دیگر کردار بھی بے نقاب ہونے چاہئیں

معروف انگریزی روزنامہ میں قومی سلامتی بارے جو منفی خبر شائع ہو ئی اس پس منظر میں وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات پرویز رشید سے استعفی لینا اہم پیش رفت ہے۔ حال ہی میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف اور ڈی جی ایس آئی لفٹینٹ جنرل رضوان اختر کے ساتھ وزیراعلی پنچاب شہبازشریف، وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی ملاقات ہوئی ۔آئی ایس پی آر کی جانب سے اس بات چیت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا کہ حکومتی وفد نے آرمی چیف کو قومی سلامتی کے اجلاس کی خبر لیک ہونے بارے تفصیلات سے آگاہ کیا“۔دوسری جانب یہ بتانابھی اہم ہے کہ ڈان کے صحافی سیرل المیڈاکی خبر کی تردید عکسری قیادت ، وزیراعظم ہاوس اور وزیراعلی پنجاب شہباز شریف سمیت سب ہی زمہ داروں کی جانب پہلے ہی جاچکی۔
وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات پرویزرشید سے استعفی لیے جانے کی جو وجوہات سرکاری اعلامیہ میں بیان کی گئیں وہ بھی قابل غور ہیں مثلا یہ کہ ”اب تک کی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ وفاقی وزیراطلاعات ونشریات کی کوتاہی سے پیش آیا اس لیے انھیں اپنا عہدہ چھوڈنے کے لیے کہا گیا ہے“۔
حالیہ سالوں میں ملک میں یہ رجحان تیزی سے فروغ پذیر ہے کہ اپنے ہی دفاعی اداروں پر ایسی تنقید کی جائے کہ عملا دشمن کی زباںمعلوم ہو۔ تسلیم کہ قومی مفادات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اہم معاملات بارے اظہار خیال کی میڈیا کو اجازت ہونی چاہے مگر ایسا بھی نہ ہو کہ اہل سیاست یا صحافت اپنی مقررہ حدود وقیود کو پامال کرتے پھریں ۔ کسی بھی زمہ دار حکومت شخصیت اور سنجیدہ صحافی کو یہ سمجھانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہے کہ اس کی حدود وقیود دراصل ہیں کیا۔ بادی النظر میںیہ محض اتفاق نہیں کہ میڈیا میں اعلی سرکاری عہدیداروں سے منسوب ایسی خبر شائع ہوجائے جو بدخواہوں کے موقف کو تقویت بخشے۔بلاشبہ معاملہ یقینا سنگین ہے ہم سب جانتے ہیں کہ قومی مفاد کے تحفظ کے لیے سیاسی وعسکری قیادت کے موقف میں اختلاف حیران کن نہیں مگر اس کا پتہ بہرکیف لگانا ہوگا کہ آخر کیوں اور کیسے قومی اداروں میں بدگمانیاں پیدا کرنے کی منعظم کوشیش کی گی۔
وطن عزیز کو ان گنت مسائل کا سامنا ہے۔افسوس یہ ہے کہ بشیتر مسائل اسی طبقہ کے پیدا کردہ ہیں جو ذاتی اور خاندانی مفادات کا اس قدر اسیر ہے کہ اسے ملک وملت کی کوئی پرواہ نہیں۔ اب تو اس سازشی تھیوری پر یقین کرنے والے لوگ بھی کم نہیں کہ اہل اقتدار کی ایک ہی پالیسی ہے کہ ان کی کوئی پالیسی نہیں۔حصول اقتدار کواپنے مفادات کے لیے بے دری سے استمال کرنے والوں کو کسی صورت کوئی پرواہ نہیں کہ پاکستان کا عام شہری کس کرب میں زندگی گزار رہا۔ وعدے اور نعرے لگانے والوں کو ا س سے بھی کوئی غرض نہیں کہ وہ عوام میں کب اور کہاں اپنا بھرم کھو چکے ۔ آج حالات یہ ہیں کہ حقیقی معنوں میں عوامی مشکلات حل کرنے کی بجائے پرنٹ اور الیکڑانک میڈیا میں قومی خزانے سے چلائے جانے والے ایسے اشتہاروں سے کام چلایا جارہا ہے جن کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔
مبالغہ آرائی سے کام لینے والے نہیں سمجھ رہے کہ عام پاکستانی صرف اور صرف کام چاہتا ہے۔منتخب سمجھی جانے والی حکومتوں کی بدترین کارکردگی کے بعد وہ جمہوریت اور آمریت کے درمیا تقابل کرنے پر مجبور ہوچکا۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے پانچ سال ہوں یا مسلم لیگ ن کے ساڈھے تین سال ایسے اقدمات کسی نے نہیں اٹھائے جو ان کروڈوں پاکستانیوں کی مشکلات میں ڈرامائی تبدیلی لاتے جو طویل عرصے سے اہل اقتدار کی جانب امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ۔
ڈان میں چھپنے والی خبر دراصل اس مائنڈ سیٹ کو بے نقاب کرگی کہ کیسے منفی اقدمات اٹھا کر مثبت کاموں سے دور ہوا جارہا۔ مغرب کو خوش کرنے کی کوشیش کرنے والے بھول رہے کہ سات سمندر براجمان ان کے دوست محض اپنے مفادات کے لیے انھیں استمال کررہے ۔پوچھا جانا چاہے کہ کیا یہ سچ نہیں کہ دوست نما دشمن قومی اداروں کو ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑا کرکے اپنا کھیل کامیاب کرنے کی کوشیش میں ہیں۔ یقینا یہ تبصرہ غلط نہیں کہ انگریزی اخبار کی خبر محض ٹریلر ہے۔ اگر اس رجحان کو سختی سے نہ دبایا گیا تو آنے والے دنوں میں ایسی ایسی خبریں بھی لگ سکتی ہیں جو پاکستان کی مشکلات میںکئی گنا اضافہ کرڈالیں۔
یہ امر خوش آئند ہے کہ مذکورہ معاملہ کے حقائق جاننے کے لیے سول اور ملڑی ایجنسیوں کی مشترکہ ٹیم تشکیل دی گی جس میں اس منفی خبر کو لگانے والوں کے ددپردہ مقاصد کا کھوج لگانے کے علاوہ ان کرداروں کو بھی بے نقاب کیا جائیگا جو اس سارے کھیل میں پچھے رہ کر کردار ادا کرتے رہے۔ جان لینا ہوگا کہ پاکستان کا قومی مفاد ہر ادارے اور شخصیت سے بڑھ کر ہے۔ اس دھرتی کے تحفظ کے لیے ایسے اقدمات اٹھانے سے کسی صورت گریز نہیںکرنے چاہیں جو لازم ٹھرے۔ وفاقی وزیراطلاعات ونشریات پرویز رشید کے جانے کے بعد قوی امکان ہے کہ اس سازش کے پچھے موجود کئی اور چہرے بھی بے نقاب ہوں۔
شومئی قسمت سے یہ کہنا غلط نہیں کہ اقتدار کے ایوانوں میں میں موجود بعض عناصر ضرب عضب کی کامیابیوں کو کم کرنے کے مشن پر بھی کاربند ہیں۔ لہذا اس معاملہ کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانا ہوگا تاکہ مسقبل قریب میںکوئی اور ایسی جرات نہ کرسکے۔ دراصل تیزی سے بدلتے علاقائی اور عالمی منظر نامہ میں ملک کی حزب اقتدار اور حزب اختلاف کو اخلاص اور بصیرت دونوں سے کام لینے کی ضرورت ہے۔

Scroll To Top