ماضی میں سی پیک معاملے پر کے پی کے کو اندھیرے میں رکھا گیا: محمود خان

  • پاکستان تحریک انصاف واحد جماعت ہے جسے صوبے کے عوام نے اعلیٰ کارکردگی اور انتخابی وعدوں کی تکمیل کی بنا پر دوبارہ منتخب کیا ہے
  • میرٹ کی بالادستی کیلئے آزاد اور بااختیار ادارے قائم کئے گئے ہیں ، وزیر اعلی خیبرپختونخوا کا صوبائی حکومت کی 100 روزہ کارکردگی کے حوالے سے تقریب سے خطاب
پشاور:۔ وزیر اعظم عمران خان اوروزیر اعلیٰ محمود خان نئے شیلٹر ہوم کا افتتاح کررہے ہیں

پشاور:۔ وزیر اعظم عمران خان اوروزیر اعلیٰ محمود خان نئے شیلٹر ہوم کا افتتاح کررہے ہیں


پشاور( الاخبارنیوز)تحریک انصاف جب صوبے میں برسراقتدار آئی تو ہر شعبہ زبوں حالی کا شکار تھا ۔ ماضی کی ہر حکومت کی ترجیحات ، پارٹی شہرت اور اپنے دور حکومت تک محدود رہیں۔ مستقبل کی منصوبہ بندی تقریباً نہ ہونے کے برابر تھی۔ صوبے کے حقوق حکمرانوں کی غفلت اور ذاتی مفادات کی نظر ہو چکے تھے۔ غریب عوام تھے کہ ان کا کوئی پرسان حال نہ تھا۔اخیالات اظہار خیبر پختونخوا وزیر اعلیٰ محمود خان نے خیبرپختونخوا کا نشتر ہال پشاور میں صوبائی حکومت کے 100 روزہ کارکردگی (باقی صفحہ7 بقیہ نمبر14
کے حوالے سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ صوبے پر بار بار حکمرانی کرنے والی سیاسی جماعتوں سے مایوس اور تنگ عوام نے اپنی خدمت کیلئے تحریک انصاف کا انتخاب کیا اور اسے2013 میں حکومت بنانے کا مینڈیٹ دیا۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے عوامی توقعات کے مطابق تبدیلی کے سفر کا آغاز کیا۔ ہم اپنے اہداف کے حصول اور ایجنڈے پر عمل درآمد میں کتنے کامیاب ہوئے اس سلسلے میں مختلف لوگوں کی مختلف سوچ ہوسکتی ہے۔بہرحال یہ حقیقت ہے کہ صوبے کی تاریخ میں پہلی بار عوام نے اگر کسی پر دوبارہ اعتماد کیا اور اسے مسلسل دوسری بار حکومت بنانے کا موقع دیا تو وہ تحریک انصاف ہے۔ ہمارا ناصرف خیبرپختونخوا میں دوبارہ حکومت میں آنا بلکہ مرکز اور پنجاب میں بھی حکومت بنانا آپ کے وژن کا واضح اور ناقابل تردید ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے صوبے میںنظام کی بہتری کے لیے ترجیحات کا تعین کر لیا ہے اور اس سلسلے میں چند اہم خطوط وضع کیے گئے ہیں۔ہم نے شراکت داری کے ذریعے عوامی ضروریات اور توقعات کے مطابق خدمات کی فراہمی کیلئے اداروں کو نچلی سطح پر فعال کیا اور سب کو قانون کے سامنے جوابدہ بنایا۔ کنفلکٹ آف انٹرسٹ جیسے قوانین منظور کر کے خود کو سب سے پہلے احتساب کیلئے پیش کیا ۔اداروں میں سیاسی مداخلت ختم کی اور شفافیت کو فروغ دیا۔ معلومات تک رسائی کے قانون کے ذریعے اقرباپروری اور رشوت ستانی کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے ۔ چیک اینڈ بیلنس کے نظام سے خود کو اور اداروں کو جوابدہ بنایا ہے۔ عوامی تنازعات کے مقامی سطح پر حل کیلئے مصالحتی کونسلیں قائم کی گئیں اور اتفاق رائے پر مبنی اچھی حکمرانی قابل عمل بنائی ہے۔ میرٹ کی بالادستی کیلئے آزاد اور بااختیار ادارے قائم کئے گئے ہیں اور عوامی ویلفیئرکا تصور سامنے رکھ کر قانون سازی اور فیصلہ سازی کو ترجیح دی ہے۔ حکومتی سطح پر سزا اور جزا کا قابل عمل قانون بنا دیا گیاہے اور بااختیار مانیٹرنگ یونٹس بنائے گئے ہیں جس سے اداروں کی کارکردگی کو جانچا جا رہا ہے۔ ہم نے صوبے کی معاشی خود کفالت میں بڑھوتری کیلئے مستقبل کے چیلنجزکو سامنے رکھ کر حکمرانی کی بنیاد ڈال دی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے کفایت شعاری کی پالیسی کے تحت موثر اقدامات کئے ہیں۔ وسائل کے موثر استعمال، شفافیت اور کرپشن کے خاتمے سے ہمارا رواں سال 30 ارب روپے بجٹ میں سرپلس دینے کا ہدف ہے ۔ ہماری یہ کوشش بجٹ خسارے کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو گی ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ ہاﺅس، وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ اور پختونخوا ہاﺅس اسلام آباد کے انٹرٹینمنٹ کے اخراجات میں واضح کمی لائی گئی ہے۔ مذکورہ تینوں دفاتر میں پہلے انٹرٹینمنٹ کی مد میں اوسطاً 50 لاکھ روپے ماہانہ خرچ ہوتے تھے۔ کفایت شعاری مہم کے نتیجے میں اب ماہانہ خرچہ 50 لاکھ سے کم ہوکر اوسطاً 6 لاکھ روپے ماہانہ پر آگیا ہے۔ اسطرح گذشتہ 6 ماہ کے دوران 2 کروڑ64 لاکھ روپے کی بچت کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ماضی کی سالانہ ترقیاتی منصوبہ بندی میں ذاتی پسند و ناپسند ، اقرباءپروری اور مفاد پرستی ہر سطح پر عیاں تھی۔ عوامی فلاح میں ترقیاتی بجٹ کا استعمال صرف کاغذوں تک محدود تھا ، جس کے نتیجے میں سوائے چند حلقوں کے پورا صوبہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا ۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے حقیقت پسندانہ اے ڈی پی کی تشکیل اور اس کے شفاف اور کارآمد استعمال کا کلچر متعارف کرایا۔ہم نے صوبہ بھر کے تباہ حال انفراسٹرکچر کی بحالی کیلئے یکساں حکمت عملی وضع کی۔ نئی سکیموں بشمول میگا پراجیکٹس کا اجراءکیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ صوبے کے دور دراز پسماندہ اضلاع پر خصوصی توجہ دی گئی۔100 روزہ پلان کے تحت صحت انصاف ، سماجی خدمات ، صنعت کاری، ٹورازم کی ترقی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے، زرعی خود کفالت اور مجموعی معاشی، اقتصادی ترقی کے راستے کا تعین کیا جا چکا ہے اور 58منصوبوں کی منظوری دی گئی انہوں نے کہا کہ 13ارب روپے فلیگ شپ منصوبوں (سوات موٹروے، بی آر ٹی، بلین ٹری سونامی ، گومل زام ڈیم) کیلئے مختص کئے گئے ہیں۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوامحمود خان نے کہا کہنئے اضلاع (سابق فاٹا )کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت ابتدائی طور پر 21 ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا جا رہاہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں ترقیاتی حکمت عملی کی واضح سمت متعین کرنے کیلئے پی پی پی ایکٹ میں ترامیم تجویز کی گئی ہیں اور اس سلسلے میں پالیسی تیار ہے۔ جو صوبائی حکومت کی پہلی انوسٹمنٹ پالیسی کے تیار کردہ مسودہ کا حصہ ہے۔ جس کی منظوری صوبائی کابینہ سے جلد لی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں سی پیک کے معاملے میں بھی صوبے کو اندھیرے میں رکھا گیا تھا، اربوں ڈالرز کے منصوبوں میں ہمارے صوبے کو نظر انداز کیا گیا۔ ہماری سابقہ حکومت نے سی پیک میں صوبے کے حقوق کیلئے تمام متعلقہ فو رمز پر توانا آواز اٹھائی اور انتھک جدوجہد کے نتیجے میں خاطرخواہ کامیابی حاصل کی۔ مغربی روٹ کی توثیق کے علاوہ گلگت سے چترال ، دیر اور چکدرہ روڈ کو متبادل روٹ کے طور پر سی پیک میں شامل کرنے کی تجویز دی اور سی پیک کے تحت اکنامک زون اور دیگر پراجیکٹس کے حصول میں کامیابی حاصل کی۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت رشکئی سپیشل اکنامک زون کیلئے جوائنٹ ونچر کی منظوری دی جاچکی ہیں۔ منصوبے پر کنسیشن ایگریمنٹ پر کام شروع ہے۔ یہ منصوبہ صوبائی حکومت اور چین دونوں کی دلچسپی کا مرکز اور اولین ترجیح ہے۔سرکلر ریلوے منصوبے کے ایم او یو(MoU) پر پیش رفت دوبارہ شروع کی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ چھ ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں86 سکیمیں مکمل کی گئی ہیں۔104جاری سکیمیں 70فیصد مکمل ہیں۔ اسکے علاوہ انہیں خطوط پر ہر ڈویثرن میں ایک اضافی ضلع کےلئے ایک نئی سکیم دینے پر غور و فکر بھی جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ نیا لوکل گورننس ماڈل نفاذکےلئے تیار ہے۔ سابق فاٹا کے نئے قبائلی اضلاع کو صوبے میں شامل کرنے پر کام تیز رفتاری سے جاری ہے۔ نئے اضلاع میں انتخابات کے سلسلے میں حلقہ بندیاں 30 جنوری 2019 تک مکمل کرلی جائیں گے۔ بلدیاتی نظام کیلئے 702 ویلیج اور نیبرہڈکونسلیں قائم کی گئی ہیں ۔ نئے اضلاع میں انتخابات کی حتمی تاریخوں کا اعلان الیکشن کمیشن کی مشاورت سے کیا جائے گا۔خاصہ دار لیویز اہلکاروں کی تنخواہ میں اضافے اور 30 ہزار ملازمتوں کی منظوری دی گئی ہے۔لیویز اور خاصہ داروں کو مکمل جاب سیکورٹی دی جارہی ہے، کسی کو فارغ نہیں کیا جائے گا۔ جرگہ نظام مصالحتی کمیٹیوں میں بدل جائے گا۔ نئے اضلاع کی ترقی کیلئے 6 ماہ اور پانچ سالہ پروگرام ترتیب دیا گیا ہے۔ صحت انصاف کارڈ جنوری سے تقسیم ہونگے اور نوجوانوں کیلئے ایک ارب روپے کا پیکیج بھی دیا جا رہاہے جس سے بلاسود قرضے فراہم کئے جائیںگے۔مرکز سے ملنے والے وسائل کی نگرانی کیلئے طریقہ کار وضع کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پشاور کی ترقی کےلئے جامع حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔کلین اینڈ گرین پاکستان مہم کا کامیابی سے اجراءکیا جا چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ پشاور کےلئے پینے کے صاف پانی کی فراہمی کی جامع حکمت عملی تیار کی گئی ہے جبکہ باقی ماندہ صوبے کےلئے بھی اس سہولت پر کام ہو رہا ہے۔ ڈویثرنل ہیڈ کوارٹرز سے منسلک اضلاع کےلئے خوبصورتی اور اپ لفٹ پروگرام اے ڈی پی میں شامل کیا جا چکا ہے جسکی لاگت پانچ ہزار ملین روپے ہے۔ یہی سکیم ڈویثرنل ہیڈ کوارٹرز کےلئے پہلے سے چل رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ زیر تعمیر بس رپیڈ ٹرانزٹ منصوبے کی تیز رفتار تکمیل حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، حکومتی اقدامات اور مسلسل نگرانی کی وجہ سے منصوبے کے سول انفراسٹرکچر پر 92فیصد کام ہو چکا ہے جبکہ مالی پیش رفت بھی 85فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں معاشی احیاء،روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور غربت میں کمی کیلئے ہمہ گیر سوچ کے ساتھ منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ اس صوبے کا ہر ضلع اپنے اندر مختلف نوعیت کے مخصوص وسائل رکھتا ہے۔ ہم نے صوبے کو تین ریجن میں رکھ کر مستقبل کی منصوبہ بندی کی ہے ٹورازم ، مشرقی ریجن میں نمایاں صنعت کے طور پر سامنے آنے والی ہے،تاہم یہ صنعت صوبے کے سنٹرل اور جنوبی ریجن تک پھیلی ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ گھریلو صنعت کو ترجیح دی جارہی ہے یہ باصلاحیت اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لئے نئی شروعات ہے۔وہ اس روزگار میں اپنے ساتھ دیگر بے روزگاروں کو بھی روزگار دے سکیں گے۔ حکومت کاٹیج انڈسٹریزکو مالی اور تکنیکی سرپرستی فراہم کرے گی۔انہوں نے کہا کہ چشمہ لفٹ ایریگیشن سکیم کے تحت ہم زرعی خود کفالت پلان کر چکے ہیں۔ ہم اپنے حصے کے پانی سے بھرپور استفادہ کرنا چاہتے ہیں تاکہ یہ تصفیہ طلب مسئلہ کل وقتی طور پر حل ہو سکے ۔ یہ ایگروبیسڈ صنعت کے فروغ کیلئے بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے اکنامک زونز میں درمیانی درجہ کی صنعت کاری کیلئے تیاری مکمل ہوچکی ہیں۔ اوراس صوبے کو صنعت اور سرمایہ کاری کا موزوں ترین مرکز بنانے کیلئے ہم تیاری کے آخری مرحلے میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے آپ کے وژن کے مطابق صوبے میں قابل عمل نظام کی شروعات کردی ہے۔ ایک ایسا نظام جس میں انصاف اور میرٹ کی بالا دستی ہو، قانون کی حکمرانی ہو، اداروں میں جوابدہی کا عنصر موجود ہوگا۔ غریب عوام کو تعلیم اور صحت کی معیاری سہولیات سمیت دیگر سماجی شعبوں میں خدمات کی فراہمی کا مو¿ثر نظام ہوگا ۔ ہماری جملہ کاوشوں ، اصلاحات اور اقدامات میں عام آدمی کو ترجیح اور خصوصی توجہ دی گئی ہے ۔ ہم نئے خیبرپختونخوا کیلئے اپنی سمت کا تعین کرچکے ہیں، ہم امید رکھتے ہیں کہ آپ کی رہنمائی میں اس صوبے کو تیز تر ترقی کی راہ پر گامزن کرینگے اور وہ وقت دور نہیں جب خیبرپختونخوا حقیقی معنوں میں نئے پاکستان کے وژن کی عملی شکل بن کر سامنے آئے گا۔

Scroll To Top