نادانی کا سفر

)یہ بحث بڑے عرصے سے جاری ہے کہ آئین پاکستان کے لئے ہونا چاہئے یا پاکستان آئین کے لئے ۔۔۔1973کا آئین اسی بحث کے ساتھ جُڑا ہوا ہے۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی اٹھارہویں ترمیم بھی۔۔۔ آصف علی زرداری کے فرزند بلاول نے دھمکی دی ہے کہ اگر اٹھارہویں ترمیم کو چھیڑا گیا تو وہ لانگ مارچ کریں گے۔۔۔ اس دھمکی نے متذکرہ بالابحث میں ایک نئی جان ڈال دی ہے۔۔۔ میں برملا لکھتا رہا ہوں کہ پاکستان کا سب سے سنگین مسئلہ 1973ءکا آئین ہے جس نے اِس ملک کو اس کی اساس سے دور کررکھا ہے۔۔۔اپنے اس موقف کی وضاحت کے لئے میں نے اپنے ایسے کالمز کا سلسلہ شروع کررکھا ہے جو پہلے بھی شائع ہوچکے ہیں۔ آج کا کالم ملاحظہ فرمائیں۔۔۔ (
ماضی کی غلطیوں کا اعتراف ضرور کیا جانا چاہئے۔ یہ اعتراف اس وقت بھی کیا گیا تھا جب لندن میں مسلم لیگ )ن(کے سربراہ میاں نوازشریف اور پاکستان پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹو نے میثاقِ جمہوریت پر دستخط کئے تھے۔ یہ پورا ہفتہ ماضی کی غلطیوں کے ذکر میں گزرا ہے۔ پہلے آرمی چیف نے اپنے ایک معنی خیز بیان میں کہا کہ ماضی میں سب کی طرف سے غلطیاں ہوئیں۔ پھر میاں نوازشریف نے فرمایا کہ یقینا سب سے غلطیاں ہوئیں۔
اس بات کو خوش آئند ہی سمجھا جاناچاہئے کہ جو غلطیاں ماضی میں ہوئی ہیں اُن کا احساس سب کو ہی ہے۔
مگر ستم ظریفی یا ironyکا پہلو اس ضمن میں یہ ہے کہ ماضی کی غلطیوں کا احساس رکھنے ¾ یا اعتراف کرنے میں شاید کوئی بھی شخص بخیلی سے کام نہیں لیتا لیکن جو غلطیاں حال میں سرزد ہورہی ہے اور اس انداز میں ہورہی ہیں کہ ان کا ارتکاب کرنے والے انہیں غلطیاں سمجھتے ہی نہیں ¾ ان غلطیوں کا احساس یا اعتراف ” ا ٓج“ نہیں ہوگا۔ شاید تب ہو جب ہمارا ” آج“ بھی ماضی کا ایک اور باب بن جائے۔
بات کوآگے بڑھانے سے پہلے میں دور ِ حاضر کی ایک معروف تاریخ دان بار براٹچ مین کی مشہور تصنیف The March of Follyکا ذکر کروں گا ۔ اُردو میں اس عنوان کا مطلب بنتا ہے ” نادانی کا سفر “ ۔ یہ کتاب نادانی کے اس سفر کی کہانی ہے جو فاضل مصنفہ کی رائے میں ٹرائے کی جنگ سے شروع ہوا اور دورِ حاضر میں ویت نام کی جنگ تک پہنچا۔چونکہ یہ معرکتہ آلارا کتاب 1984ءمیں سامنے آئی تھی اس لئے نادانی کے سفر میں وہ منزلیں شامل نہیں جو جارج بش کے دور میں طے کی گئیں اور جن کا خمیازہ آج پوری دنیا بھگت رہی ہے۔
یہاں میرا مقصد اس کتاب کے مندرجات کا تفصیلی جائزہ لینا نہیں ¾ اس تاریخی حقیقت کو پیش کرنا ہے جس کی نشاندہی بار برانے اپنے دیباچے میں بڑے مختصر اور آسان انداز میں کی ہے۔ وہ لکھتی ہیں۔
”وقت اور مقام کی قید سے آزاد یہ تاریخی عمل (phenomenon)ہر دور میں نظرآتارہا ہے کہ حکومتیں بڑی ثابت قدمی کے ساتھ ایسی پالیسیوں پر عمل پیرا رہی ہیں جو اُن کے اپنے مفادات کے خلاف تھیں۔ لگتا ہے کہ بنی نوع انسان دوسرے کسی شعبے میں اتنی غلطیاں نہیںکرتا جتنی غلطیاں حکمرانی میں کرتا ہے۔حکمر انی کے شعبے میں عقل و فہم کا عمل دخل خود بخود کم ہوجاتارہا ہے ۔ عقل و فہم سے مراد ہے ایسی فیصلہ سازی جو تجربے ¾ عام سوجھ بوجھ اور دستیاب معلومات پر مبنی ہو۔ یہ کتا ب لکھتے وقت میں اپنے آپ سے مسلسل پوچھتی رہی کہ ایسا کیوں ہے کہ اعلیٰ ذمہ داریوں پر فائز اور اعلیٰ اختیارات کے حامل لوگ زیادہ تر اس راستے پر چلنے سے گریزاں رہتے ہیں جس راستے کی نشاندہی عقل و منطق کرتی ہو اور جو حقیقی فائدے کا راستہ ہو۔؟ ایسا کیوں ہے کہ اقتدار آدمی کی قوتِ استدلال ¾ قوتِ متخیلہ اور قوتِ تجزیہ پر بھاری پردے ڈال دیتاہے۔؟ اپنی غلطیوں کا احساس حکمرانوں کو ہمیشہ تب ہوتا رہا ہے جب ان غلطیوں کے نتائج کی زد سے نکلنا اُن کے بس میں نہ رہا ہو۔ ٹرائے کے باشندوں نے دس سال بعد یونان کے خلاف جنگ اس لئے ہار دی کہ وہ لکڑی کے اس دیوقامت گھوڑے کو قلعے کے اندر لے آئے جسے یونانی پسپائی کا ڈرامہ کھیلتے وقت پیچھے چھوڑ گئے تھے۔ انہو ں نے ایک لمحے کے لئے بھی اپنی عقل استعمال کرکے اپنے آپ سے یہ نہ پوچھا کہ یونانیوں نے یہ گھوڑا بنایا کیوںتھا اور بناکر وہاں کیوں چھوڑ گئے تھے۔“
انسان کے پاس اپنی ” موجودہ “ غلطیوں سے سیکھنے کا تو وقت ہی نہیں ہوتا۔ اگر وہ سیکھ سکتاہے تو اُن غلطیوں سے سیکھ سکتا ہے جن کا ارتکاب ماضی میں ہوا۔ بار براٹچ مین نے بڑی تفصیل کے ساتھ ان واقعات کا تجزیہ کیا ہے جو عقل کا راستہ چھوڑ کر نادانی کا راستہ اختیارکرنے کی بدولت انسانی تاریخ میں پیش آتے رہے ہیں ۔
میں یہاں صرف اپنے ملک کی تاریخ کا ذکرکروں گا۔
بقیہ صفحہ نمبر 8پر ملاحظہ فرمائیں
ہمارے حکمران ماضی میں بھی نادانی کے راستے پر گامزن رہے۔اور آج بھی نادانی کے ہی راستے پر گامزن ہیں۔ ہوس ِ اقتدار یقینی طور پر بیشتر نادانیوں کی ماں ہوا کرتی ہے۔ پہلی مثال میں یہاں سکندر مرزا کی دوں گا۔ 7اکتوبر1958ءکوآئین توڑنے اور حکومت برخاست کرنے کا فیصلہ کرتے وقت انہوں نے ایک لمحے کے لئے بھی یہ بات نہ سوچی کہ مارشل لاءکے نفاذ سے وہ خود عضو ِمعطل بن جائیں گے اور حقیقی اور کُلی اختیار کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان کے پاس چلا جائے گا۔ صرف بیس روز بعد جنرل ایوب خان نے سکندر مرزا کوبھی اٹھا کر اسی کباڑ خانے میں پھینک دیا جس میں باقی پورا نظام پھینکا جاچکا تھا۔
یوں تو نادانیوں کی داستان بڑی طویل ہے مگر جن نادانیوں کی قیمت ان کا ارتکاب کرنے والوں نے بہت ہی بھاری ”ادا “ کی اُن کا ذکر یہاں ضرور ہوجانا چاہئے۔
1973ءکے آئین کے خالق جناب ذوالفقار علی بھٹو نے خود اس کے ساتھ جو سلوک کیا اس کااندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ جب وہ اقتدار سے فارغ کئے گئے تو آئین میں سات ترامیم کی جا چکی تھیں اور بیشتر ترامیم کے پیچھے ” اقتدارِ کلی “ کی مجنونانہ طلب کا رفرما تھی۔ مشہور ہے کہ جب نئے چیف جسٹس کے تقرر کا مرحلہ آیا تو انہوں نے ممکنہ امیدواروں کے بارے میں انٹیلی جنس رپورٹ طلب کی۔ ان کی نظرِانتخاب جس نام پر ٹھہری وہ نام دیانت داری اور اعلیٰ کردار کی شہرت سے ہر گز منسلک نہیں تھا۔ بھٹو مرحوم کو ایک ایسے چیف جسٹس کی ضرورت تھی جو اپنے فیصلوں میں ” منشائے سلطان“ کو شامل کرنے سے گریزاں نہ ہو۔ پھر جب نئے چیف آف سٹاف کے تقرر کا مرحلہ آیاتو بھٹو مرحوم کی نظرِ انتخاب جس معصوم اور ” بے ضرر“ چہرے پر پڑی اس کے بارے میں کون نہیں جانتا۔؟
تقریباً ایسی ہی غلطی میاںنوازشریف نے 1998ءمیں دہرائی جب انہوں نے جنرل کرامت کے جانشین کا تقرر میرٹ پر کرنے کی بجائے ایسے” عوامل “ کی بنیاد پر کیا جنہیں وہ اپنے اقتدار کے لئے سب سے بہتر سمجھتے تھے ۔ کون نہیں جانتا تھاکہ جنرل صاحب کی شامیں کیسی گزرتی تھیں ؟ اگر میاںصاحب تب یہ بات ہی یاد کرلیتے کہ وہ ایک متقی اور پرہیزگا ر جنرل کی شفقتوں کی بدولت آگے بڑھے تھے تو وہ جنرل پرویز مشرف کو 62اور63کے پیمانے پر ضرور پرکھتے۔ میں جانتا ہوں کہ 62اور63کا اطلاق پارلیمنٹ کی رکنیت پر ہوتا ہے مگر کیا کسی متقی اور پرہیزگار حکمران کو اپنا سپہ سالار مقرر کرتے وقت اس کا منہ نہیں سونگھنا چاہئے۔۔۔؟
سچ بڑا کڑوا ہوتا ہے۔ اور یہ سچ تو بڑا ہی کڑوا ہے کہ ہمارے حکمران یا حکمرانی کے امیدوار صرف اور صرف اپنی ہوسِ اقتدار کی تسکین سے دلچسپی رکھتے ہیں۔ انہوں نے ماضی کی غلطیوں سے سیکھنا ہوتا تو بہت پہلے سیکھ چکے ہوتے۔ صدر آصف علی زرداری کو یقین ہے کہ ایوان ِ صدر میں مزید پانچ برس گزارنے کا کوئی نہ کوئی راستہ نکال ہی لیں گے۔ جمہوریت کی سربلندی کے لئے وہ اپنے خاندان سے ہی اگلی قیادت کی فصل اگا رہے ہیں۔ فریال تالپور ان کی ہمشیرہ ہیں۔ بلاول فرزند ہیں۔ بختاور اور آصفہ بیٹیاں ہیں۔ اور سب ملک کو قیادت فراہم کرنے کے عزم سے سرشار ہیں ایسی ہی سرشاری میاںصاحب کے خاندان میں بھی نظر آتی ہے ۔ بڑے میاں صاحب اور چھوٹے میاں صاحب تو پہلے ہی اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں ¾ اب حمزہ شہباز شریف ¾ مریم نواز ¾ علی عمران اور کیپٹن صفدر وغیرہ تیاریاں پکڑ رہے ہیں۔سید یوسف رضا گیلانی کا پور ا خاندان بھی ملک و قوم کو قیادت فراہم کرنے کے جمہوری جذبے سے سرشار نظر آرہا ہے۔ اور خبریں یہ آرہی ہیں کہ راجہ پرویزاشرف کے خاندان میں بھی قوم کی خدمت کرنے کی تڑپ جاگ اٹھی ہے۔
میںنہیں جانتا کہ اس ملک میں کتنے ایسے خاندان ہیںجو مملکت ِ خداداد پاکستان کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں۔ ذکر صرف جرنیلوں کا آتا ہے۔ مگرجرنیل تو پھر بھی اپنی باری لے کر غائب ہوجاتے ہیں ۔ مگر یہ خاندان کب سے ملک و قوم کی خدمت کرتے چلے آرہے ہیں ؟
میں نہیں جانتا کہ جرنیلوں کی ڈکٹیٹر شپ اور ان خاندانوں کی ڈکٹیٹر شپ میں کتنا زیادہ فرق ہے۔ مگر یہ ضرور جانتا ہوں کہ تاریخ بڑی تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ جنرل کیانی نے چند روز قبل جو کچھ کہااس میں اُن سب کے لئے کوئی نہ کوئی پیغام ضرور تھا جو پاکستان کو موجودہ نازک دور میں داخل کرنے کے ذمہ دار ہیں۔میں یہاں کسی کا نام نہیں لوںگا۔
لیکن اپنے تمام اکابرین سے یہ ضرور کہوں گا کہ نادانی کے سفر کی ایک ہی منزل ہوا کرتی ہے۔ اور اگر ان سب نے اپنے قدم نہ روکے تو وہ منزل زیادہ دورنہیں۔۔۔

Scroll To Top