محمدیﷺ انقلاب کی شرطِ اول

 

)یہ بحث بڑے عرصے سے جاری ہے کہ آئین پاکستان کے لئے ہونا چاہئے یا پاکستان آئین کے لئے ۔۔۔1973کا آئین اسی بحث کے ساتھ جُڑا ہوا ہے۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی اٹھارہویں ترمیم بھی۔۔۔ آصف علی زرداری کے فرزند بلاول نے دھمکی دی ہے کہ اگر اٹھارہویں ترمیم کو چھیڑا گیا تو وہ لانگ مارچ کریں گے۔۔۔ اس دھمکی نے متذکرہ بالابحث میں ایک نئی جان ڈال دی ہے۔۔۔ میں برملا لکھتا رہا ہوں کہ پاکستان کا سب سے سنگین مسئلہ 1973ءکا آئین ہے جس نے اِس ملک کو اس کی اساس سے دور کررکھا ہے۔۔۔اپنے اس موقف کی وضاحت کے لئے میں نے اپنے ایسے کالمز کا سلسلہ شروع کررکھا ہے جو پہلے بھی شائع ہوچکے ہیں۔ آج کا کالم ملاحظہ فرمائیں۔۔۔ ( )حصہ دوم (
اگر اقتدار جناب عمران خان کومل جاتا ہے تو کیا وہ اس تبدیلی کے خواب میں حقیقت کا رنگ بھر سکیں گے جس کا ذکر وہ کئی برس سے کررہے ہیں ؟
یہ وہ سوال ہے جس کے جواب پر ملک کے جمہوری مستقبل کا انحصار ہے۔
یہ سوال بذات خود ایک مفروضے پر قائم ہے۔ مفروضہ یہ ہے کہ بالآخر عمران خان حقیقی اقتدار کے ایوانوں میں قدم رکھنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔
مفروضہ کوئی بھی حقیقت بن سکتاہے۔ عمران خان اور ان کی جماعت کو خیبر پختونخوا میں جس انداز سے کامیابی حاصل ہوئی ہے اور جس تیزی کے ساتھ ان کا ووٹ بنک کراچی میں بڑھاہے اسے سامنے رکھاجائے تو اس امکان کو نظرانداز نہیں کیاجاسکتا کہ اگلے عام انتخابات )جب بھی ہوں(میں تحریک انصاف مرکز میں بھی ایک فیصلہ کن قوت کی حیثیت سے ابھرسکتی ہے ۔
اگر یہ امکان حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے تو کیا عمران خان وہ سب کچھ کرپائیں گے جو وہ کرناچاہتے ہیں، اور جسے کئے بغیر تبدیلی کا وہ سفر شروع ہی نہیں کیاجاسکتا جس کی منزل،نیا پاکستان، ہوگی۔؟
میری اور بہت سارے لوگوں کی نیک خواہشات عمران خان کے ساتھ ہوں گی۔ میں عمران خان کو کافی قریب سے جانتاہوں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں قائدانہ صلاحیتوں سے نوازنے میں بڑی فیاضی سے کام لیا ہے۔ لیکن تن تنہا انقلاب لانے کے لئے )حضرت(محمد ﷺ ہونا لازمی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صرف ایک محمدﷺ پیدا کیا ۔ نہ تو محمد ﷺسے پہلے کوئی محمد ﷺ آئے اور نہ ہی محمدﷺ کے بعد کوئی محمدﷺ آئیں گے۔ میں آپﷺ کی پیغمبرانہ حیثیت کو الگ رکھ کر بات کرناچاہتاہوں۔ آپﷺ کمالات کا مجموعہ تھے۔ لیکن جس کمال کا ذکر میں یہاں کرناچاہتاہوں دنیا کی تاریخ اسی کمال کے نتیجے میں تبدیل ہوئی ہے۔
آپ ﷺکے حسنِ انتخاب اور آپ کی کاملانہ تربیت کے نتیجے میں جہالت اور طاغونیت کی آماجگاہ کہلائی جانے والی ایک سرزمین پر ایسے باکمال اور عہد ساز اکابرین کی فصل اُگی جن میں سے ہر ایک اپنے عہد کا سکندر بننے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ میں یہاں حضرت ابوبکر(رضی اللہ عنہ) کانام لوں یا حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کا، حضرت عثمان(رضی اللہ عنہ) کانام لوں یا حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کا ، حضرت خالد بن ولید (رضی اللہ عنہ) کا نام لوں یا حضرت سعد بن وقاص (رضی اللہ عنہ) کا ۔۔۔ یہ فہرست اتنی طویل ہے کہ یقین ہی نہیں آتا کہ ایک مختصر مدت میں اس قدر قدآور شخصیات اتنی تعداد میں پیداہوسکتی ہیں۔
ہم آپﷺ کی اُمت ہیں۔ انقلاب کا سبق ہم نے آپ سے ہی سیکھاہے۔ سیکھا نہیں پڑھا ہے۔ اگر سیکھا ہوتا تو آج یہ قوم اپنی بدنصیبیوں پر نہ رو رہی ہوتی۔
یہ بات میں نے عمران خان کے حوالے سے اس لئے لکھی ہے کہ وہ بھی اکثر محمدیﷺ انقلاب کی بات کیا کرتے ہیں۔میں اُن سے بڑا سادہ سا سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔
کیا محمدیﷺ انقلاب ایسی ٹیم کے ساتھ ممکن ہے جس کے ارکان میں ہر ایک کا فکری قبلہ مختلف ہو ۔؟
ہر انقلاب کی ایک ” کور ٹیم “ ہوا کرتی ہے۔ اگر عمران خان تبدیلی کا سفر شروع کرنے سے پہلے اپنی ” کور ٹیم “ کو تشکیل دے چکے ہوتے تو اُن کے لئے اس ملک اور اس قوم کی تقدیر تبدیل کرنا مشکل کام نہ ہوتا!
آخر میں یہاں میں ایک بنیادی سوال اٹھاﺅں گا۔ یہ سوال دو حصوں پر مشتمل ہے۔
نمبر ایک: کیا ہم واقعی محمدیﷺ انقلاب چاہتے ہیں ؟
نمبر دو: اگر چاہتے ہیںتوکیا محمدیﷺ انقلاب ایک ایسے نظام کے تحت آسکتا ہے جو محمدی انقلاب کے ہر تقاضے کی نفی کرتاہے ۔؟
اپنے اِن سوالوں کے پیچھے چھُپے ہوئے مفہوم کو واضح کرنے کے لئے میں یہاں ایک آسان سا سوال مغربی جمہوریت کے پرستاروں سے پوچھوں گا۔
اگر سنہ622عیسوی میں مکہ اور مدینہ میں عام انتخابات کرائے جاتے تو کیا کامیابی ابوجہل اور عبداللہ بن ابی کے نامزد کردہ امیدواروں کو حاصل نہ ہوتی ؟
سبق اِس سوال میں یہ پنہاں ہے کہ پہلے ہمیں اس ” نظام ِ خرابی “ سے نجات حاصل کرنی ہوگی۔ اس کے بعد محمدی انقلاب کے لئے راستہ ہموار ہوگا۔

Scroll To Top