جھوٹ اور جرم کی کوکھ سے ہمیشہ نئے جھوٹ اور نئے جرم پیدا ہوتے ہیں

28اکتوبر 2016ءکو جو کچھ ہوا آپ نے دیکھ بھی لیا اور سن بھی لیا۔ اور یہ کہانی اگلے چند روز تک جاری رہے گی۔ یہ صرف پانا مہ لیکس کی کہانی نہیں جس کا آغاز دنیا بھر میں 3اپریل 2016ءکو ہوا تھا۔ یہ کہانی اُس دن اور اس لمحے سے شروع ہوتی ہے جب لندن کے ایک امیر علاقے میں شریف خاندان نے نہایت مہنگے اپارٹمنٹ خریدے تھے۔ اُس دن کا تعین شریف خاندان کے ہر فرد نے الگ الگ کیا ہے لیکن ہم اس ضمن میں چودھری نثار علی خان اور صدیق الفاروق کی گواہی کو مصدقہ مان لیتے ہیں۔ دونوںنے ٹی وی کیمروں کے سامنے جو بیانات دیئے ان کے مطابق ان اپارٹمنٹس کی خریداری وزیر اعظم میاں نواز شریف کے پہلے دور حکومت کے دوران یا فوراً بعد ہوئی۔ اور یہ دور وہ تھا جب ییلو کیپ سکیم آئی اور موٹر وے کے منصوبے کا آغاز ہوا۔ گویا جس سرمائے سے متذکرہ فلیٹ یا اپارٹمنٹ خریدے گئے وہ میاں نواز شریف کے پہلے دور حکومت کی آمدنی کاحصہ تھا۔ یہ سرمایہ لندن کیسے منتقل ہوا اور کیا اس پر ٹیکس ادا ہوا، ان سوالات کے جواب اگر میاں نواز شریف کے پاس موجودہیں تو انہیں کسی بھی صورت میں پانامہ لیکس کے تحقیقاتی عمل سے فرار اختیار نہیں کرنا چاہیے تھا۔ پاکستان کا ہی نہیں دنیا کا کوئی بھی ذی شعور شخص یہ بات نہیں مانے گا کہ میاں صاحب کے صاحبزادوں نے دورِ بلوغت میں داخل ہونے سے پہلے ہی الٰہ دین کا کوئی ایسا چراغ حاصل کر لیاتھا جس کی بدولت وہ راتوں رات امیر کبیر بن گئے۔
میاں صاحب نے خواب و خیال میں بھی نہیں سوچا ہوگا کہ پاناما کے سینے میں چھپے ہوئے راز، یوں افشا ہوں گے جیسے جسم کے کسی حصے کو کاٹا جائے تو اس سے خون نکلتا ہے۔ یہ تو کہاں ہے جدید دور کی صحافت کا کہ اس سے منسلک ”مہم جو“ سمندر کی تہہ میں چھپے ہوئے خزانے بھی ڈھونڈھ نکالتے ہیں۔
میاں صاحب اب ”پاناما“ کی گھنٹی اپنے گلے سے نہیں اتار سکتے ۔ یہ الفاظ چوہدری اعتزاز احسن کے ہیں۔
اب بھی وقت ہے کہ میاں صاحب حقائق کا سامنا کریں اور وہ راستہ اختیار نہ کریں جو اترائی پر ایسی گاڑی اختیار کرتی ہے۔ جس کے بریک فیل ہو جائیں۔
میں اس ضمن میں اکثر باربرا ٹچمین کی مشہور کتاب The March of Folly (نادانی کا سفر) کی مثال دیا کرتا ہوں ۔ اس کتاب میں مصنفہ نے تاریخ کے ایسے واقعات جمع کئے ہیں جن کے مرکزی کرداروں کے سامنے عقل و دانش کا راستہ موجود تھا لیکن اختیار انہوں نے وہ راستہ کیا جو انہیں تباہی کی طرف لے گیا۔
اس کتاب کو پڑھ کر مجھے اس مقولے کی صداقت کا یقین ہوا کہ تاریخ کاسب سے بڑا سبق یہ ہے کہ تاریخ سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا جاتا۔
کوشش تو میاں صاحب یہ کر رہے ہیں کہ ملک کو بند گلی میں لے جائیں لیکن ملک ان کے خوابوں سے بہت بڑا ہے۔ بند گلی میں وہ خود داخل ہو رہے ہیں بلکہ ہو چکے ہیں۔
آدمی کی سب سے بڑی بدقسمتی ہو تی ہے کہ وہ ایک جھوٹ اور ایک جرم کو چھپانے کے لیے جھوٹ در جھوٹ بولتا چلا جاتا ہے۔ اور ہر نئے جھوٹ کے ساتھ وہ ایک نیا جرم بھی کرتا ہے۔

Scroll To Top