جہاز کب اور کن حالات میں ڈوبتا ہے ؟ 01-10-2014


جو بھینس دودھ نہ دے وہ تول کر بیچی جاتی ہے۔ جو تلوار کند ہو وہ اپنی نیام پر بوجھ ہوتی ہے۔ جس نماز کا کوئی قبلہ نہ ہو وہ عبادت نہیں جسمانی ورزش ہوتی ہے۔ حسن نثار اکثر کہا کرتے ہیں کہ موجودہ سیاسی نظام کے ستونوں یعنی میاں نوازشریف اور جناب آصف علی زرداری سے یہ توقع رکھنا کہ وہ ملک میں عدل و انصاف قائم کریں گے اور عوام پر ترقی و خوشحالی کے دروازے کھول دیں گے بالکل ایسی ہی بات ہے کہ جیسے ہم اس خبر کا انتظار کرنا شروع کردیں کہ اللہ تعالیٰ نے الماس بوبی کو نعمتِ اولاد سے نواز دیا ہے۔ سچ کو اتنے کڑوے انداز میں کہنا حسن نثار کو ہی سجتا ہے۔ میں شاید حکمرانوں کے منہ پر ایسا طمانچہ نہ مارسکوں۔ مگر کچھ سچ ایسے ہوتے ہیں جنہیں کہنے کی بھی ضرورت نہیں۔ وہ خود بخود عیاں ہوجاتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر میاں نوازشریف یا میاں شہبازشریف جھک کر کسی مفلس بچے کے ساتھ شفقت کا مظاہرہ کررہے ہوں یا کسی ستم رسیدہ بوڑھی خاتون کے ساتھ اظہار ِ ہمدردی یا یگانگت کررہے ہوں تو سمجھ لیں کہ چند ہی فٹ کے فاصلے پر کیمرے اور کیمرہ مین موجود ہوں گے۔
ایک سچ یہ تھا کہ شہنشاہ ایران طاقت حشمت اور جبروت کا نشان تھے پھر ایک سچ یہ بنا کہ ان کے احکامات کی تعمیل کرنے والوں کو زمین نے نگل لیا اور انہیں اپنا سرچھپانے کے لئے بھی جگہ نہیں مل پا رہی تھی۔
ظاہر ہے یہ ساری تمہید میں نے میاں نوازشریف اور جناب آصف علی زرداری کے حوالے سے باندھی ہے۔ زرداری صاحب کے فرزند اور پی پی پی کے چیئرمین نے ایک معافی نامہ جاری کیا ہے جس میں انہوں نے اپنی پارٹی کا اعمال نامہ تبدیل کرنے کے عزمِ صمیم کا اظہار کرتے ہوئے کارکنوں اور چھوٹے لیڈروں سے اپیل کی ہے کہ وہ پارٹی چھوڑنے کی بجائے اس کی تعمیرِ نو میں فعال کردار ادا کریں۔
یہ کہانی ایک ایسے ناخدا کی ہے جس کا جہاز ڈوب رہا ہو اور وہ ملاحوں کے حوصلے بلند کرنے کی سعی ءلا حاصل میں مصروف ہو۔
میں نہیں جانتا کہ میاں نوازشریف کے جہاز کا کیا حال ہے۔ جن ہچکولوں کا اسے سامنا ہے اُن سے وہ بچ نکل سکے گا یا نہیں۔مگر ایک بڑی مشہور کہاوت ہے کہ جہاز جتنا بڑا ہو اسی قدر تیزی کے ساتھ ڈوبتا ہے۔
فوج میاں صاحب کے خلاف ہے یا نہیں ` یہ تو اللہ ہی جانتا ہے مگر فوج میاں صاحب کے ساتھ نہیں ` یہ وہ سب لوگ جانتے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے معقول عقل دے رکھی ہے۔
بڑی طاقتوں کو میاں صاحب نے خود ہی اپنے آپ سے دور کرلیا ہے۔ چین کے صدر ملک کا دورہ کرسکتے تھے اگر میاںصاحب کو اقتدار ملک سے زیادہ عزیز نہ ہوتا۔ اگست کے آخر میں عمران خان صاحب اور علامہ قادری کے ساتھ مذاکرات کو بامعنی اور نتیجہ خیز بنا کر میاں صاحب صدر چین کے دورے کا اہتمام کرسکتے تھے۔
پھرکمال میاں صاحب نے یہ کیا کہ برطانیہ پر الزام لگا دیا کہ وہ عمران خان اور علامہ طاہر قادری کی پشت پناہی کررہا ہے۔ ایم آئی 6برطانیہ کی کوئی پرائیویٹ کمپنی نہیں۔
برطانیہ پر الزام لگانے کا مطلب امریکہ کو ملوث کرنا ہے۔
نیویارک میں صدر اوبامہ نے جو سلوک میا ں صاحب کے ساتھ کیا وہ سب کو معلوم ہے۔
جہاں تک عوام کا تعلق ہے ۔ کسی سیاستدان نے میاں صاحب کو صحیح مشورہ دیا ہے کہ وہ کچھ عرصہ عوامی اجتماعات سے دور رہیں۔ اب تو آسمانوں سے بھی یہ آواز آسکتی ہے کہ ۔۔۔۔ گو نواز گو۔۔۔۔

Scroll To Top