کاش کہ ہم میں سے ہر ایک کو ایک سپاہی کی زندگی جینا اور ایک سپاہی کی موت مرنا نصیب ہوتا ! 10-06-2014

kal-ki-baat
پیغمبری کے بعد اللہ تعالیٰ نے سب سے بڑا رتبہ اس سپاہی کو دیاہے جو اس کی وحدانیت ` اس کی ربوبیت اور اس کی حاکمیت کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتا ہے۔ اپنی اِس سٹیٹمنٹ کی صداقت ثابت کرنے کے لئے میں خود پیغمبر اسلام اور ہادی ءبرحق و مطلق حضرت محمد ﷺ کی مثال دینا کافی سمجھتا ہوں۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ آنحضرت کی حیات مبارکہ کا پورا مدنی دور سپاہیانہ شان سے عبارت تھا ؟
آپ یقینی طور پر پہلے پیغمبر تھے مگر ہجرت کے بعد جب آپ نے سپاہیانہ زندگی اختیار کی تو آپ کے مبارک ہاتھوں سے تسخیرِ کائنات کے لئے نام لیوانِ توحید کاعظیم سفر شروع ہوا۔
آپ صرف پیغمبر اعظم ہی نہیں ` سپاہی اعظم اور سپہ سالار اعظم بھی تھے۔
آج میں آپ کے سامنے یہ تاریخی سچ اس لئے پیش کررہا ہوں کہ میرے سامنے وطنِ عزیز کے بہادر محافظوں نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سربلندی کی خاطر کراچی ایئرپورٹ پر ایک عیار دشمن کے مجرمانہ حملے کو ناکام بنانے کے لئے بڑی شان اور بڑی آن بان کے ساتھ اپنے خون اور اپنی جان کی قربانی دی ہے۔
کون انکار کرسکتا ہے کہ شہید کی موت سے ہی قوم کو زندگی کی نوید ملتی ہے ؟
وہ خون جوہمارے سپاہیوں نے اس مملکت کی حفاظت میں بہایا ہے اس قوم پر قرض ہے۔ ہم وہ تمام قرض تو اتار سکتے ہیں جن کے بوجھ تلے ہمارے بدعنوان حکمرانوں نے پوری قوم کو دبا دیا ہے ` مگر ہم وہ قرض کبھی اتار نہیں پائیں گے جس کا بوجھ ہمارے شہیدوں کے خون نے ہمارے کندھوں پر ڈالا ہے۔
کاش کہ ہم میں سے ہر ایک کو ایک سپاہی کی زندگی جینا اور ایک سپاہی کی موت مرنا نصیب ہوتا!

Scroll To Top