محمدی انقلاب کی شرطِ اول

(یہ بحث بڑے عرصے سے جاری ہے کہ آئین پاکستان کے لئے ہونا چاہئے یا پاکستان آئین کے لئے ۔۔۔1973کا آئین اسی بحث کے ساتھ جُڑا ہوا ہے۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی اٹھارہویں ترمیم بھی۔۔۔ آصف علی زرداری کے فرزند بلاول نے دھمکی دی ہے کہ اگر اٹھارہویں ترمیم کو چھیڑا گیا تو وہ لانگ مارچ کریں گے۔۔۔ اس دھمکی نے متذکرہ بالابحث میں ایک نئی جان ڈال دی ہے۔۔۔ میں برملا لکھتا رہا ہوں کہ پاکستان کا سب سے سنگین مسئلہ 1973ءکا آئین ہے جس نے اِس ملک کو اس کی اساس سے دور کررکھا ہے۔۔۔اپنے اس موقف کی وضاحت کے لئے میں نے اپنے ایسے کالمز کا سلسلہ شروع کررکھا ہے جو پہلے بھی شائع ہوچکے ہیں۔ آج کا کالم ملاحظہ فرمائیں۔۔۔ )
(اول حصہ )
آج کے زمینی حقائق میں جوبات ناقابلِ تردید لگتی ہے اورروزِ روشن کی طرح عیاں ہے وہ یہ ہے کہ اگر موجودہ سیاسی نظام اور اس کے ساتھ منسلک جماعتی ڈھانچہ اسی طرح قائم رہا تو اگلے کئی برس تک ملک کی حکمرانی میاں نوازشریف کے پاس نہ رہی تو جناب آصف علی زرداری کے ہاتھوں میں جائے گی ` اور اگر جناب آصف علی زرداری کے ہاتھوں میں نہ جاسکی تو جناب عمران خان کی گرفت میں آجائے گی۔اگر کوئی چوتھا آپشن موجود ہے تو وہ روایتی سیاست کی سٹیج پر نظرنہیں آرہا۔باقی سیاسی لیڈروں میں جناب الطاف حسین ` خان اسفند یار ولی خان اور مولانا فضل الرحمان وغیرہ بھی قابلِ ذکر ہیں لیکن ان میں سے کسی کے پاس اقتدار صرف کسی بڑے معجزے کے نتیجے میںجاسکتاہے۔ ایک بات ضرور ممکن ہے اور وہ یہ کہ جناب زرداری ` میاں نوازشریف یا جناب عمران خان کسی مصلحت کے تحت خود پس منظر میں رہنے کا فیصلہ کرلیں اور سامنے اپنے کسی ” معتمد “ کو لے آئیں۔پاکستان میں ایسی کسی روایت کے جنم لینے کا امکان نہیں کہ جماعتوں کے اندر قیادت تبدیل ہوسکے یا کی جاسکے۔
یہ خصوصیت صرف مغربی جمہوریتوں میں نظر آتی ہے کہ سیاسی جماعتوں پر شخصیات کا قبضہ نہیں ہوتا۔ دس برس قبل جارج بش اور ٹونی بلیئر کی کیا حیثیت تھی ` اور آج وہ کہاںہیں ؟
آج کی تحریر کے لئے میں نے یہ تمہید ایک نہایت اہم سوال اٹھانے اور اس کاجواب تلاش کرنے کی خاطر باندھی ہے۔
یہ سوال شعوری طور پر شایدآپ کے ذہن میں نہ ہو لیکن آپ کے لاشعور میں ضرور موجود ہوگا۔
کیا مندرجہ بالا تینوں لیڈروں میں سے کوئی بھی ملک و قوم کی تقدیر بدلنے کی اہلیت صلاحیت یا قابلیت رکھتاہے ؟
اس اہم سوال کو ایک دوسرے انداز میں بھی پوچھا جاسکتاہے۔ کیا مذکورہ تینوں لیڈروں میں سے کسی کے پاس بھی ایسی ٹیم موجودہے جو اُن تمام چیلنجوں کا سامنا کرنے کا ” جوہر“ رکھتی ہو جو ملک و قوم کی تقدیر تبدیل کرنے کے ” عظیم مقصد “ کے ساتھ خود بخودمنسلک ہوجاتے ہیں۔؟
جہاں تک زرداری صاحب اور ان کی پارٹی کا تعلق ہے` ان کے اندازِ حکمرانی اور ان کی صلاحیت اور کارکردگی کا بھرپور ادراک قوم کو ہوچکاہے۔ پی پی پی کو ملک میں حکمرانی کرنے کا موقع چار مرتبہ ملا ہے۔ اگر پانچویں مرتبہ بھی اقتدار اس کی جھولی میں گرنے کا معجزہ ہوجاتا ہے تو اس کے لیڈر وہی کچھ کریں گے جو کچھ انہوں نے ماضی میںکیا۔
یہی بات میاں نوازشریف اور ان کی جماعت کے بارے میں کہی جاسکتی ہے۔یہ درست ہے کہ میاں صاحب کو مرکزی سطح پر اقتدار زیادہ مدت کے لئے نہیں ملا مگر اقتدار کے ایوانوں میں زندگی بسر کرتے انہیں تقریباً تین دہائیاں ہوچکی ہیں۔ انہیں اور ان کی جماعت کو حکمرانی کا تجربہ شاید سب سے زیادہ طویل ہے۔ ایک خیال یہ تھاکہ وزارت عظمیٰ سے قید خانے جانے اور اس کے بعد کئی برس جلاوطنی کی زندگی گزارنے کے عمل نے نئی سوچ اور نئی پختگی عطاکردی ہوگی اور وہ اپنے موجودہ عہدِ اقتدار میں ایک مختلف وزیراعظم نظر آئیں گے ۔ لیکن اس خیال کے خام ثابت ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگا۔ جن لوگوں نے تاریخ کا مطالعہ کیا ہے ان سے یہ حقیقت پوشیدہ نہیںہوگی کہ ملکوں اور قوموں کی تقدیر تبدیل کرڈالنے والی قیادتیں بڑے بڑے فیصلے کرنے اور ان فیصلوں پر آہنی ارادوں کے ساتھ عمل درآمد کرنے میں وقت ضائع نہیں کیا کرتیں۔ دوسری بڑی خوبی ایسی قیادتوں کی یہ ہوتی ہے کہ وہ تاریخ بننے کی نہیں تاریخ بنانے کی صلاحیت سے مالا مال ہوتی ہیں۔ ان کے اندر تاریخ سازی کا شعور کوٹ کوٹ کر بھراہوتا ہے ` اور اس شعور کو ناقابلِ تسخیر قوت ان کی نظریاتی یکسوئی اور فکری شدت سے ملتی ہے۔
کیا میاںنوازشریف کے اندر اچانک کوئی ایسی تبدیلی رونماہوسکتی ہے جو ان کی قائدانہ صلاحیتوں میں تاریخ سازی کا جوہر پیدا کرسکے ؟
ہم سب بڑی شدت سے چاہیں گے کہ کاش ایساہو سکتا لیکن برف کے سینے میں الاﺅ نہیں بھڑک سکتا ہے۔ میاں صاحب جیسے ہیں ویسے ہی رہیں گے۔ بالکل اسی طرح جس طرح زرداری صاحب جیسے ہیں ویسے ہی رہیں گے۔ اگر بیانات اور تقریروں سے تبدیلی آسکتی تو زرداری صاحب کے دور میں ہی پاکستان سے مایوسیوں کے اندھیرے چھٹ جاتے۔
(جاری ہے)

Scroll To Top