آئین سربلند یا ملک ؟

(یہ بحث بڑے عرصے سے جاری ہے کہ آئین پاکستان کے لئے ہونا چاہئے یا پاکستان آئین کے لئے ۔۔۔1973کا آئین اسی بحث کے ساتھ جُڑا ہوا ہے۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی اٹھارہویں ترمیم بھی۔۔۔ آصف علی زرداری کے فرزند بلاول نے دھمکی دی ہے کہ اگر اٹھارہویں ترمیم کو چھیڑا گیا تو وہ لانگ مارچ کریں گے۔۔۔ اس دھمکی نے متذکرہ بالابحث میں ایک نئی جان ڈال دی ہے۔۔۔ میں برملا لکھتا رہا ہوں کہ پاکستان کا سب سے سنگین مسئلہ 1973ءکا آئین ہے جس نے اِس ملک کو اس کی اساس سے دور کررکھا ہے۔۔۔اپنے اس موقف کی وضاحت کے لئے میں نے اپنے ایسے کالمز کا سلسلہ شروع کررکھا ہے جو پہلے بھی شائع ہوچکے ہیں۔ آج کا کالم ملاحظہ فرمائیں۔۔۔ )
طے پا چکا ہے کہ سابق صدر اور سابق آرمی چیف جنرل (ر)پرویز مشرف پر دو مرتبہ آئین توڑنے کی پاداش میں غداری کا مقدمہ چلے گا۔ اس سلسلے میں ضروری کارروائی کا آغاز ہوچکا ہے۔ 24جون 2013کو وزیراعظم میاں نوازشریف نے جب قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت کے اس فیصلے کا اعلان کیا تو ایوان میں کوئی آواز ایسی نہ تھی جو ان کی تائید اور حمایت میں بلند نہ ہوئی ہو۔ جس مکمل اتحاد کے ساتھ اپوزیشن اور حکومت نے جنرل (ر)پرویز مشرف کے معاملے میں ایک دوسرے کے ساتھ یک جہتی کا مظاہرہ کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ ایسی مکمل یک جہتی شاید مسئلہ کشمیر پر بھی نہ پائی جاتی ہو۔
اس صورتحال سے جنرل )ر(پرویز مشرف اور ان جیسی سوچ اور ان جیسے رویے رکھنے والے لوگوں کو کیا سبق حاصل کرنا چاہئے۔؟
اگر یہ مقدمہ آگے بڑھتا ہے اور امکان اسی بات کا ہے کہ یہ آگے بڑھے گا تو بے شمار سوالات ایسے اٹھیں گے جو مملکتِ خداداد پاکستان کی پوری تاریخ پر محیط ہوں گے اورجن کے جوابات بڑے تلخ اور ناپسندیدہ ہوں گے۔
مثال کے طور پر اس سارے معاملے میں مرکزی اہمیت ” آئین کی حرمت “ کی ہے۔ آئین کی سربلندی اور حرمت کی بات وطنِ عزیز میں تقریباً تمام کے تمام اکابرین کرتے ہیں۔ فطری اور منطقی طور پر ” حرمتِ آئین “ کے سب سے زیادہ پُر جوش نقیب اور پرچم بردار سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ہیں ۔انہوں نے بار بار ببانگِ دہل ارشاد فرمایا ہے کہ آئین کی پامالی کی ہر کوشش کو ناکام بنائیں گے اور آئین نے جن اقدار کی بھی سربلندی کی ضمانت د ے رکھی ہے ان کا تحفظ کرنے میں کوئی بھی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریںگے۔
بادی النظر میں یہ صورتحال نہایت خوش آئند ہے اور آئین کی سربلندی اور جمہوریت کے تسلسل اور فروغ کے ساتھ چیف جسٹس صاحب کی والہانہ وابستگی ہر لحاظ سے قابل ستائش ہے لیکن اس امکان کو بہرحال نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ حالات کا بہاﺅ یا حالات کا جبر کسی بھی مرحلے پر ایک نہایت نازک اورحساس سوال قوم اور اس کے اکابرین کے ذہنوں میں اٹھا سکتا ہے ` اور وہ یہ کہ ” برتری کسے حاصل ہے۔ آئین کو یا ملک کو۔۔۔؟
کچھ لوگ اس ضمن میں شاید یہ کہیں کہ اس سوا ل کا اٹھنا خارج از امکان سمجھا جاناچاہئے کیوں کہ آئین اور ملک میں تصادم کیسے ہوسکتا ہے ؟ لیکن یاد کرنے اور یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ملک ایک دائمی چیز ہے یعنی یہ ایک ایسی ہی اکائی ہے جس میں کسی تغّیر یا دراڑ کے بارے میں کوئی محب وطن سوچ بھی نہیں سکتا۔ لیکن جہاں تک ” آئین “ کا تعلق ہے وہ کوئی دائمی چیز نہیں۔ اس میں تغّیرو تبدّل کا امکان ہمیشہ موجود رہا ہے اور ہمیشہ قبول کیا گیا ہے۔
کہنا میں یہ چاہ رہا ہوں کہ حُب الوطنی کا تقاضہ یہی ہے کہ آئین ہمیشہ ملک کے تابع رہنا چاہئے اور اگرخدانخواستہ کوئی مرحلہ ایسا آئے کہ آئین کے تقاضے ملکی مفادات سے ٹکرا جائیں تو فضلیت آئین کی حفاظت کو نہیں ملک کی حفاظت کو ملے گی۔
بات کو آگے بڑھانے سے پہلے میں یہاں اپنے اس نقطہ ءنظر کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں ۔ پاکستان میں اس وقت چار آئینی صوبے ہیں ۔18ویں ترمیم کے بعد اِن صوبوں کو غیر معمولی خود مختاری دی جاچکی ہے۔ اگر عام انتخابات کے نتیجے میں کسی بھی صوبے پر کسی ایسی سیاسی جماعت کو فیصلہ کن غلبہ حاصل ہوجاتا ہے جو لسانی نسلی اور علاقائی تشخص کو قومی تشخص پر فضلیت دینا چاہتی ہے اور صوبے کی اسمبلی میں بڑی بھاری اکثریت کے ساتھ یہ قرارداد منظور کرلیتی ہے کہ آئندہ صوبہ ایک الگ اور جداگانہ مملکت کادرجہ رکھے گا تو وفاق کا ردعمل کیا ہوگا۔؟ کیا اس صورت میں ملک کی سا لمیت کے اصول کو سامنے رکھا جائے گا یا متذکرہ صوبے کے عوام کے منتخب نمائندوں کے اکثریتی فیصلے کا احترام کیا جائے گا۔؟
کچھ اصحاب کو اگر یہ صورتحال امکانات کے دائرے سے باہر نظر آتی ہے تو انہیں یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ جو بات ممکنات کے دائرے سے باہر نہ ہو وہ امکانات کے دائرے سے بھی باہر نہیں ہوتی۔
تو ہمیں آئین کی حتمی بالادستی کے تصور کو ایمان کا درجہ ہر گز نہیں دینا چاہئے۔
ایک صورت میں ہمارا آئین حتمی بالادستی کا حامل قرار پاسکتا تھا۔ اگر یہ قراردادِ مقاصد میں متعین کردہ اس بنیادی شرط پر پورا اترتا کہ اس کی تمام شقیں قرآن اور سنت کے اصولوں سے مطابقت رکھیں گی اور اس کی کوئی شق ” روحِ قرآن“ سے متصادم نہیں ہوگی۔
یہ درست ہے کہ آئین کے دیباچے میں آئین کو قرآنی تعلیمات کا پابند بنایا گیا ہے مگر کیا آئین کی حرمت اور فضیلت کے نقیب یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ آئین کی کوئی شق قرآنی تعلیمات سے متصادم نہیں۔؟ اگر کسی کے ذہن میں ایسا کوئی دعویٰ موجود ہے تو اس کی یاداشت کو تازہ کرنے کے لئے میں یہاں اس شق کا ذکر کروں گا جس کی رو سے صدر زرداری کو این آر او کے فیصلے پر عملدرآمد والے کیس میں مکمل استثنیٰ حاصل رہا ہے۔ کیا قانونِ الٰہی جرم و سزا کے معاملے میں کسی بھی فرد کو ” استثنیٰ“ کی سہولت فراہم کرتا ہے ؟ میرے خیال میں اس سوال کا جواب آج اس قوم کو اس لئے ضرور ملنا چاہئے کہ ملک کی تاریخ میں پہلی بار آئین سے انحراف کو ملک سے غداری قرار دینے کا مقدمہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت میں چل رہا ہے۔ اور چل بھی ایک ایسے شخص کے خلاف رہا ہے جو کل تک اس ملک کا صدر اور آرمی چیف تھا۔!
میرا مقصد یہاں جنرل (ر)پرویز مشرف کا دفاع کرنا نہیں ۔ موصوف نے اپنے عہدِ حکومت میں ایسے ایسے ” کارہائے زریں “ انجام دیئے کہ اگر یہ کہاجائے تو بے جا نہیں ہوگاکہ آج ملک دہشت گردی کے جس عفریت کا سامنا کررہاہے وہ موصوف کے فیصلوں اور اقدامات کا ہی نتیجہ ہے۔ مگر یہ ایک الگ موضوع ہے ۔ یہاں معاملہ ” آئین سے انحراف “ کا ہے۔
اور میں اس ضمن میں نقطہ ءنظر یہ پیش کرنا چاہتا ہوں کہ جس آئین کی حرمت اور سربلندی کی باتیں اس قدر جوش و خروش کے ساتھ کی جارہی ہیں وہ خود اپنے دیباچے کی نفی کرتا ہے۔اگر یہ آئین اپنے دیباچے کی اس بنیادی شرط پر پورا اتر رہا ہوتا کہ اس کی کوئی شق قرآن و سنت کے قوانین اور تقاضوں سے متصادم نہیں ہونی چاہئے تو میں سمجھتا کہ اس سے انحراف کو واقعی ملک سے غداری کے زمرے میں رکھا جانا چاہئے تھا۔
لیکن یہ تو ایک ایسا آئین ہے جس کے جائز ہونے پر بذات خود ایک بڑا سوالیہ نشان لگا ہواہے۔
کیا اسے بنانے میں آئین سازی کے تمام بنیادی تقاضوں کو سامنے رکھا گیا تھا۔ ؟ کیا اسے بنانے والا ایوان اسے بنانے کا اخلاقی اختیار رکھتا تھا ؟ کیا اس کی منظوری کے لئے اسے ریفرنڈم کے لئے پیش کیا گیا ؟
ان سوالوں کا دیانت دارانہ جواب حاصل کرنے کے لئے ہمیں ان عام انتخابات کی طرف جانا چاہئے جن کے نتائج 14اگست1947ءکو معرضِ وجود میں آنے والے پاکستان کے دو لخت ہونے کا باعث بنے تھے۔ کیا اس حقیقت سے انکار کیا جاسکتا ہے کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد اُس ایوان کی آئینی اور اخلاقی حیثیت خودبخود ختم ہوگئی تھی جو 1970ءکے عام انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونا تھا مگر عملی طور پر قائم نہ ہوسکا۔؟ دوسرے الفاظ میں جس ایوان یا پارلیمنٹ نے یہ آئین بنایا اس کا کوئی اخلاقی جواز اور قانونی وجود نہیں تھا۔
ہونا یہ چاہئے تھاکہ ” نظریہ ءضرورت “ کے تحت برسرِاقتدار آنے کے بعد جناب ذوالفقار علی بھٹو اپنے ” غیر معمولی اختیارات “ نئے حالات کے پیش نظر نئے انتخابات کرانے کے لئے استعمال کرتے۔ اوریوں جو پارلیمنٹ معرضِ وجود میں آتی وہ ملک کو نیا آئین دیتی جسے عوام کی منظوری کے لئے باقاعدہ ریفرنڈم کے لئے پیش کیا جاتا۔پاکستان کا اصل المیہ شروع سے ہی Legitimacyکا فقدان اور بحران رہا ہے۔
1973ءکے آئین سے پہلے بھی پاکستان کو د و آئین ملے تھے۔ ان کے ساتھ اگر جنرل یحییٰ خان کے ایل ایف او (لیگل فریم ورک آرڈر )کو بھی شامل کرلیاجائے تو مناسب ہوگا۔
1956ءکا آئین جنرل ایوب خان کی پشت پناہی سے جنرل سکندر مرزا نے توڑا۔ اسے توڑنے کی ذمہ دار ” کابینہ “ میں ایک شخصیت بھٹو مرحوم کی بھی تھی جنہوں نے وہ آئین بنوایا جس کی حرمت کا تحفظ کرنے کی قسم ہماری موجودہ پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ نے کھا رکھی ہے۔
اس کے بعد جو آئین ملک کو فیلڈ مارشل ایوب خان نے دیا اسے جنرل یحییٰ خان نے توڑا اور اس کی جگہ جنرل موصوف کے لیگل فریم ورک آرڈر نے لے لی۔
اسی لیگل فریم ورک آرڈر کی چھتری کے نیچے موجود آئین نے جنم لیا جو 24ترامیم کے بعد اپنی حالیہ شکل میں پایا جاتا ہے۔ گویا اگر یہ کہاجائے تو غلط نہیں ہوگا کہ اس آئین نے بھی بنیادی طور پر ” نظریہ ءضرورت “ کی کوکھ سے جنم لیا تھا۔
تاریخ کے ایک ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے میں یہ دعویٰ کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی منشاءکے بعد اگر کسی چیز کو انسانی تہذیب میں بنیادی اہمیت رہی ہے تو وہ ” نظریہ ءضرورت “ ہے۔
اگر قدرت کو اس قوم کی بہتری منظور ہوئی تو ایک بار پھر ” نظریہ ءضرورت “ حرکت میں آئے گا اور ہمیں بالآخر ایک ایسا آئین ملے گا جس سے انحراف واقعی ملک سے غداری کے مترادف ہوگا۔

Scroll To Top