دشمنوں کے نشانے پر پاکستان کا استحکام اور اسلام کا امیج دونوں ہیں ۔۔۔ 09-12-2009

راولپنڈی، پشاور اور پھر لاہور میں دہشت گردی کے ہولناک اور ہلاکت خیز واقعات کے بعد مجھے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کا جو چنگھاڑتا ہوا ” ردعمل“ سننے کا موقع ملا ہے اس نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ ” برین واشنگ“ ان بدبختوں کی نہیں کی جارہی جو ” جنت “ اور ” حوروں“ کے ” لالچ“ میں یہ انسانیت سوز جرائم کررہے ہیں بلکہ ان ” روشن خیال اہل فکرودانش“ کی جو آگ اور خون کے اس کھیل کو ” انتہا پسند اسلام“ کے ساتھ نتھی کرنے کے علاوہ اور کسی امکان پرغور کرنے کے لئے تیار نہیں۔
الطاف حسین صاحب نے ایک بار پھر اپنا یہ موقف دہرایا ہے کہ وحشت و بربریت کے اس کھیل کے پیچھے کوئی غیر ملکی ہاتھ نہیں ، کوئی بھارتی ، اسرائیلی اور امریکی سازش نہیں ، پاکستان کو عدم استحکام کا نشانہ بنانے کا کوئی ” پاکستان دشمن“ منصوبہ نہیںبلکہ معصوم بچوں، عورتوں ، بوڑھوں اور جوانوں کی دل ہلا دینے والی ان ہلاکتوں کے پیچھے صرف ” جنت “ اور ” حوروں“ کا لالچ کارفرما ہے۔
یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ مغرب کے مذموم پروپیگنڈے کا نشانہ ہمیشہ اسلام کا ” تصور آخرت“ رہا ہے۔ آج بھی وہ اسی ” تصور آخرت“ پرکیچڑ اچھال کر اسلام کو ایک ایسے دین کے طور پر پیش کررہا ہے جس پر ” انتہائی سخت“ ایمان رکھنے والے لوگ ہی ایسے انسانیت سوز ” کارنامے“ انجام دیا کرتے ہیں جن کا نشانہ آج کا پاکستان بنا ہوا ہے۔
میں پورے دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ دہشت گردی کی موجودہ لہر کے پیچھے پاکستان کوعدم استحکام کا شکار بنانے کی ایک مذموم بیرونی سازش ہے ۔ الطاف حسین سے میںصرف یہ پوچھناچاہوں گا کہ جو لوگ جنت اور حوروں کے لالچ میں یہ گھناﺅنا کھیل کھیل سکتے ہیں )ان کے بقول(کیا وہ ڈالروں وغیرہ کے لالچ میں اپنے ضمیروں کے سودے نہیںکرسکتے ؟ کون نہیںجانتا کہ برین واشنگ کرنے اور ایمان خریدنے کی جتنی صلاحیت ڈالروں میں ہے اتنی کسی اور چیز میں نہیں؟
میں سمجھتا ہوں کہ دشمنوں کے نشانے پر صرف پاکستان کا استحکام ہی نہیں اسلام کا امیج بھی ہے۔

Scroll To Top