قتل کا یہ مقدمہ کس کے خلاف قائم ہونا چاہئے ؟ 11-06-2014

kal-ki-baat
کراچی ایئرپورٹ پر دہشت گردوں کے مجرمانہ حملے کے خلاف پاک فوج ` رینجرز ` ایئرپورٹ سکیورٹی پولیس اور کراچی پولیس کے جوانوں نے مزاحمت کی ناقابلِ شکست دیوار بن کر قوم سے بجا طور پر خراج تحسین وصول کیا ہے۔ بلاشبہ یہ حملہ پاکستان کے دشمنوں نے پاکستان کے بین الاقوامی وقار اور پاکستان کی قومی معیشت پر کیا۔ ہمارے یہ دشمن کون ہیں ؟ کیا ہم نام نہاد تحریک طالبان پاکستان کے ” اقرارِ جرم “ پر قناعت کرکے پاکستان دشمن ان قوتوں کے ایجنڈے سے چشم پوشی اختیار کرلیں جو اس اسلامی جمہوریہ کو بھرپور عدم استحکام اور انتشار کا نشانہ بنائے رکھنے کا تہیہ کئے ہوئے ہیں ؟ اِن سوالوں کا جواب میں آئندہ دوں گا۔ یہاں میں اپنا قلم صرف ان پریشان کن سوالات پر مرتکز اور محدود رکھنا چاہتا ہوں جو ہمارے ریاستی ڈھانچے کے خوفناک انحطاط کے بارے میں اٹھے ہیں۔ایک بڑا سوال تو یہی ہے ` اور یہ آپ کے ذہن میں بھی ہوگا کہ کیا ہماری معیشت پر دس دہشت گردوں نے جو حملہ کیا وہ اسی قدر آسانی سے ہوسکتا تھا ` ہوسکتا ہے اور ہو سکے گا جتنی آسانی سے 8جون کی رات کو ہوا ؟ اگر اس سوال کا جواب اثبات میں ہے تو کیا ہم یہ دعویٰ کرنے میں حق بجانب ہیں کہ ہمارا دفاع ناقابلِ تسخیر ہے ؟ اگر نہیںتو کیا ملک کے اندر احساسِ تحفظ پیدا کرنے اور قائم رکھنے کی ذمہ داری بھی ہماری فوج کی ہی ہے اور ہمارے ” سِول ڈھانچے “ کا کام مہنگے ” سفید ہاتھی “ بنے رہنے کے سوا اور کچھ نہیں ؟
دوسرا بڑا سوال یہ اٹھ چکا ہے کہ کیا دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت کا انفراسٹرکچر اس قدر کمزور پڑچکا ہے کہ اس کے پاس اتنے بڑے ایئرپورٹ کے ایک حصے میں لگی آگ بجھانے اور ملبہ اٹھانے کا بھی ہنگامی انتظام نہیں ؟
اگر یہ کہانی انفراسٹرکچر کی زبوں حالی کی ہے تو اربوں کھربوں کی لاگت کے” منفعت بخش“ ٹھیکے دینے والی حکومت کے اکابرین کو تاریخ کے کٹہرے میں ملزموں کی طرح کھڑا ہونا پڑے گا ۔ اور اگر یہ داستان مجرمانہ بے حسی اور شرمناک غفلت کی ہے تو کچھ گردنوں میں پھندوں کا کسا جانا لازمی ٹھہرچکا ہے۔
وہ سات بدقسمت جو انفراسٹرکچر کی تہی دامنی یا حکومتی بے حسی اور غفلت کا شکار ہو کرزندہ جل گئے ` اُن کے قتل کا مقدمہ کس کے خلاف قائم ہونا چاہئے۔؟

Scroll To Top