اس نظام میں ترقی صرف حکمران طبقے کا مقدر ہوتی ہے ! 04-06-2014

kal-ki-baat
ایک زمانے میں بجٹ کے اندر اعداد و شمار کا ہیر پھیر اتنی کثرت کے ساتھ نہیں ہوا کرتا تھا جس قدر کثرت کے ساتھ اب ہوتا ہے۔ جیسے جیسے ہمارے حکمرانوں میں وہ پیسہ خرچ کرنے کی عادت جڑیں پکڑتی گئی جو ملک نے کمایا نہیں ہوتا اور جسے کما نا ہماری آنے والی نسلوںکا مقدر ہوتا ہے ` ویسے ویسے بجٹ میں ایسی گتھیاں بھی بڑھتی چلی گئیں جنہیں سلجھانا عام آدمی کے بس میں نہیں آتا۔ عام آدمی کو صرف اس بات سے غرض ہوتی ہے کہ آلو ` ٹماٹر ` چاول ` آٹے ` چینی ` گوشت ` دودھ ` دالوں اور سبزیوں وغیرہ کا بھاﺅ کیا ہے ` اسے اِس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ افراطِ زر یا پیداوار میں کمی یا بیشی کی شرح کیا ہے۔
ہمارے موجودہ وزیر خزانہ اعداد و شمار سے کھیلنے میں کمال کی مہارت رکھتے ہیں۔ اس معاملے میں انہیں بین الاقوامی شہرت حاصل ہے۔ انہیں کوئی پرواہ نہیں کہ روٹی دس روپے یا اس سے زیادہ کی فروخت ہورہی ہے۔ اگر اعداد و شمار سے وہ یہ ثابت کرسکیں کہ فلا ں مَد میں اِتنے فیصد کا فرق پڑا ہے تو وہ اسے اپنی بڑی کامیابی سمجھتے ہیں۔
یہ کالم میں بجٹ تقریر سے پہلے قلمبند کررہا ہوں ` اس لئے میں نہیں جانتا کہ اگلے بجٹ میں کتنا بوجھ عام آدمی پر ڈالا گیا ہے اور کتنا حکمران طبقے اور اس کے سرپرستوں یا حواریوں پر ۔ جب آپ یہ الفاظ پڑھ رہے ہوں گے تو اعداد و شمار کا ایک نیا انبار آپ کے سامنے لگ چکا ہوگا۔ مجھے یقین ہے کہ آپ نئے اعداد و شمار کی اسی قدر فہم حاصل کرپائیں گے جس قدر فہم اس ناچیز سمیت عوام الناس ماضی کے اعداد و شمار سے حاصل کرتے رہے ہیں۔ سرکاری زبان میں ہر بجٹ تعمیر و ترقی کا بجٹ ہوا کرتا ہے۔ تعمیر و ترقی ہوتی ضرور ہے مگر صرف اُس طبقے کی جس کے خوش نصیبوں کو ٹھیکے ملتے ہیں۔ یا پھر جس کے حصے کے ٹیکس بھی عوام ادا کرتے ہیں۔

Scroll To Top