ریاست عوام کے تحفظ کی پوری صلاحیت رکھتی ہے:بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے ، عمران خان

  • قومی سلامتی کمیٹی اجلاس :وزیراعظم نے مسلح ا فوج کو بھارتی جارحیت یا کسی بھی مہم جوئی کا بھرپور جواب دینے کا اختیار دیدیا،عالمی برادری کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اورکشمیریوں کی امنگوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل میں کردار ادا کر نے کی ضرورت ہے، اعلامیہ
  • ریاست پاکستان پلوامہ واقعہ میں کسی صورت ملوث نہیں ، پاکستان نے واقعہ کی تحقیقات کیلئے مخلصانہ پیشکش کی اور توقع کرتا ہے کہ بھارت پیشکش کا مثبت جواب دے گا،تحقیقات اور ٹھوس ثبوت کی بنیاد پر پاکستان کی سرزمین استعمال کرنے میں کوئی ملوث پایاگیا تو سخت ترین ایکشن لیا جائے گا ، عمران خان

اسلام آباد(صباح نیوز)وزیراعظم عمران خان نے مسلح افواج کو بھارت کی جانب سے کسی بھی مہم جوئی یا جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دینے کا اختیار دے دیا،وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس جمعرا ت کو وزیر اعظم ہاوس میں ہوا، اجلا س میں وزیر خزانہ اسد عمر، وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر مملکت برائے داخلہ سمیت تینوں مسلح افواج کے سربراہان، حساس اداروں کے سربراہان اور دیگر سیکیورٹی حکام شریک ہوئے۔ اجلاس میں پلوامہ واقعہ کے بعد جیو سٹرٹیجک اورقومی سلامتی کی صورتحال پر غور کیا گیا، اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ۔ اجلاس کے بعد جاری اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں کہا گیا کہ ریاست پاکستان پلوامہ واقعہ میں کسی صورت ملوث نہیں ہے ، پلوامہ واقعہ کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد مقامی  سطح پر کیا گیا ۔ پاکستان نے واقعہ کی تحقیقات کیلئے مخلصانہ پیشکش کی اور دہشت گردی سمیت دیگر متنازعہ امور پر بھی مذاکرات کی پیشکش کی گئی ۔ پاکستان توقع کرتا ہے کہ بھارت پیشکش کا مثبت جواب دے گا۔تحقیقات اور ٹھوس ثبوت کی بنیاد پر پاکستان کی سرزمین استعمال کرنے میں کوئی ملوث پایاگیا تو سخت ترین ایکشن لیا جائے گا،تاہم بھارت کو سمجھنا ہوگا کہ مقبوضہ کشمیر کے لوگ اس حد تک کیوں چلے گئے ہیں کہ اب انہیں موت کا بھی خوف نہیں رہا ۔ اجلاس میں یہ بات نوٹ کی گئی کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کاظلم و تشددانتہائی نقصان دہ ہے ، عالمی برادری کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اورکشمیریوں کی امنگوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل میں کردار ادا کر نے کی ضرورت ہے۔ اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب میں کہاکہ نئے پاکستان میں ریاست اپنے عوام کے تحفظ کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ خطے میں دہشت گردی اور شدت پسندی بنیادی مسائل ہیں اس سے نہ صرف پورا خطہ بلکہ بالخصوص پاکستان زیادہ متاثر ہوا ہے ۔ پاکستان نے د ہشت گردی کے خلاف جنگ میں70 ہزار جانوں کی قربانی دی ہے ۔ قومی خزانے کا نقصان اس کے علاوہ ہے پاکستان نے د ہشت گردی سے نمٹنے کیلئے 2014ءمیں قومی لائحہ عمل تشکیل دیا ، معاشرے سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے مکمل خاتمے کو یقینی بنانا ہوگا ۔ پاکستانی معاشرے کو انتہا پسندی کے ہاتھوں یرغمال نہیں بننے دیں گے۔ وزیراعظم نے وزارت داخلہ اور سیکورٹی ایجنسیوں کو دہشت گردی اور انتہا پسندی میں ملوث عناصر کیخلاف فوری کارروائی کی ہدایت کی ہے، اس دوران وزیراعظم نے پاکستان کی مسلح افواج کو بھارت کی طرف سے کسی بھی قسم کی جارحیت یا مہم جوئی کا بھرپور جواب دینے کا اختیا دے دیا، اجلاس تین گھنٹے سے زائد جاری رہا۔

Scroll To Top