چین کا 2018میں تجارتی سر پلس محدوداورمتوازن انداز میں مستحکم رہا: شماریارتی رپورٹ

(خصوصی رپورٹ)

:۔ چین کے نیشنل بیورو آف اسٹیٹیکس کی جانب سے جاری شماریاتی رپورٹ کیمطابق چین کا گزشتہ سال2018میں تجارتی سرپلس مستحکم انداز میں متوازن ریکارڈ کیا گیا ، سال 2018کے لیے جاری اعدادوشمار کے مطابق چین کی ایکسپورٹ شرح 2018میں 7.1فیصد کیساتھ ریکارڈ کی گئیں، جبکہ دوسری جانب چین کی گزشتہ سال 2018میں درامدات کی شرح میں 12.9فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے تحت سال 2018میں چین میں تجارتی سر پلس کی شرح متوازن انداز میں مستحکم ریکارڈ کی گئی ہے، دوسری جانب بیشتر عالمی اقتصادی ماہرین کی رائے ہے کہ چین نے اپنی مارکیٹ کے دروازے بیرونی دنیا کے لیے واضح انداز میں کھول کر بیرونی دنیا کی معاشی قوتوں کو چین کی بڑی مارکیٹ سے استعفادہ حاصل کرنے کا بھر پور موقع فراہم کیا ہے، سال2018 کیلئے جاری شماریاتی رپورٹ کے مطابق چین میں سال2018کے دوران بینکنگ، انشورنس اور اسکیوریٹیز کے شعبوں کے علاوہ60,533غیر ملکی فنڈنگ پر مبنی غیر ملکی انٹر پرائسز چین میں کھولی گئیں، رپورٹ میں مزید واضح کیا گیا کہ چین میں سوشل ڈیویلپمینٹ اور اقتصادی شعبوں میں سالانہ کی بنیاد پر69.8فیصد اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا ہے، غیر ملکی انٹر پرائسز جو گزشتہ ایک سال میں چین میں مجموعی طور پر قائم کی گئی ہیں ان میں 4,479غیر ملکی کمپنیز بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام سے منسلک ممالک کے لوگوں نے چین میں قائم کی ہیں، اس طرح سے اس شرح میں گزشتہ سال کی نسبت 16.7فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، اس حوالے سے چین کے نیشنل بیورو آف اسٹیٹکس کے ڈپٹی ہیڈ شینگ لائیون نے کہا ہے کہ عالمی سطع پر جہاں اقتصادی استحکام بہت سے چیلنجز اور غیر یقینی صورتحال سے دوچار رہا ہے، وہیں چینی معیشت گزشتہ سال بھی متوازن انداز میں اپنی اقتصادی ترقی کے اہداف کو کامیابی سے حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے، اور چینی معیشت سے مثبت انداز میں کشادگی پر مبنی میکنزم کو احسن انداز میں جاری رکھتے ہوئے تمام اقتصادی پارٹنرز کے لیے دو طرفہ مشترکہ انداز میں دوہرے مفادات کو یقینی بنایا ہے، چین عالمی سطع پر آزادانہ تجارتی نظام کے تسلسل اور دنیا میں کثیر الجہتی تجارتی نظام کے لیے پر عزم طریقے سے کام کو جاری رکھے ہوئے ہے، چین نے مغربی قوتوں کی جانب سے رواں یکطرفہ تجارتی اور تحفظ پسندانہ تجارتی پالیسز کی بھر پور مخالفت کی ہے، اور علاقائی سطع پر باہمی تعاون اور ہم آہنگی کے عوامل کو اجاگر کرنے کے حوالے سے چین نے بھر پور انداز میں بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام کو شروع کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا ہے، اس طرح سے علاقائی سطع پر معاشی عوامل کو مضبوط کرنے کے حوالے سے چین نے عالمی معیشت کے استحکام اور سا لمیت کے لیے ایک نیا نظریہ دنیا کے سامنے پیش کیا ہے، اور علاقائی سطع پر اقتسادی اور تجارتی تعاون کے فروغ کیلئے چین نے باہمی تعاون کے عملی اقدامات دنیا کے سامنے پیش کیئے ہیں، جس سے ایک جامع انداز میں علاقائی اور عالمی معیشت کے فروغ اور استحکام کا ایک نیا پلیٹ فارم حاصل کیا جا سکتا ہے، سال2018کے حوالے سے جاری شماریاتی رپورٹ کے مطابق بیلٹ اینڈ روڈ پروگرام سے منسلک ممالک کیساتھ چین کا مجموعی درامدات اور برامدات کا حجم 1247بلین ڈالر ریکارڈ کیا گیا ہے، جس میں گزشتہ ایک سال کے مقابلے میں تیرہ فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، دوسری جانب ایک سال کے مقابلے میں برامدات کی شرح میں 7.9فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ برامدات کے شعبے میں 20.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، اس ھوالے سے چائینیز ایکیڈیمی آف میکرو اکنامک ریسرچ کے ایسوسی ایٹ ریسرچریانگ شینگیانگ نے کہا ہے کہ چین نے یہ اقتصادی تسلسل مختلف شعبوں میں جاری اصلاھات اور کشادگی پر مبنی پالیسز کے تسلسل سے یقینی بنایا ہے، یانگ نے واضح کیا کہ چین نے گزشتہ ایک سال میں عالمی سطع پر جاری اقتصادی بحران کو دیکھتے ہوئے ملکی سطع پر مختلف سیکٹرز اور شعبوں میں کامیابی سے اصلاحات کے عمل کو یقینی بنایا ہے، اور اصلاحات کے حوالے سے جو عوامل نا فذالعمل کیئے گئے ہیں ماضی میں انکی کوئی مثال نہیں ملتی، انہوں نے کہا کہ چین نے زمہ درانہ انداز میں یکطرفہ تحفظ پسندانہ اقتصادی پالیسز کا مقابلہ کرتے ہوے غیر ملکی تجارتی اہداف کو یقینی بنایا ہے۔۔

Scroll To Top