرکل کی جانب سے عمران خان کو جرمنی دورے کی دعوت دی ۔ انہوں نے پاک بھارت کشیدگی میں کمی لانے کیلئے پاکستان کے اقدامات اور وزیراعظم عمران کے ذمہ دارانہ رویے کی تعریف کی۔۔۔ دریں اثناءوزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے اور پاکستان اس کے خلاف سیاسی اور عسکری اقدامات اٹھائے ہیں، پاکستان کو مقبوضہ کشمیر اور بھارتی قیادت کے ساتھ مذاکرات کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے جبکہ جرمنی نے پاک بھارت کشیدگی کے خاتمے کےلئے دونوں ممالک کے درمیان مسئلہ کشمیر پر مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔اسلام آباد میں جرمن ہم منصب کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان میں قیام امن کیلئے ہر ممکن کوشش کررہا ہے اور ہم افغان امن مذاکرات میں پیش رفت پر مطمئن ہیں۔پاکستانی وزیرخارجہ نے کہا کہ افغانستان میں قیام امن کیلئے مذاکرات ہی واحد راستہ ہے، اس میں اہم کردار طالبان اور افغان حکومت کا ہے جنہوں نے مستقبل میں ہمیشہ ساتھ رہنا ہے، دیرپا امن کیلئے افغانوں میں بات چیت ہونا ضروری ہے۔شاہ محمود نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انتہائی ابترصورتحال ہے، پاکستان کو مقبوضہ کشمیر اور بھارتی قیادت کے ساتھ مذاکرات کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے، خطے میں دہشتگردی کے خاتمے کیلئے مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے۔جرمن وزیرخارجہ ہائیکو ماس نے پریس کانفرنس میں کہا کہ افغانستان میں امن کیلئے پاکستان کا کردار اہم ہے اور ہر ممکن سہولت فراہم کررہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جرمنی پاک بھارت کشیدگی میں کمی چاہتا ہے، مسئلہ کشمیر کے حل اور کشیدگی میں کمی کیلئے مذاکرات ہونے چاہیں۔ پاکستان میں سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع ہیں ہم تجارت سمیت تمام شعبوں تعلقات بڑھائیں گے۔قبل ازیں جرمنی کے وزیرخارجہ ہائیکو ماس نے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی ہے۔ملاقات میں دو طرفہ تعلقات، خطے میں امن و امان کی صورتحال اور افغانستان میں قیام امن سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پلوامہ واقعہ کے بعد ہندوستان کی طرف سے دراندازی اور اس کے نتیجے میں خطے میں امن و امان کی کشیدہ صورتحال سے آگاہ کیا۔شاہ محمود نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے یہی وجہ ہے کہ بھارتی جارحیت کے باوجود وزیر اعظم عمران خان نے جذبہ خیر سگالی کے تحت بھارتی پائلٹ کو انڈیا کے حوالے کیا۔جرمن وزیر خارجہ کی طرف سے دونوں ممالک کو اپنے معاملات بذریعہ مذاکرات حل کرنے پر زور دیا گیا۔ ہائیکو ماس کا کہنا تھا کہ ہم افغانستان میں قیام امن کے لئے پاکستان کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔دونوں وزرائے خارجہ نے دوطرفہ تجارتی، اقتصادی اور ثقافتی تعاون اور سرمایہ کاری میں فروغ پراتفاق بھی کیا۔جرمنی کے وزیرخارجہ نے گزشتہ اتوار افغانستان کا دورہ بھی کیا تھا۔دورہ افغانستان کے دوران جرمن وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ نیٹو کا دوسرا بڑا اتحادی ہونے کے ناطے جرمنی پر جو ذمہ داری بنتی ہے ہم اسے نبھانے میں سنجیدہ ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم افغان مسئلے کے پر امن حل اور معاشی ترقی کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے۔ جرمنی نے افغانستان میں قیام امن کیلئے طالبان کی موجودگی میں امن کانفرنس کرانے کی پیش کش بھی کی تھی۔

Scroll To Top