باپ بیٹے میں بیان بازی کا مقابلہ 10-10-2014

عید کی چھٹیاں باپ نے دھواں داربیانات دیتے اور اپنی پارٹی کی مردہ رگوں میں نئی زندگی کی لہر دوڑانے کی کوششوں میں گزارے ہیں۔
بلاول زرداری نے تو پورا زور یہ ثابت کرنے پر لگادیا ہے کہ وہ درحقیقت ” بھٹو“ ہیں۔انہیں کسی نے بتا دیا ہے کہ مرحوم ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی قائدانہ حیثیت کا لوہا منوانے کی مہم کا آغاز بھارت کے ساتھ ایک ہزار سال تک جنگ لڑنے کے عزم کا اظہار کرکے کیا تھا۔ چنانچہ بلاول بھٹو نے گزشتہ دنوں نعرہ لگا دیا کہ ” مرسوں مرسوں کشمیر نہ ڈیسوں“ (مرجائیں گے مگر کشمیر نہیں دیں گے)۔ اس بیان پر پی پی پی کی پروپیگنڈہ مشینری یہ ثابت کرنے پر لگ گئی کہ بھارت کے ایوان اِس نئے بھٹو کی للکار پر لرز اٹھے ہیں۔
بلاول زرداری کو ” للکارنے “ میں مزہ آنے لگا ہے چنانچہ عید کے دنوں کے دوران انہوں نے پاکستان کے دیگر تمام لیڈروں کو بھی للکار ڈالا ہے۔ عمران خان سے انہوں نے یہ کہا ہے کہ ” اگر ہمیں کرکٹ سیکھنی پڑی تو تمہارے پاس آئیں گے۔ تمہیں سیاست سیکھنی ہے توہمارے پاس آﺅ۔“ الطاف حسین سے انہوں نے یہ کہا ہے کہ ”اپنے نامعلوم افراد “ کو لگام ڈالو ورنہ میں تمہارا وہ حشر کروں گا جو برطانوی پولیس نہیں کرسکی۔میاں نوازشریف کو انہوں نے یہ پیغام دیا ہے کہ ” جمہوریت کے لئے تم نے کیا ِکیا ہے ؟ سعودی عرب چلے جانے کے علاوہ۔ تم نے تو بلی کے بچے تک کی قربانی نہیں دی۔ ہمیں دیکھو کہ قربانیوں کی ایک داستان رقم کرتے چلے جارہے ہیں!“
اپنی ” للکار“ کے لئے بلاول نے سلطان راہی کا ماڈل منتخب کیاہے۔ حالانکہ میری رائے میں انہیں مصطفی قریشی کو ترجیح دینی چاہئے تھی۔ سلطان راہی کے گلے کی رگیں بڑی طاقتور تھیں۔ بلاول جب چیختے ہیں تو دیکھنے والوں کو یہ پریشانی ہوجاتی ہے کہ کہیں رگیں ہی نہ پھٹ جائیں۔
جناب آصف علی زرداری بھی بیان بازی میں پیچھے نہیں رہے۔ عمران خان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے یہ فرمایا کہ ہسپتال بنانے سے آدمی لیڈر نہیں بن جاتا۔ اچھا ہوتا کہ وہ بات مکمل کردیتے اور لیڈر بننے کا وہ نسخہ سامنے لے ہی آتے جو وہ ربع صدی سے استعمال کررہے ہیں۔ اس نسخے کا سلوگن سیدھا سا ہے۔ ” مال کماﺅ اور باہر لے جاﺅ۔“
تازہ ترین بیان زرداری صاحب نے یہ دیا ہے کہ میرے سینے میں اتنے راز دفن ہیں کہ اگر سامنے لاﺅں تو لوگوں کی نیندیں حرام ہوجائیں۔ ایسا ضرور ہوگا۔ اور کوئی راز وہ سامنے لائیں یا نہ لائیں دنیا کو یہ ضرور بتادیں کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کو راستے سے کس نے ہٹایا۔۔۔؟

Scroll To Top