حلال اور حرام کے درمیان مفاہمت

(یہ بحث بڑے عرصے سے جاری ہے کہ آئین پاکستان کے لئے ہونا چاہئے یا پاکستان آئین کے لئے ۔۔۔1973کا آئین اسی بحث کے ساتھ جُڑا ہوا ہے۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی اٹھارہویں ترمیم بھی۔۔۔ آصف علی زرداری کے فرزند بلاول نے دھمکی دی ہے کہ اگر اٹھارہویں ترمیم کو چھیڑا گیا تو وہ لانگ مارچ کریں گے۔۔۔ اس دھمکی نے متذکرہ بالابحث میں ایک نئی جان ڈال دی ہے۔۔۔ میں برملا لکھتا رہا ہوں کہ پاکستان کا سب سے سنگین مسئلہ 1973ءکا آئین ہے جس نے اِس ملک کو اس کی اساس سے دور کررکھا ہے۔۔۔اپنے اس موقف کی وضاحت کے لئے میں نے اپنے ایسے کالمز کا سلسلہ شروع کررکھا ہے جو پہلے بھی شائع ہوچکے ہیں۔ آج کا کالم ملاحظہ فرمائیں۔۔۔ )
LegitimacyاورIllegitimacyیعنی جائز اور ناجائز کا معاملہ بنی نوع انسان کی پوری تاریخ میں بڑی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ ہمارے دین میں جائز اور ناجائز کے لئے دو بڑی واضح اصطلاحیں استعمال کی جاتی ہیں۔ حلال اور حرام ۔
اس معاملے میں قرآن حکیم بھی مکمل طور پر غیر مبہم ہے ۔ اور آنحضرت کی تعلیمات بھی سو فیصد واضح ہیں۔
ایک سچے مسلمان کی پہچان ہی یہ ہے کہ وہ اپنی ساری زندگی حلال کے دائرے میں رہ کر گزارنے کی شعوری کوشش کرتا ہے۔ اگر اس کوشش کے باوجود حرام کبھی اس کی زندگی میں داخل ہوجائے تو توبہ کا دروازہ اس پرکھلا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ چونکہ اس کی نیت کو جانتا ہے اس لئے اس کی توبہ قبول ہوسکتی ہے۔ مگر جو بات قادر ِ مطلق کو قبول نہیں وہ حلال اور حرام کا فرق مٹانے کی کوشش ہے خواہ وہ کسی ہی نیت سے کیوں نہ کی جائے۔
میں نے آج یہ تمہید اپنے سیاسی نظام اور رموز ِمملکت کو حلال و حرام کی کسوٹی پر پرکھنے کے لئے باندھی ہے۔ لیکن بات کا آغاز میں برصغیر کے ” عہدِ اکبری “ سے کروں گا۔ میر ی مراد مغلیہ سلطنت کے بانی ظہیر الدین بابر کے پوتے جلال الدین اکبر سے ہے جسے تاریخ میں اکبرِاعظم کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ میری حقیر رائے یہ ہے کہ اگر برصغیر میں مسلمانوں کا روشن ترین عہد شیر شاہ سوری کا تھا تو تاریک ترین دورِ اکبری کوکہا جاسکتا ہے۔ یہ وہ دور تھا جب سیاسی مصلحتوں اور ر موزِ مملکت کے نام پر حلال اور حرام کا فرق مٹا ڈالنے کی ایک شعوری کوشش کی گئی۔ یہ شعوری کوشش مجھے پورے دورِ اکبری میں نظر آتی ہے ۔ شہنشاہ اکبر نے ” مفاہمت کی سیاست “ کے نام پر ”دینِ الٰہی “ رائج کرنے کی جو افسوسناک )بلکہ ناپاک(کوشش کی وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اس ناپاک کوشش کی ترجمانی اس کا ” حرم “ کرتا ہے۔ اگر شہزادہ سلیم کی ماں نے کبھی ہندومت نہیں چھوڑا تھا یا اللہ کا دین قبول نہیں کیا تھا تو پھر کون سا قانون یاجواز ایسا ہے جو شہنشاہ اکبر اور مہارانی جودھا بائی کے ازدواجی رشتے کو ” حلال “ قرار دلا سکتا ہے۔؟
اور اگر شہنشاہ ہند اور ملکہ ءہند کے درمیان قائم ہونے والا رشتہ حلال نہیں تھا تو پھر شہزادہ سلیم (جو بعد میں شہنشاہ جہانگیر بنا )کو کس خانے میں رکھاجائے۔؟
یہ سوال تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے مجھے ہمیشہ پریشان کرتا رہا ہے۔ میں شہنشاہ جہانگیر کی ” مسلمانی “ کے سامنے سوال نہیں اٹھا رہا۔اس نے کلمہ توحید و رسالت ضرور پڑھا ہوگا۔ لیکن جس معاشرے یا مملکت میں حلال اور حرام کا فرق ایک ” پالیسی “ کے طور پر مٹا دیا گیا تھا ` اسے میں اپنی یعنی مسلمانوں کی تاریخ کا حصہ ماننے یا بنانے کے لئے تیار نہیں۔ حلال اور حرام کے درمیان قائم لکیر کو مٹا ڈالنے کی ناپاک جسارت کے خلاف ہی حضرت مجدّد الف ثانی ؒکا ظہور ہوا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ لکیر جہانگیری عہد میں تو ” مدھم“ رہی ہی ` شاہجہانی عہد میں بھی واضح طور پر سامنے نہ آسکی۔ اس لکیر کو دوبارہ کھینچنے اور قائم کرنے کا کام جس شخص نے انجام دیا ` وہ آج بھی دین کو دنیا سے الگ رکھنے کے خواہشمند لبرل حلقوں کی نظروں میں ایک ولن کا درجہ رکھتا ہے۔لیکن میںاس بطلِ جلیل کو اپنی تاریخ کا ایک روشن اور سدا چمکنے والا ستارہ سمجھتا ہوں ۔ میری مراد اورنگزیب ؒسے ہے۔اورنگزیب ؒہمیشہ بیشتر مورّخین کے معتوب رہے ہیں۔ ان کی کردار کشی کے لئے سہارا ہمیشہ اس دلیل کا لیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے والد کو قید خانے میں ڈالا اور اپنے بھائیوں کو یکے بعد دیگرے مروا ڈالا۔
بادی ِ النظر میں یہ الزامات محض الزامات نہیں حقیقت کادرجہ رکھتے ہیں۔ مگر یہ مورّخین اس بات کو ہمیشہ نظرانداز کرجاتے رہے ہیں کہ اورنگزیبؒ اپنے مذہبی رحجان اور عقائد کے پیش نظر دربارِ شاہجہانی میں پسندیدگی کی نظرسے نہیں دیکھے جاتے تھے۔جب وہ بیس برس کے تھے تو انہیںکابل کی فتح کے لئے بھیجا گیا ۔ اس زمانے میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ جس سپہ سالار کے سپرد کا بل کی مہم کی جاتی ہے اسے ایک طرح سے موت کا پروانہ دے دیا جاتا ہے۔ اورنگزیبؒ نے تمام اندازے غلط ثابت کردیئے اور وہ کابل فتح کرکے واپس لوٹے۔ یہ صورتحال شاہجہان اور ان کے لاڈلے بیٹے دارا کے لئے خوش آئند نہیں تھی۔ چنانچہ دہلی میں اورنگزیب کے لئے جو جشنِ فتح منایا گیا اس میں انہیں ایک مست ہاتھی کے ذریعے ہلاک کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس کوشش میں ناکامی کے بعد اورنگزیبؒ کے سپرد حیدر آباد دکن کی شورشوں کی سرکوبی کا مشن کیا گیا ۔ یہ بھی مشہور تھا کہ حیدر آباد دکن ہمیشہ ایسے سالاروں کو بھیجا جاتا تھاجن کو ” زندہ نہ دیکھنا “ مقصود ہو۔ اورنگزیبؒ نے سترہ اٹھارہ برس دکن کی صوبیداری میںگزارے۔ تمام شورشوں پر قابو پایا اور پورے ہند میں اُن کا طوطی بولنے لگا۔ یہ صورتحال شہنشاہ شاہجہان کے لئے پریشان کن تھی۔ وہ جانتے تھے کہ ان کے بڑے بیٹے دارا کے لئے اورنگزیبؒ کا وجود بہت بڑا خطرہ ہے۔ چناچہ اورنگزیبؒ کو انعام واکرام کے لئے دکن سے دہلی طلب کیا گیا۔ مقصد انہیں ایک نادیدہ تلوار کی زد میں لانا تھا۔ اورنگزیبؒ کی چھوٹی بہن روشن آراءنے انہیں اس سازش سے آگاہ کردیا۔ وہ پھر بھی دہلی آئے ۔ جس محل میں ضیافت کا اہتمام تھا اس کے مرکزی دروازے کے اوپر سے ایک تلوار عین اس وقت گرنی تھی جب اورنگزیب اندر داخل ہوتے۔ جب وہ لمحہ آیا تو اورنگزیبؒ نے رک کر اپنے باپ کی طرف دیکھا اور کہا ۔ ” اباحضور پہلے آپ۔۔۔“
کہا جاتا ہے کہ شاہجہان کا رنگ فق ہوگیا۔ یہ دیکھ کر اورنگزیبؒ نے کلمہ پڑھا اور دروازے میں داخل ہوگئے۔ تلوار گری ضرور لیکن خدا نے اورنگزیب ؒ کو بچا لیا۔
یہ واقعہ اورنگزیبؒ کی زندگی کا اہم ترین موڑ تھا۔ انہو ں نے اپنے باپ سے کہا ۔ ” اباحضور مجھے یقین نہیں تھا کہ ایک باپ ایسا کرسکتا ہے۔ لیکن میں آپ کو معاف کرتا ہوں ۔ مگر اب ہندوستان کو ان عناصر کے قبضے میں نہیں جانے دوں گا جن کے ہاتھوں میں آپ کھیل رہے ہیں اور جو اسے خدا کے دین سے دور رکھناچاہتے ہیں۔“
پھر جو کچھ ہوا تاریخ کا حصہ ہے۔
اورنگزیب ؒنے تقریباً نصف صدی تک حکومت کی ۔ لیکن جو فتنے ” دینِ اکبری “ نے پیدا کئے تھے اور ” حلال و حرام “ میں امتیاز ختم کرنے کا جو کلچر دربارِ اکبری سے فروغ پا کر دربارِ جہانگیری اور دربارِ شاہجہانی تک پہنچا تھا اسے وہ پوری طرح نہ مٹا سکے۔
جب ایک مرتبہ حلال میں حرام کی آمیزش ہوجاتی ہے اور اس آمیزش کو معاشرے میں قبولیت ملنا شروع ہوجاتی ہے تو اصلاح احوال کے لئے ایک اورنگزیبؒ کا فی نہیں ہوتا۔ بدقسمتی سے اورنگزیبؒ کے بعد کوئی دوسرا اورنگزیبؒ پیدا نہ ہوسکا۔
یہ الفاظ میں 2012ءمیں لکھ رہا ہوں۔ اورمجھے یوں لگ رہا ہے جیسے شہنشاہ اکبر کے دینِ الٰہی کو ایک مرتبہ پھر زندہ کرنے کی کوششیں ہورہی ہوں۔ اور حلال اور حرام کے درمیان امتیاز ختم کرنے کا رحجان پھر جڑیں پکڑ رہا ہو۔
اگر میں یہ کہوں کہ ” این آر او “ اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی تو نا درست نہیں ہوگا۔ ” این آر او “ کیا تھا ؟
حلال اور حرام کے درمیان فرق مٹا نے کی خواہش کو آئین کا درجہ دلانے کا ایک شرمناک قدم۔
نام اس ” سعی “ کے لئے بڑا پرُکشش منتخب کیا گیا۔ قومی مفاہمت کا آرڈیننس !
اگر حلال اور حرام کے درمیان مفاہمت کوقومی مفاہمت قرار دیا جاسکتا ہے تو پھر نظریں اور ہاتھ اوپر اُٹھا کر کسی اورنگزیبؒ کوآواز دینی پڑے گی۔شاید خداہماری یہ دُعا قبول کرلے۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سیکولرزم کا نام لینا بلکہ ایسی ہی بات ہے کہ جیسے دودھ کے گلاس میں ایک ” قطرہ ءناپاک“ گرا دیاجائے۔۔۔
بات اب جائز اور ناجائزیا حلال اور حرام کے درمیان بڑی ہی واضح لکیر کھینچنے تک آپہنچی ہے۔

Scroll To Top