گردے کے کینسر میں مبتلا مریضوں کے لیے خوشخبری

دافع کینسر ادویات کے ساتھ امیونوتھراپی دینے سے گردے کے کینسر کا خاتمہ ممکن ہے، محققین فوٹو : فائل

 لندن: ماہرین کینسر نے دعویٰ کیا ہے کہ دافع کینسر ادویات کے ساتھ امیونو تھراپی گردے کے کینسر میں مبتلا مریضوں کے علاج میں نہایت کامیاب ثابت ہوئی ہے۔

سائنسی جریدے نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہونے والے دو علیحدہ علیحدہ مقالوں میں گردے کے کینسر کے علاج میں امیونوتھراپی کے کردار کے حیرت انگیز نتائج سامنے آئے ہیں۔ جس سے گردے کے کینسر کے مکمل علاج کی امید پیدا ہوگئی ہے۔

دونوں تحقیقی مقالوں میں گردے کے مریضوں کو امیونوتھراپی کو روایتی دافع کینسر ادویات کے ساتھ دیا گیا، جس سے ٹیومر ختم ہوگیا اور مریضوں کو کیمو تھراپی کی ضرورت نہیں رہی جب کہ امیونو تھراپی کے بغیر دی جانے والی دافع کینسر ادویات اتنی موثر اور کارگر ثابت نہیں ہوئیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ مضر اثرات نہ رکھنے والی دو قسم کی تھراپٹک ادویات کا استعمال موزی امراض میں کیا جا سکتا ہے۔ دافع کینسر ادویات اور امیونوتھراپی جسم میں الگ الگ طریقے سے کینسر کے خلاف محاز کھولتے ہیں۔ اس طرح دونوں ایک دوسرے کے اثرات زائل کرنے کا باعث نہیں بنتے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دافع کینسر کی تیر بہ ہدف ادویات ایسے اجزاء پر مشتمل ہوتی ہیں جو کینسر کی نمو کا باعث بننے والے مالیکیول کو روک دیتی ہیں، اس طرح ٹیومر کی نمو رک جاتی ہے اور کینسر کو پھیلنے سے روکا جاسکتا ہے جب کہ امینو تھراپی جسم کے قوت مدافعت میں اضافے کا باعث بنتی ہیں اس طرح دہرے عمل سے کینسر کا خاتمہ ممکن ہوجاتا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل دافع کینسر ادویات کا امیونو تھراپی کے ساتھ سر اور گردن کے کینسر کے علاج میں کامیاب کمبینیشن ثابت ہوچکا ہے تاہم گردے کے کینسر میں اس کے مثبت اثرات پہلی مرتبہ سامنے آئے ہیں۔

Scroll To Top