کپتان اور اس کا کنٹینر! 03-10-2014


اسلام آباد میں تقریباً بیس برس تک رہائش پذیر رہنے کے بعد میں اِس سال اپریل میں واپس اپنے دیرینہ شہر لاہور چلا گیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسلام آباد سے میرا تعلق ختم ہوگیا ہے۔ میرا ہیڈ آفس اسلام آباد میں ہی ہے اور یہاں رہائش کے لئے میرا گھر بھی ہے۔
گزشتہ روز میں چند ہفتوں کے بعد اسلام آباد آیا تو دھرنے میں کپتان سے ملاقات کرنے کے لئے بھی گیا۔ اس موقع پر بہت سارے ایسے ساتھیوں سے بھی ملاقات ہوئی جنہوں نے تحریکِ انصاف کا وہ دور بھی ” سہا “ ہے جب ہمارے دانشور اور تجزیہ کار اس پارٹی کو ” فردِ واحد “ کا مجنونامہ خواب قرار دیا کرتے تھے مجھے ایک چینل پر ہونے والی وہ گفتگو ابھی تک یاد ہے جو ایک نامی گرامی صحافی اور تجزیہ کار نے عمران خان کے ساتھ کی تھی۔
” آپ اپنے تانگے کی سواریاں ہی پوری کرلیں تو بہت بڑی بات ہوگی۔“
ظاہر ہے کہ ان الفاظ نے کپتان کے جذبات کو مجروح کیا تھا مگر ساتھ ہی اُن کے اندر موجزن تڑپ کی شدت میں بھی اضافہ کردیا تھا۔
گزشتہ تین برس کے اندر جو کچھ ہوا ہے اب تاریخ کا حصہ ہے۔
30ستمبر کو میں نے کپتان کے کنٹینر میں تقریباً دو گھنٹے گزارے۔ اس روز دھرنے میں خواتین کا دن تھا۔
میں نے عقیدت کے جو مناظر دیکھے اور جس مضبوطی ءاعصاب کے ساتھ خان کو اعصاب شکن مصروفیات کا سامنا کرتے دیکھا اسے میں الفاظ میں بیان نہیں کرسکتا۔
عمران خان بننا اور اس نام کی لاج رکھنا کوئی آسان کام نہیں دوستو۔آپ کا کپتان بڑی خندہ پیشانی کے ساتھ بڑی مشکل زندگی گزار رہا ہے۔ وہ زندگی واقعی بہت مشکل ہوتی ہے جس میں آپ کا ” وقت “ آپ کا نہیں ہوتا۔ جب آپ کے ہر فیصلے پر خلقِ خدا اختیار حاصل کرلیتی ہے۔
میرے پاس کپتان کے لئے نیک تمناﺅں اور دعاﺅں کے علاوہ دینے کے لئے کچھ نہیں تھا۔ ہم جب بھی ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو ہماری آنکھیں بولتی ہیں۔ اور ایک ہی بات کہتی ہیں۔
” وہ سورج ضرور طلوع ہوگا جس کا انتظار پوری قوم کو ہے۔“

Scroll To Top