جب جمہوریت جیت گئی اور پاکستان ہار گیا

aaj-ki-baat-newآج کی باتملک کا کوئی بھی ذمہ دار اور باشعور شہری یہ نہیں چاہے گا کہ ہماراجمہوری نظام پٹڑی سے اتر جائے۔ مگر پٹڑی صرف یہی ایک نہیں ہے۔ ایک پٹڑی اور بھی ہے جس پر 14اگست1947ءسے یہ ملک چل رہاہے۔ ملک کا کوئی بھی محب وطن شہری یہ نہیں چاہے گا کہ اِس پٹڑی کو کوئی نقصان پہنچے اوروہ عظیم مملکت جس سے ہماری شناخت ہے خدانخواستہ دوبارہ ویسے ہی کسی حادثے کا شکار ہوجائے جیساحادثہ اسے 1971ءمیں پیش آیا تھا۔جس نسل نے وہ المناک حادثہ اپنی نظروں سے رونما ہوتے دیکھا اس کے لئے تادمِ آخر یہ ممکن نہیں ہوگا کہ اس کرب کو بھول جائے جس سے وہ دسمبر 1971ءکے مہینے میں گزری تھی۔ میرا تعلق اسی نسل سے ہے۔اور مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی باک نہیں کہ میں بھی اُن لاکھوں ہم وطنوں میں شامل تھا جنہوں نے ” ایوبی آمریت “ کے خاتمے کی جدوجہد میں فعال اور بھرپور حصہ لیا تھا۔ میرے ذہن پر وہ دوراس لئے بھی بھرپور طریقے سے نقش ہے کہ میری حیثیت ایک عام شہری سے ذرا مختلف تھی۔ میں جون 1968ءتک روزنامہ مشرق کراچی کا ایڈیٹر تھا `جس کا شمار تب اردو کے تین بڑے روزناموں میں ہوتا تھا۔ ان میں ایک روزنامہ نوائے وقت بھی تھا جس کے لئے میں یہ کالم لکھتاہوں۔ روزنامہ مشرق نیشنل پریس ٹرسٹ کا اخبار تھا جس کی ملکیت حکومت کے پاس تھی۔ یہ صدر ایوب خان کے عروج کا زمانہ تھا۔ ملک بھر میں ” دس سالہ جشنِ ترقی “ خاصی دھوم دھام کے ساتھ منایا جارہا تھا ۔ تب حکومتی دعوﺅں کے ساتھ جڑی ہوئی یہ ترقی مجھ جیسے ” جمہوریت پسندوں “ کو ترقی ءمعکوس لگتی تھی۔ ہم اس ترقی کا رشتہ ان بائیس خاندانوں کی امارت اور خوشحالی کے ساتھ جوڑا کرتے تھے جو ” دس سالہ ایوبی عہد “ کی پہچان بن گئے تھے اورجنہیں پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی اور سربراہ جناب ذوالفقار علی بھٹو عوام کی تمام تر محرومیوں اور زبوں حالی کا سبب قرار دیا کرتے تھے۔ یہاں بھٹو مرحوم کا ذکر آیاہے تو میں اپنے موضوع کی طرف بڑھنے سے پہلے اس بات کا اقرار کرتاچلوں کہ میں تب مکمل طور پر اس شخص کی سحر آفینیوں کے اثر میں تھا جسے ایک قومی ہیرو کے طور پر میں نے اور مجھ جیسے لاکھوں نوجوانوں نے 1965ءکی جنگ کے نتیجے میں قبول کیا تھا۔1968ءکے اوائل تک یہ تاثر میرے ذہن میں راسخ ہوچکا تھا کہ پاکستان کو عوامی انقلاب کا گہوارہ بنانے کے عظیم مقصد کی تکمیل کے لئے قدرت ذوالفقارعلی بھٹو کا انتخاب کرچکی ہے۔ایک باشعور صحافی کی حیثیت سے یہ حقیقت میری نظروں سے اوجھل نہیں ہونی چاہئے تھی کہ پاکستان صرف ان صوبوں پر مشتمل نہیں تھا جہاں لوگ ذوالفقار علی بھٹو کو جانتے تھے۔ ملک کا ایک صوبہ مشرقی پاکستان بھی تھا جس کے عوام کی نظروں میں قومی ہیرو کا درجہ صرف شیخ مجیب الرحمان کو حاصل تھا۔ اگر ہم اُن المیوں کا غیر جذباتی انداز میں جائزہ لیں جن کا سامنا ہمیں کرنا پڑا تو ایک حقیقت سامنے آئے بغیر نہیں رہے گی کہ ہمیں ہمارے دشمنوں سے زیادہ نقصان ہماری اندھی عقیدتوں نے پہنچایا ہے۔ اِن اندھی عقیدتوں میں ایک خاصیت یہ بھی ہوتی ہے کہ ان کے اثر میں ہمارا ذہن ” واضح “ غور و فکر کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتا ہے۔
1967ءاور1968ءکے پاکستان کے بارے میں یہ بات میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ جارحانہ اور عقیدتمندانہ احساسات کی اقلیم پر چار شخصیات حکمران تھیں۔ ایک ان میں صدر ایوب کی شخصیت بھی تھی۔ دوسری زیڈ اے بھٹو کی تھی۔ تیسری مولانا مودودی کی تھی اور چوتھی شیخ مجیب الرحمان کی تھی۔ یہ چاروں متصادم اور متحارب شخصیات تھیں۔ کسی ایک کو بھی باقی کسی کا وجود گوارہ نہیں تھا۔ اور المیہ یہ ہے کہ جو لوگ کسی ایک کے لئے عقیدتیں پالے ہوئے تھے ` وہ کسی اور کی بات سنجیدگی کے ساتھ سننے کے لئے بھی تیار نہیں تھے۔ صدر ایوب خان کو اگر باقی تینوں کا مشترکہ ٹارگٹ یا نشانہ کہاجائے تو غلط نہیں ہوگا۔ صدرایوب خان کی حکومت کے ہر موقف کو باقی تینوں اصحاب کے حامی پائے تحقیر کے ساتھ ٹھکرایاکرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ” اگرتلہ سازش کیس “ کا مشہور ومعروف کیس سامنے آیا اور عوامی لیگ کے سربراہ شیخ مجیب الرحمان کے ” بھارتی روابط “ قوم کے علم میں لائے گئے تو اکثریت نے اس معاملے کو ایک” آمرانہ حکومت “ کے فسانہ ساز ذہن کی اختراع قراردیا۔ مجھے یاد ہے کہ اگر تلہ سازش کیس کے بارے میں اخبارات کے مدیروں کو بریفنگ تب کے سیکرٹری اطلاعات الطاف گوہر مرحوم نے دی تھی۔ میں اس بریفنگ میں موجود تھا۔ مجھے اپنا وہ سوال بھی یادہے جو الطاف گوہر مرحوم سے کیا تھا۔
” صدرایوب خان صاحب کو اغواءکرانے کا فائدہ شیخ مجیب الرحمان کو کیا ہوتا ۔؟“
” شیخ صاحب حکومت کی حراست میں ہیں مگر اس سوال کاجواب وہ کبھی نہیں دیں گے۔ “ الطاف گوہر صاحب نے جواباً کہا تھا۔
” پھر یہ بات کیسے باور کرلی جائے کہ پاکستان کی ایک بڑی سیاسی جماعت کا سربراہ اپنے ملک کے صدر کے دورہءمشرقی پاکستان کے دوران اسے بھارت کے ہاتھوں اغواءکرانے کی سازش کرسکتا ہے۔ ؟“ ایک صاحب نے اس موقع پر بڑے تلخ لہجے میں کہا تھا۔
تب ہم سب ” پرستارانِ جمہوریت “ اس معاملے کو ایوبی آمریت کی سوچ کی کجی سمجھتے تھے۔ بعدکے واقعات نے ثابت کردیاکہ شیخ مجیب الرحمان درحقیقت بھارت کے ساتھ روابط بہت پہلے قائم کرچکے تھے۔
کہنا میں یہ چاہ رہا ہوں کہ جب لوگ اپنے خوابوں اپنی عقیدتوں اور اپنی خود فریبیوں کی گرفت میں ہوتے ہیں تو وہ چیزوں اور حقیقتوں کو اُن کی اصل شکل میں دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتے ہیں۔
جب میں نے جولائی 1968ءمیں روزنامہ مشرق کو خیرباد کہا تو میری کیفیت کچھ ایسی ہی تھی۔ میں بھٹو کی شخصیت میں پاکستان کے مستقبل کی ایک نہایت دل خوش کن تصویر دیکھ رہا تھا۔
اسی سال کے آخر میں صدر ایوب خان کے خلاف ایک عوامی تحریک چل پڑی۔ تب ذوالفقار علی بھٹو قید میں تھے اور عوام کی جمہوری امنگوں کی علمبرداری کا مشن ایئر مارشل (ر)اصغر خان نے سنبھال لیاتھا۔
اس کے بعد جو کچھ بھی ہوا وہ تاریخ کے صفحات پر نقش ہے۔ میں یہاں زیادہ تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا۔ لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ اگر جنوری 1969ءمیں ہماری قومی سیاست کے چاروں بڑے کردار اپنے اپنے مفادات اور ایجنڈوں سے بالاتر ہو کر کوئی ایسا راستہ اختیار کرپاتے جو مارچ1969ءمیں نافذکئے جانے والے مارشل لاءکو روکنے کا سبب بن جاتا تو ہماری تاریخ کا رُخ اس المیے کی طرف نہ مڑتا جو 1970ءکے عام انتخابات کے نتائج کی بدولت ہمارا مقدر بن گیا۔ اِن چار کرداروں کا ذکر اوپر کیا جاچکا ہے۔ یعنی صدر ایوب خان ` ذوالفقار علی بھٹو `مولانا مودودی اور شیخ مجیب الرحمان ۔ نومبر1968ءکے دوران ایئر مارشل اصغر خان بھی اس فہرست میں شامل ہوگئے۔ مارچ 1969ءمیں صدر ایوب کو داستانِ ماضی بنادیا گیا اور ان کی جگہ جنرل یحییٰ خان نے لے لی۔ میرے خیال میں ہمارے سیاسی منظرنامے کے باقی کرداروں میں اتنی سیاسی بصیرت ضرور ہونی چاہئے تھی کہ وہ سارے معاملات صدرایوب خان کے ساتھ طے کرلیتے اور جنرل یحییٰ خان کو مداخلت کا موقع نہ دیتے۔
ایسا نہ ہوسکا اور قوم ایک ایسے ” جمہوری مستقبل “ کی طرف دھکیل دی گئی جو تب بڑا حسین اور پُرکشش نظر آتا تھا لیکن کسی کی بھی نظر اتنی ” دوربین “ نہیں تھی کہ عام انتخابات کی کوکھ سے جنم لینے والے اس طوفان کو دیکھ سکتی جو پاکستان کی سا لمیت کو خس و خاشاک کی طرح بہالے گیا۔
جس مملکت کی تشکیل نظریاتی بنیادوں پر ہوئی ہو اور جس کے اجزائے ترکیب میں مختلف نسلی و لسانی شناختیں رکھنے والے علاقے ہوں ` اس مملکت کے اجتماعی مقدر کا فیصلہ کرنے کا اختیار ” جمہوری عمل “ کے ذریعے چند افراد کے ہاتھوں میں دے دینا کس قدر تباہ کن ہوسکتا ہے اس کا واضح اندازہ 1971ءکے واقعات سے لگایا جاسکتا ہے۔ اگر میں یہ کہوں تو غلط نہیں ہوگا کہ 1970ءاور1971ءمیں جمہوریت جیت گئی اور پاکستان ہار گیا۔یہی بات ان الفاظ میں بھی کہی جاسکتی ہے کہ جمہوریت کو پٹڑی پر ڈالتے ڈالتے ہم نے نادانستہ طورپر اسلامی جمہوریہ پاکستان کو پٹڑی پر سے اتار دیا اور اس کے نتیجے میں جو حادثہ ہوا اس کی بازگشت ہمیں ہمیشہ سنائی دیتی رہے گی۔
آج قوم کو پھر عام انتخابات کا سامنا ہے۔ اقتدار کی جنگ اور طالع آزمائی کا ماحول تقریباً ویسا ہی ہے جیسا 1970ءمیں تھا۔ نادیدہ دشمن قوتیں اسی انداز میں سرگرمِ عمل ہیں جس انداز میں 1970ءاور1971ءکے دوران تھیں۔ ڈھاکہ کی جگہ کو ئٹہ نے لے لی ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ جمہوریت کی گاڑی اپنی پٹڑی پر آگے بڑھے گی تو اس پٹڑی کا کیا بنے گا جس پر پاکستان رینگ رہا ہے۔
ہمیں پاکستان کی سا لمیت کے تحفظ کی ضمانت چاہئے۔ یہ ضمانت کون دے گا؟
ہمیں جمہوریت کی جیت عزیز ہے۔ مگر پاکستان کی سا لمیت زیادہ عزیز ہے۔

Scroll To Top