بھارت سے جنگ کا خطرہ موجود ہے امن کیلئے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیر ہے ، ڈی جی آئی ایس پی آر

  • بھارت نے فضائی حدود کی خلاف ورزی کی جس کا پاکستان نے جواب دیا،بھارتی جارحیت کے باعث دونوں ملک جنگ کے قریب تھے،گرفتار بھارتی پائلٹ کو رہا کر کے امن کا پیغام دیا،اب بال بھارت کی کورٹ میں ہے، اس نے فیصلہ کرنا ہے کہ تناﺅ کر مزید بڑھاوا دینا ہے یا کہ صورتحال کو معمول پرلانا ہے
  • بھارت الزام تراشی کے بجائے مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف آئے،کشمیریوں پر ظلم و ستم جاری رکھے گا تو ردعمل آئیگا، دنیا کو دیکھنا ہوگاکہ وہ کیا عوامل ہےں جو کشمیری نوجوانوں کو تشدد کی طرف جانے پر مجبور کر رہے ہےں ،جنرل آصف غفور کا غیرملکی ٹی وی کو انٹرویو

راولپنڈی (صباح نیوز)ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ کشیدگی میں کمی ہے مگر جنگ کا خطرہ موجود ہے، مسئلہ کشمیر فلیش پوائنٹ بن چکا جب کہ بھارت کشمیریوں کو دبائے گا تو ردعمل آئے گا۔ انہوں نے غیرملکی ٹی وی چینل کو د یئے گئے انٹریو میں کہا کہ مسئلہ کشمیر فلیش پوائنٹ بن چکا، خطے میں استحکام کے لیے حل ناگزیر ہے، بھارت الزام تراشی کے بجائے مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف آئے، بھارت کشمیریوں کو دبائے گا تو ردعمل آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین سے زیادتی، شہریوں کو پیلٹ گنز سے اندھا کرنے کا ردعمل آئے گا، یہ میں نہیں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق رپورٹ کہہ رہی ہے، پاکستان نے بھارتی پائلٹ کو گرفتار کر کے خیرسگالی کا پیغام دیا، کشیدگی خطے میں امن کیلئے نقصان دہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ، بھارت نے فضائی حدود کی خلاف ورزی کی جس کا پاکستان نے جواب دیا،بھارت کی جارحیت کی وجہ سے دونوں ملک جنگ کے قریب تھے،کشیدگی میں کمی ہے مگر جنگ کا خطرہ موجود ہے ۔ ہم نے بھارتی گرفتار پائلٹ کو رہا کر کے امن کا پیغام دیا اور اب بھارت پر منحصر ہے کہ ہمارے امن کے اقدام کو لے کر آگے بڑھتے ہیں اور تناﺅ میں کمی کے لئے کوشش کرتے ہیں یااپنے ایجنڈا کو ہی جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہماراخیال ہے کہ اب بال بھارتی کورٹ میں ہے اور انہوں نے فیصلہ کرنا ہے کہ تناﺅ کر مزید بڑھانا ہے یا صورتحال کو واپس لانا ہے۔ ان کہنا تھا کہ بھارت نے جس جگہ حملہ کیا اس جگہ اگر کوئی انفراسٹرکچر تھا تو وہاں پر ایک بھی اینٹ نہیں ملی اور نہ ہی کوئی ایک بھی نعش ملی ہے ، بھارت کے دعوےٰ چھوٹے ہیں اور بھارت نے خود بھی اس بات اعلان کیا اور کہا کہ حملے میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پلوامہ حملے کا دعویٰ پاکستان سرزمین پر نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ جیش محمد کا پاکستان میں کوئی وجود نہیں کیوں کہ پاکستان اور اقوام متحدہ اسے کالعدم قرار دے چکے ہیں۔ ا نہوں نے کہا کہ ہم کسی بھی شخص کے دباﺅ میں کچھ نہیں کر رہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی پاکستان سے آپریٹ کر رہا ہے تو ہم یہ سمجھتے ہیں یہ پاکستان کے مفاد میں نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پر الزام تراشی کرنے کی بجائے دنیا کو چاہئے کہ وہ ایسی تنظیموں سے چھٹکارہ حاصل کرنے میں پاکستان کی مدد کریں اور سہولت فراہم کریں ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو دیکھنا چاہئے کہ وہ کیا چیز ہے جو کشمیری نوجوانوں کو تشدد کی طرف جانے پر مجبور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پر پلوامہ حملے کا الزام لگانے کے بجائے بھارت کو بھی دیکھنا چاہیے کہ ایسے واقعات کیوں ہو رہے ہیں۔

Scroll To Top