خود فریبی کا شکنجہ 07-06-2014

kal-ki-baat

ایک مسلمان کی حیثیت سے میرا یہ ایمان ہے کہ اگر کسی ایک مسلم مملکت پر کسی غیر مسلم طاقت کا حملہ ہو جائے اور اس حملے کے نتیجے میں وہ مسلم ملک حملہ آوروںکے قبضے میں چلا جائے تو اس مسلم ملک کے عوام پر اپنی آزادی کے لئے جہاد وقتال کرنا فرض ہوجاتا ہے۔نہ صرف یہ بلکہ یہ بھی کہ دنیا کے باقی مسلمان بھی صورتحال میں آنکھیں بند نہیں رکھ سکتے اس سلسلے میں قرآن حکیم کے احکامات اس قدر واضح ہیں کہ کسی بھی مسلمان کے لئے فرار کا کوئی بھی راستہ نہیں۔
9/11کی آڑ میں افغانستان کو جس جارحیت کا نشانہ بنایا گیا اس کے مقابلے کے لئے طالبان کے بینر تلے مزاحمت اور آزادی کی جو جنگ لڑی گئی ہے اِس پر بحیثیت دختران وفرزندانِ اسلام پوری دنیا کے مسلمانوں کو فخر کرنا چاہئے بلاشبہ یہ ایک جہاد تھا اور جہاد ہی رہے گا لیکن یہ لوگ کون ہیں جو طالبان ہی کے بینر تلے مملکتِ خدادادپاکستان کے خلاف آگ اور بارود کا ہلاکت آفرین کھیل کھیل رہے ہیں ؟ ان لوگوں کو ہتھیار کون فراہم کررہا ہے ؟ ان کی تربیت کہاں ہورہی ہیں ؟ وہ کون سے پراسرار ہاتھ ہیں جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کی بنیاد یں ہلا ڈالنے کے ناپاک ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں ؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ افغانستان پر امریکی قبضے کا سب سے بڑا نقصان پاکستان کو اس طرح پہنچا ہے کہ بھارت بہت بڑے پیمانے پر سرزمین افغانستان پر ہمارے خلاف مورچہ بند ہونے میں کامیاب ہوگیا ہے اگر بھارت ہمارا دشمن نہیں تو ہمارا دشمن کون ہے ؟ ہمارے اس دشمن نے بلوچستان میں نظریہ پاکستان اور اس عظیم مملکت کی سا لمیت کے خلاف دہشتگردی کا محاذ قائم کررکھا ہے
ہمارے ان لیڈروں کو خود فریبی کے خوف ناک شکنجے سے نکلنا ہوگا جو اس قبضے کو اپنی خارجہ پالیسی کا مرکزی خیال بنا چکے ہیں کہ پاک بھارت دوستی کے بغیر پاکستان کی اقتصادی ترقی ناممکن ہے !

Scroll To Top