خطے کے پائیدار امن کیلئے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے،تہمینہ جنجوعہ

  • برابری، باہمی مفادات کا تحفظ اور دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کی استواری شنگھائی تعاون تنظیم کی پہچان ہے،پرفیسر سن ژونگ ژی
  • تنظیم پاک ، بھارت کشیدگی میں کمی بارے نمایاں کردار ادا کر سکتی ہے، نعیم خالد لودھی، ایس سی او باہمی اعتماد سازی اور اقتصادی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے،خالد امیر جعفری

اسلا م آباد(ریاض ملک )سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے کہا ہے کہ خطے کے امن کے لیے مسئلہ کشمیرکا حل ناگزیر ہے، پلواما اوراس کے بعد رونما ہونے والے واقعات میں پاکستان نے ذمہ داری کامظاہرہ کیا۔ سنٹر فار گلوبل اینڈ سٹرٹیجک اسٹڈیز کے زیر اہتمام مستقبل کے امکانات اور علاقائی روابط کے بارے میں شنگھائی تعاون تنظیم(ایس سی او) عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کرتار پور راہداری، سمجھوتہ ایکسپریس، ہائی کمشنر کی واپسی ہمارے امن اقدامات ہیں۔سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ پاکستان پی فائیو اوردوست ممالک کے ساتھ رابطے میں رہا، پاک بھارت کشیدگی میں کمی لانے پر عالمی (باقی صفحہ7 بقیہ نمبر12
برادری کے شکر گزار ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغانوں کے درمیان مذاکرات سے ہی دیرپا امن قائم ہو گا، انہیں اپنے مستقبل کا تعین خود کرنا ہے، افغان امن مذاکراتی عمل میں پاکستان کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔تہمینہ جنجوعہ نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مذاکرات سے مسئلہ کشمیر کا حل چاہتا ہے، خطے کے امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیرہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم نے عزم، تحمل اور ذمہ داری کے ساتھ بھارت کو جواب دیا،امن اور استحکام سے ہی خطے کی ترقی اورخوشحالی ممکن ہے،پاکستان امن کا داعی ہے، چین سے تشریف لائے ہوئے پروفیسر سن ژونگ ژی نے اس امر پر زور دیا کہ شنگھائی تعاون آرگنائزیشن کو بین الاقوامی سطح پر ایک نئی علاقائی تنظیم کے طو ر پر متعارف کروانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او کی پہچان ممبر ممالک میں برابری، باہمی مفادات کا تحفظ اور دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کی استواری ہے ،روس سے آئے ہوئے مندوب ڈاکٹر لیونڈگوسف نے کہا کہ ایس سی او وسط ایشیائی ریاستوں کے سیاسی استحکام میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ سید حسن جاوید نے ایس سی او کے تھنک ٹینک کے قیام پر زور دیتے ہوئے تجارتی معاہدوں اور ویزوں کے آسان حصول بارے گفتگو کی۔ ازبکستان سے تعلق رکھنے والے مندوب بختیار مصطفی یوف نے ازبکستان، تاجکستان اور کرغزستان کے مابین آپسی مسائل کے حل کے لئے کئے گئے معاہدوں کا ذکر کیا اور کہا کہ مسائل کے حل کیلئے علاقائی اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ باہمی تعاون کے اہداف کا تعین ضروری ہے۔ قزاقستان کے سفیر بارلی بے صدیقوف نے ایس سی او ممالک کے مابین باہمی تجارت کے فروغ پر زور دیا ۔کرغزستان سے تعلق رکھنے والے مندوب نے ایس سی او ممالک کے مابین ثقافتی تعلقات کے فروغ کی اہمیت اجاگر کی۔ ظہور احمد ایڈیشنل سیکرٹری نے کہا کہ ایس سی او ممبران کے مابین تعلقات کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے اور یہ کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ کے تجربے سے اس فورم پر اپنا حصہ ڈال سکتا ہے۔ بیلاروس سے تعلق رکھنے والے مندوب پروفیسر ایلینادوستناکو نے کہا کہ ایس سی او کا ایک اہم ہدف باہمی تعلقات کا فروغ ہے اور یہ کہ سی پی ای سی ، بی آر آئی وغیرہ خطے کے استحکام میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ایران سے تعلق رکھنے والے سینئر ریسرچ سکالر سید ماجد غافل باشی نے کہا کہ ایران سی پیک کی اہمیت سے پوری طرح سے آگاہ ہے اور یہ کہ ایسے میگا پراجیکٹس ایس سی او ممالک کے اتحاد کی مضبوطی کا باعث ہیں۔ سابق وفاقی وزیر دفاع لیفٹیننٹ جنرل(ر) نعیم خالد لودھی نے کہا کہ ایس سی او امریکہ اور طالبان کے مابین مذاکرات میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے اور یہ کہ پاک ، بھارت کشیدگی میں کمی میں بھی نمایاں کردار ادا کر سکتی ہے۔کانفرنس کا آغاز سنٹر فار گلوبل اینڈسٹریٹجک اسٹڈیز کے صدر میجر جنرل(ر) خالد امیر جعفری کے خطاب سے ہوا انہوں نے کہا کہ ایس سی او خطے کے امن، ممبر ممالک میں باہمی اعتماد سازی اور اقتصادی ترقی بارے کلیدی کردار ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

Scroll To Top