یہ راستہ ایک ایسی جنگ کی طرف جاسکتا ہے جس کے نتیجے میں پورا جنوبی ایشیا کھنڈرات میں تبدیل ہوجائے گا ` یہ صورتحال کسی بھی صاحبِ ہوش کا آپشن نہیں ہوگی

aaj-ki-baat-newآج کی بات

جنگ خطِ تقسیم کے دونوں طرف کبھی کسی باشعور شخص کا سنجیدہ آپشن نہیں بنے گی۔ جنونی لوگ اپنے دیوانے خوابوں کی تسکین کے لئے جنگ کے بلند آواز نعرے ضرور بلند کرتے رہیں گے لیکن اس حقیقت کو جھٹلانا کسی پاگل کے بس کی بھی بات نہیں ہوگی کہ نئی دہلی اور اسلام آباد دونوں شہروں میں حکمرانوں کی انگلیاں ایسے بٹنوں پر ہیں جو اگر غلطی سے بھی دب گئے تو ہمالیہ سے راس کماری تک اور آسام سے کراچی تک آبادیوں کی جگہ ویرانے لے لیں گے جہاں موت اور آگ کا راج ہوگا۔
1950ءکی دہائی میں اپنے دور کے مشہور ترین صحافی اورتجزیہ نگار ولیم ایل شِرر نے نازی جرمنی کی تاریخ لکھی تھی جس کا نام تھا۔
The Rise And Fall Of The Third Reich اس کتاب کے دیباچے میں ولیم ایل شرر نے لکھا تھا:
” ایڈولف ہٹلر کو سکندر اعظم ` جولس سینرر اور نیپولین بونا پارٹ کے انداز کا اگر آخری مہم جُو اور فاتح کہاجائے تو غلط نہیں ہوگا۔ اور اس کی ”تھرڈریخ “اگر ماضی کی عظیم ایمپائرز جیسی آخری سلطنت سمجھی جائے تو حقیقت ہوگی۔ انسانی تاریخ کاوہ دور اس روز ہمیشہ ہمیشہ کے لئے موت کی نیند سو گیا جس روز ہائیڈروجن بم اور بیلسٹک میزائل کی ایجاد ہوئی اور ایسے راکٹ وجود میں آگئے جو چاند کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ دورِ حاضر میں ایسے ہلاکت آفریں اور تباہ کن ہتھیار طاقتور ممالک کے اسلحہ خانوں کی زینت بن چکے ہیں کہ اگر آئندہ کبھی کوئی بڑی جنگ لڑی گئی تو اس کا آغاز یقینا کوئی پاگل شخص کرے گا جس کے ذہن سے موت اور زندگی کا فرق مفقود ہوچکا ہوگا اور جسے یہ معلوم ہی نہیں ہوگا کہ جو بٹن وہ دبا رہا ہے وہ خود کشی کا بٹن ہے۔ اس بٹن کے دبنے سے جو جنگ شروع ہوگی وہ زیادہ دیر تک نہیں چلے گی اور اس کی تاریخ لکھنے والا بھی کوئی باقی نہیں بچے گا۔ اس جنگ میں نہ تو فاتح ہوگا اور نہ ہی کسی کو کامرانی ہوگی۔ یہ دنیا ایک ویرانہ بن جائے گی جہاں ہر طرف مرنے والوں کی جلی ہوئی ہڈیاں نظر آئیں گی۔“
ولیم ایل شِرر نے ایٹمی جنگ کی تباہ کاری کا جو نقشہ کھینچا تھا وہ تب کھینچا گیا تھا جب ایٹمی ہتھیار ابھی ہلاکت آفرینی کے ابتدائی مراحل میں تھے۔ تب سے اب تک چھ دہائیاں گزر چکی ہیں۔ اور ان چھ دہائیوں میں جن ممالک کے ہاتھوں میں ایک دوسرے پر ناقابل تصور آگ اور موت برسانے والے ہتھیار آچکے ہیں ان میں بھارت اور پاکستان کا شمار بھی ہوتا ہے۔
پاگل پن پر صرف ایسے پاگلوں کی اجارہ داری نہیں ہوتی جنہیں دماغی امراض کے ماہرین نے دیوانگی اور جنون کی سندیں جاری کی ہوں۔ بظاہر نارمل نظر آنے والے لوگ بھی نہایت غیر متوقع طور پرکوئی ” جنون خیز “ قدم اٹھا سکتے ہیں۔ لیکن غالب امکان اسی بات کا ہے کہ نئی دہلی اور اسلام آباد دونوں جگہ ایوان ہائے اقتدار میں ” مستند جنونیوں “ کا داخلہ کبھی نہیں ہوگا۔ اجتماعی خود کشی کسی ایسی قیادت کا بھی آپشن نہیں بنے گی جسے تاریخ میں اپنا نام عظیم فاتحین کی فہرست میں لکھوانے کا بے پناہ شوق ہو۔
گویا یہ بات ہم تقریباً کامل یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ مئی 1998ءمیں ہونے والے ایٹمی دھماکوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کسی بڑی اور سنجیدہ جنگ کے تمام دروازے بند کردیئے تھے۔ پاکستان جانتا ہے کہ ایک روایتی جنگ میں وہ اپنے سے پانچ چھ گنا زیادہ طاقتور ملک پر غلبہ پانے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اور بھارت جانتا ہے کہ اگر ایک روایتی جنگ میں پاکستان کو شکست بہت زیادہ قریب نظر آئی تو اس سے بچنے کے لئے اس کے سامنے وہ ” بٹن “ دبانے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں رہے گا جس کے دبنے سے موت اور تباہی برسانے والے میزائلوں کا تبادلہ اتنی تیزی کے ساتھ ہوگا کہ ” ہوش“ کا دامن پکڑنے کا موقع نہ تو نئی دہلی کو ملے گا اور نہ ہی اسلا م آباد کو۔
پوری گھن گرج کے ساتھ پاکستان کو تباہ و برباد کرڈالنے کی دھمکیاں دینا بھارتی نیتاﺅں کے لئے زیادہ مشکل کام نہیں ہوگا لیکن دھمکیاں دینا ایک بات ہے اور باہمی تباہی کے دروازے کھولنے کا آپشن استعمال کرنا بالکل دوسری بات ہے۔
اس ضمن میں یہاں MADکا تذکرہ کرنا ضروری ہے۔MADتین الفاظ کا مخفف ہے۔ اور وہ تین الفاظ ہیں۔Mutually Assured Destructionیعنی دوطرفہ تباہی کی ضمانت۔
اگر 28مئی1998ءکو پاکستان بھارتی دھماکوں کے جواب میں دھماکے نہ کرتا تو ” دو طرفہ تباہی کی ضمانت“ وجود میں نہ آتی۔ اور تباہی کسی بھی ممکنہ جنگ کی صورت میں صرف پاکستان کا مقدر بنتی !
بھارت کو مقصود صرف پاکستان کی تباہی ہے۔ اپنی تباہی اسے کسی بھی صورت میں مقصود نہیں۔
گویا بھارت کو ایسی حکمت عملی چاہئے کہ ضمانت سامنے صرف ” یک طرفہ تباہی “ کی ہو۔
اگر یہ کہاجائے تو بعید از حقیقت نہیں ہوگا کہ آج بھارت اسی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ میں نے آغاز میں لکھاہے کہ جنگ دونوں ملکوں میں سے کسی کا بھی آپشن نہیں ۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ” پاکستان کا خاتمہ “ بھارت کا آپشن نہیں۔ روز ِ اول سے ہی بھارت کا آپشن یہی رہا ہے کہ اگست1947ءمیں کھینچی جانے والی خطِ تقسیم دیرپا ثابت نہ ہو۔ اور ” ہندوتوا “ کے پجاریوں کو اُس دن کا سورج دیکھنا نصیب ہو جس دن مہا بھارت پر صرف ترنگا لہرا رہا ہو۔ بظاہر اس قسم کا آپشن ایک مجنونانہ خواب لگتا ہے لیکن تاریخ شاہد ہے کہ جغرافیائی لکیریں غیر فانی نہیں ہوا کرتیں۔
دسمبر1971ءمیں قائداعظم ؒ کے پاکستان کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ کو ئی ڈھکا چھپا راز نہیں۔ یہ درست ہے کہ سقوطِ مشرقی پاکستان کا سانحہ ایک روایتی جنگ کے نتیجے میں رونما ہوا تھا۔ لیکن یہ بھی درست ہے کہ وہ روایتی جنگ پاکستان پر مسلط ہی نہیں ہوسکتی تھی اگر اس سے پہلے بھارت ” نظریہ ءپاکستان “ پر حملہ آور ہونے کے لئے مشرقی پاکستان کے طول و عرض میں بنگلہ دیشی سوچ کا بیج نہ بوچکا ہوتا!
وہ مہلک ہتھیار جو بھارت نے 1971ءمیں نظریہ ءپاکستان کے خلاف استعمال کیا تھا آج بھی بھارتی اسلحہ خانے میں موجودہے۔ نہ صرف یہ کہ موجود ہے` آج کے پاکستان میں جگہ جگہ استعمال بھی ہورہا ہے۔
اب پاکستان پر چڑھائی کرنے کے لئے بھارت کی فوج حرکت میں نہیں آئے گی ۔ اب چڑھائی نظریہ ءپاکستان اور استحکام ِپاکستان پرہوگی جس کے لئے بھارت کو باقاعدہ فوج کی نہیں ` کرائے کے چند درجن ` چند سو یا چند ہزار سپاہیوں کی ضرورت ہوگی جو کبھی دہشت گردوں کے بھیس میں کام کریں گے اور کبھی ایسے دانشوروں کے بھیس میں جن کی زبانوں پر ” امن کی راگنیاں “ ہوں گی۔
یہ جج کچھ عرصے سے بنگلہ دیش سے غداری کا ارتکاب کرنے والے ایسے ملزموں پر مقدمے چلا رہے ہیں جن کی جڑیں پاکستان میں تھیں اور جنہوں نے پاکستان کو توڑنے کی بھارتی سازش کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بننے کی ناکام کوشش کی تھی۔
ایسے تمام ملزموں کا تعلق بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی سے ہے۔ گزشتہ دنوں ججوں کے ایک پینل نے جماعت اسلامی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے سیاست میں حصہ لینے سے ہمیشہ کے لئے روک دیا۔
بنگلہ دیشی ججوں نے اپنے اس فیصلے کے حق میں سب سے بڑی دلیل یہ دی ہے کہ جماعت اسلامی جمہوریت اور بنگلہ دیشی قومیت پر خدا کو فضلیت دیتی ہے۔گویا بھارت کی سرپرستی میں قائم ہونےوالے بنگلہ دیش اور بھارت کی ہی سرپرستی میں وہاں کے عوام پر ایک سیکولر حکومت مسلط کرنے والی قیادت کی نظروں میں خدا کو جمہوریت سے افضل سمجھنا ایک ناقابلِ معافی جرم ہے۔
بھارت پاکستان میں ایسے عناصر کا ظہور اور عروج دیکھنا چاہتا ہے جن کی نظروں میں ” خدا رسول اور قرآن “ کی حیثیت ہومر کی داستانوں سے مختلف نہ ہو۔
اگر بھارت (خدانخواستہ)اس مقصد میں کامیاب ہوگیا تو اگست1947ءمیں ابھرنے والی ” خطِ تقسیم “ خود بخود معدوم ہوجائے گی۔
اس بھارتی خواب کی راہ میں صرف ایک سجدہ حائل ہے جو توحید و رسالت کے نام لیواﺅں کو ان گنت خداﺅں کی غلامی سے نجات دلاتا ہے۔۔۔
آخر میں ذکر کشمیر کا کروں گا۔
کشمیر محض ایک خطہ ءزمین کا نام نہیں۔ یہ اس تڑپ کا نام بھی ہے جو ہر سچے پاکستانی کے دل میں بابائے قوم کے اِن الفاظ نے پید کی تھی۔
” کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔“
بھارت کی فوج نے کشمیر سے مسلمانوں کی نسل مٹانے کی جو پالیسی اختیار کی ہے وہ اس لئے کامیاب نہیں ہوگی کہ جلد یابدیر پاکستان کو اس کا جواب واضح الفاظ میں دینا ہوگا کہ یہ راستہ ایک ایسی جنگ کی طرف جاسکتا ہے جس کے نتیجے میں پورا جنوبی ایشیاءکھنڈرات میں تبدیل ہوجائے گا ۔ یہ صورتحال کسی بھی صاحبِ ہوش کا آپشن نہیں ہوگی۔

Scroll To Top