میاں شہبازشریف کو خواجہ سرائی کے صلے میں حرم کی پاسبانی مل گئی ہے

aaj-ki-baat-newآج کی بات

انگریزی میں ایک لفظ ہے Farceجو ایک صنفِ ادب بھی ہے۔ اس کا صحیح اُردو ترجمہ تلاش کرنے کی جدوجہد میں مجھے ” لغت درلغت“ کا مطالعہ کرنا پڑا۔ جہاں تک طنز و مزاح کا تعلق ہے وہ تو witاور Satireکے زمرے میں آتا ہے۔ Humourبھی اس میں شامل کرلیں مگر Farceبس farceہے۔ سمجھانے کے لئے کہا جاسکتا ہے کہ ایسا ناٹک جس پر نہ تو ہنسی آئے اور نہ ہی رونا۔ نہ کوئی بات عقل میں آئے اور نہ کوئی بات عقل سے باہر ہو۔
مزاح نگار تو بہت بڑے بڑے گزرے ہیں۔ انگریزی میںPG wodehouseاپنی مثال آپ تھے۔ اُردو میں مشتاق یوسفی کی کوئی نظیر نہیں ۔ ویسے عظیم بیگ چغتائی ` شفیق الرحمان ` پطرس بخاری اور کرنل محمد خان بھی اپنی اپنی جگہ ”کوزے میں بند بحرہائے طنزو مزاح “ تھے مگر بات میںFarceکی کررہا ہوں جس کی فوری مثال اگر میرے ذہن میں آتی ہے تو شیریڈان کا ڈرامہ School For Scandal ہے۔
ایک عمر گزارنے کے بعد مجھےFarceدیکھنے کا عملی تجربہ ہوا ہے اور یقین کریں میں لغوی معنوں میں انگشت بدنداں ہوں۔
انگلی ہونٹ پر رکھ کر کسی چیز کو دیکھا جائے تو حیرت اور بے یقینی کا اظہار ہوتا ہے۔ اگر انگلی دانتوں میں دبائی جائے تو یہ معلوم کرنا ہوتا ہے کہ جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ حقیقت ہے یا خواب۔
آج کل میں ہی نہیں قوم کا ہر باشعور شخص انگشت بدنداں ہے۔ انگلی بار بار کاٹی جارہی ہے مگر انکشاف یہی ہوتا ہے کہ خواب نہیں۔۔۔ میاں شہبازشریف کو درحقیقت کرپشن کا قلع قمع کرنے کے لئے کرپشن کا کھوج لگانے والی پارلیمانی کمیٹی کا چیئرمین بنا دیا گیا ہے۔
اس ا نوکھے اور تّحیر خیز واقعے کا فوری ردعمل یہ سامنے آیا ہے کہ اچھے پبلشرز نے تمام ڈکشنریوں کی ازسرنو اشاعت کے انتظامات شروع کردیئے ہیں۔ خاص طور پر وہ صفحہ جہاں ” کرپشن“ لفظ کا مفہوم بیان کیا گیا ہے وہ تبدیل کرنا ضروری ہوگیا ہے۔
یہ ساری صورتحال Farce سے کم نہیں۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ School For Scandal سے بھی بڑی Farceنے جنم لیا ہے تو شاید غلط نہ ہو۔ اس Farceکی تصنیف کا سہرا مشترکہ طور پر پاکستان کی پارلیمنٹ کے سر پر ہے۔ اور وزیراعظم پاکستان عمران خان چونکہ لیڈر آف دی ہاﺅس ہیں اس لئے اس Farceکو تخلیق کرنے کا کریڈٹ انہیں بھی ملنا چاہئے۔
انہوں نے توقع باندھ لی ہے کہ شہبازشریف دنیا کی پہلی بلی ہوگی جو دودھ نہیں پئے گی۔ ان کی رکھوالی میں دودھ اسی قدر محفوظ رہے گا جس قدر محفوظ پرانے زمانے کی شہزادیوں کی عزتیں خواجہ سرا غلاموں کے ہاتھوں محفوظ رہا کرتی تھیں۔ یہاں اس بات کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا کہ کچھ غلام خواجہ سراﺅں کا بھیس بدل لیا کرتے ہوں گے۔
یہاں مجھے حیدر آباد ` دکن کے ایک پرانے حکمران کا ایک حکومتی اصول یاد آرہا ہے۔
” میں حرم سرا کی کوتوالی کے لئے کسی شخص کا تقریر کرنے سے پہلے یقین کرلیا کرتا ہوں کہ کہیں وہ عربی النسل تو نہیں۔ اور جب مجھے خزانے کا منتظم مقرر کرنا ہوتاہے تو یہ یقین کرنا لازمی ہوتا ہے کہ کہیں وہ افغان نسل سے تو نہیں۔۔۔

Scroll To Top