کاش کہ ایسے ہی دو چار دن میاں صاحب اور زرداری صاحب کے مقدر میں بھی لکھے جائیں ! 04-10-2014

 

فریضہ ءحج ادا کئے مجھے پورے پندرہ برس ہوچکے۔ جس سال مجھے اپنی فیملی سمیت حج کرنے کی سعادت نصیب ہوئی وہ بھی حج اکبر تھا۔ یعنی وہ حج بھی جمعہ کے مبارک دن ہوا تھا۔ کسی زمانے میں روایت ہوا کرتی تھی کہ ایک دن میں دو خطبے حکمران پر بھاری ہوا کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اکثرحکمران جمعہ کے روز نہ تو حج ہونے دیا کرتے تھے اور نہ ہی عید۔ اب وہ صورتحال نہیں۔ کئی حج جمعہ کے روز ہوئے اور حکمرانوں پر کوئی مصیبت نازل نہ ہوئی۔ یوں بھی جس خدائے واحد کو ہم مانتے ہیں وہ اس قسم کے ڈھکو سلوں اور توہمات کا پابند نہیں۔
آج صبح جب میں اٹھا تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا پیغام اپنے فون پر دیکھا۔ وہ اپنے دوستوں کو ایک اچھا سا پیغام ہر روز بھیجا کرتے ہیں۔ آج کا پیغام حضرت علی ؓ کے ایک قول پر مبنی تھا۔
” میں جب اللہ تعالیٰ سے کوئی دعا کرتا ہوں اور وہ قبول ہوجاتی ہے تو میں خوش ہوتاہوں۔ اگر قبول نہ ہو تو میں زیادہ خوش ہوتا ہوں۔ کیوں کہ دعا قبول ہو تو وہ میری رضا ہے۔ اگر قبول نہ ہو تو وہ اللہ کی رضا ہے۔ اور میں اللہ کی رضا میں زیادہ خوش ہوتا ہوں۔“
اگر اس کیفیت کو ایمان کی معراج سمجھا جائے تو نا درست نہیں ہوگا۔ عام طور پر لوگ اپنی دعائیں قبول نہ ہو نے پر شاکی یا رنجیدہ ہوجایا کرتے ہیں۔ گویا انہیں اللہ کی رضا سے زیادہ اپنی رضا عزیز ہوتی ہے۔
بات میں اپنے حج کی کررہا تھا۔
یہ مارچ 1999ءکے آخری ہفتے کا ذکر ہے۔
منیٰ میں قیام کے پہلے روز کی ایک بات مجھے آج بھی یاد ہے اور ہمیشہ یاد رہے گی۔
حج میں میرے ساتھ میری اہلیہ اور بیٹی کے علاوہ میرے دو کزنز کی فیملیز بھی تھیں۔ تنویر احمد میکسم گروپ کے سربراہ ہیں ۔ میرے خالہ زاد بھائی ہونے کے ساتھ ساتھ برادر نسبتی بھی ہیں۔ کئی برس انہوں نے میرے ساتھ میری کمپنی میڈاس میں گزارے۔ پھر اپنا کام شروع کیا اور ترقی کرتے کرتے طبقہ امراءمیں چلے گئے۔ دنیا کی کوئی سہولت ایسی نہیں جو انہوں نے حاصل نہیںکی۔
آپ جانتے ہیں کہ منیٰ میں ناہموار زمین پر بس اتنا ٹکڑا آرام کے لئے ملتا ہے جو آدمی کو سمونے کے لئے کافی ہو۔ کچھ لوگ وی آئی پی حج بھی کرتے ہیں جس کے بارے میں میں نہیں جانتا۔
بات میں تنویر احمد کی کررہا تھا۔ وہ میرے قریب ہی اپنے حصے کے ” بستر “ پر لیٹ گئے۔ بار بار پہلو بدلتے رہے۔ پھر اٹھ بیٹھے اور مجھ سے کہا۔
” بھائی جان اللہ تعالیٰ نے آدمی کو اپنی اوقات بتانے اور اوقات میں لانے کا یہ اچھا طریقہ بنایا ہے۔“
” دو چار دن کی بات ہے میرے بھائی ۔ برداشت کرلو۔“ میں نے مسکرا کر جواب دیا تھا۔
میں آج سوچ رہا ہوں کہ کاش ایسے ہی دو چار دن میاں نوازشریف اور جناصف آصف علی زرداری کے مقدر کا حصہ بھی بنیں۔!

Scroll To Top