دودہائیاں جو ضائع نہیں ہوئیں !

(یہ بحث بڑے عرصے سے جاری ہے کہ آئین پاکستان کے لئے ہونا چاہئے یا پاکستان آئین کے لئے ۔۔۔1973کا آئین اسی بحث کے ساتھ جُڑا ہوا ہے۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی اٹھارہویں ترمیم بھی۔۔۔ آصف علی زرداری کے فرزند بلاول نے دھمکی دی ہے کہ اگر اٹھارہویں ترمیم کو چھیڑا گیا تو وہ لانگ مارچ کریں گے۔۔۔ اس دھمکی نے متذکرہ بالابحث میں ایک نئی جان ڈال دی ہے۔۔۔ میں برملا لکھتا رہا ہوں کہ پاکستان کا سب سے سنگین مسئلہ 1973ءکا آئین ہے جس نے اِس ملک کو اس کی اساس سے دور کررکھا ہے۔۔۔اپنے اس موقف کی وضاحت کے لئے میں نے اپنے ایسے کالمز کا سلسلہ شروع کررکھا ہے جو پہلے بھی شائع ہوچکے ہیں۔ آج کا کالم ملاحظہ فرمائیں۔۔۔ )

(حصہ اول )

گمشدہ دہائیاں !یہ میری ایک انگریزی تصنیف کا عنوان ہے ۔ اس تصنیف میں زیادہ ذکر 1960ءاور1970ءکی دہائیوں کا ہے مگر احاطہ میں نے وطنِ عزیز کی تاریخ کی ان تمام دہائیوں کا کیا ہے جنہیں میں نے خود چشم شعور سے دیکھا اور جن کے دوران پیش آنے والے واقعات نے قائداعظم ؒ کے قائم کردہ پاکستان کو آج اس مقام پر کھڑا کیا ہے جس مقام پر اس کے عوام اور حکمرانوں کو اس کے مستقبل کے خدوخال نہایت غیر واضح اور مدہم نظر آرہے ہیں۔
کیا پاکستان کی ہر دہائی کو ہم ایک گمشدہ دہائی قرار دینے میں حق بجانب ہوں گے ۔؟ کیا ہماری تاریخ کی کسی بھی دہائی میں کوئی کام ایسا نہیں ہوا یا کوئی کارنامہ ایسا سامنے نہیں آیا جس کی بناءپر ہم اُس دہائی کو اپنی گمشدہ دہائیوں سے خارج کرسکیں۔؟ یہ بڑا اہم سوال ہے مگر اس کا جواب تلاش کرنے سے پہلے میں یہ کہنا چاہوں گا کہ شاید” گمشدہ دہائیاں“ The Lost Decadesکا صحیح ترجمہ نہیں ۔ شاید میں کہنا یہ چاہتا ہوں کہ وہ تمام دہائیاں ” ضائع شدہ “ تھیں جن سے گزر کر ہم سب یعنی میں او ر میری نسل کے لوگ یہاں تک پہنچے ہیں۔ گمشدہ اور ضائع شدہ کے درمیان جو فرق ہے اسے نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔موقع کھونا یا ضائع کرنا اور موقع کا گم ہوجانا دو الگ الگ باتیں ہیں۔ موقع نادانستہ طور پر بھی ہمارے ہاتھوں سے نکل کر ماضی کے دھند لکوں میں گم ہوجاتا ہے۔ مگر موقع کھونے کا عمل دانستہ ہوتا ہے۔ موقع پر ہم ” دانستہ “ طور پر حالتِ شعور میں ضائع کرتے ہیں چنانچہ آگے چل کر میں بات ” ضائع شدہ“ دہائیوں کی کروں گا۔ ان دہائیوں کی جو ہم نے خود حالتِ شعور میں ضائع کیں۔ یہاں اس سوال کا جواب بھی دیا جانا چاہئے جو میں نے اوپر اٹھایا ہے۔ کیا کوئی دہائی ایسی بھی تھی جو ضائع نہیں ہوئی یا جو ضائع نہیں کی گئی؟
میرے ذہن میں ایسی دو دہائیاں آتی ہیں۔
ایک تو1960ءکی دہائی جس کا بیشتر حصہ ملک و قوم نے فیلڈ مارشل ایوب خان کی حکومت اور قیادت میں گزارا۔ اور دوسری دہائی1980ءکی تھی جس کا بیشتر حصہ جنرل ضیاءالحق کے نام کے ساتھ منسوب ہوتاہے۔
بہت سارے لوگ میری اس بات پر چونکیں گے۔ اکثر شاید مجھ پر ” آمریت پسندی“ کا الزام بھی لگائیں ۔ کوئی شک نہیں کہ متذکرہ بالا دونوں حکمران مطلق العنان تھے اور دونوں کے ادوار میں دونوں کی ” منشا“ کو قانون اور آئین کا درجہ حاصل تھا۔ اگر یہ باتیں میں ربع صدی قبل لکھ رہا ہوتا تو خود میں بھی اپنے آپ پر آمرانہ نظام کی حمایت کرنے کا الزام لگاتا اور یہ بات سمجھ میں آنے والی بھی ہے۔
جمہور اور سلطانی ءجمہور کا تصور اس قدر دلکش اور روح پرور ہے کہ آئیڈیلزم کی کوکھ سے پیدا ہونے اور اعلیٰ وارفع انسانی قدروں کی گود میں پروان چڑھنے والا کوئی بھی شخص اس تصور کے سحر میں گرفتار ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ خاص طور پر ہم لوگ جو اپنے قلم کو اپنا سرمایہ اور اس قلم سے نکلنے والی سوچ کو تہذیب و تمدن کا سرچشمہ سمجھتے ہیں ` ہم لوگ اُس پہرے یا ہر اُس پابندی کے خلاف صف آراءہونے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں جو کوئی نظام یا کوئی حکمران ہماری ” آزادیوں “ پر لگاتا ہے۔
” جمہوریت “ کے ساتھ ہمارا رومانس نیا نہیں ۔ جمہوریت کی بحالی اور جمہوریت کی سربلندی کے لئے یہ قوم متعدد مرتبہ سڑکوں پر آچکی ہے` اور ایسی قوتوں کے ساتھ برسرپیکار رہی ہے جو اس کی نظر میں جمہوریت پرشب خون مارنے کے سنگین جرم کی مرتکب ہوئی تھیں۔
میں اس موضوع کی تفصیلات میں جانا نہیں چاہتا مگر یہ سوال یہاں ضرور اٹھاﺅں گا کہ ” کیا ہم اپنی تاریخ کے کسی بھی دور میں ` اور کسی بھی جدوجہد کے نتیجے میں ایسا نظام لانے یا بحال کرنے میں کامیاب ہوئے جسے حقیقی معنوں میں جمہوریت یعنی ” سلطانی ءجمہور“ کہاجاسکتا ہو۔؟“
اس سوال کے دیانت دارانہ جواب کے لئے الفاظ تلاش کرنا ضروری نہیں ۔ جو ” جمہوری“ حکومتیں ہم اب تک دیکھ یا بھگت چکے ہیں انہیں ذہن میں لے آ نا ہی کافی ہے۔
اپنی ملکی تاریخ سے ضروری واقفیت رکھنے والے لوگ اس حقیقت سے انکار نہیں کریں گے کہ ہماری قومی زندگی دو متضاد اور متصادم ” اہداف “ کاتعاقب کرنے میں گزری ہے ۔ جب ملک پر مطلق العنانی اور آمریت قائم ہوا کرتی تھی تو ہم جمہوریت کی بحالی کا پرچم اٹھا کر سڑکوں پر نکل آیا کرتے تھے ` اور جب بھی ہمارے منتخب نمائندوں کی مرضی کی حکومت قائم ہوتی تھی تو ہم مہنگائی ` لاقانونیت اور کرپشن کے خونی پنجوں سے نکلنے کے لئے کسی نہ کسی نجات دہندہ کو پکارنے لگتے تھے۔
ہم خود کو کس قدر ہی جمہوریت پرست کیوں نہ سمجھیں یہ سچ ہم اپنی تاریخ سے کیسے حذف کرسکتے ہیں کہ آنے والے ہر ڈاکٹیٹر کا استقبال ہم نے مٹھائیاں بانٹ کر کیا۔؟
(جاری ہے)

Scroll To Top