ویژن اب ہر منڈی میں دستیاب ہے 03-06-2014

kal-ki-baat
( Visionویژن(انگریزی کا ایک نہایت ہمہ گیر لفظ ہے۔ اس کا ایک مطلب بصارت ہے یعنی بینائی ہے ۔ اور دوسرا مطلب بصیرت یعنی ایسی قوت متخیلّہ جو اُس کے حامل کو مستقبل میں دور تک دیکھنے کی صلاحیت دیتی ہو۔
میری تعلیم چونکہ انگریزی ادب میں ہوئی ہے اور ویسے بھی عالمی ادب کا مطالعہ کرنے کا شوق مجھے شروع سے ہی رہا ہے ` اس لئے ایسی انگریزی اصطلاحوں سے میں خصوصی دلچسپی رکھتا ہوں جن کی کوکھ سے متعدد اور مختلف مطالب نکلتے ہوں۔
ویژن کو میں نے ہمیشہ ایک نہایت ” لائقِ تعظیم “ اصطلاح سمجھا ہے۔ بصارت والا نہیں ` بصیرت والا ویژن ۔ میں سمجھتا رہا ہوں کہ ” ویژن “ ہمیشہ تاریخ ساز شخصیات کے پاس ہوا کرتا ہے۔ہم قائداعظم ؒ کے ویژن۔ یا علامہ اقبالؒ کے ویژن کے بارے میں تو جانتے ہی ہیں۔ لینن ماﺅ اور جمال الدین افغانی جیسے لوگوں کا بھی اپنا اپنا ویژن تھا۔ تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے ہر ایک کے ویژن کا ادراک اور تجزیہ کرنا میرا ایک پسندیدہ مشغلہ رہا ہے۔
لیکن اب جو ” دُرگت“ اس قابلِ تعظیم اصطلاح کی` ایم کیو ایم کے ڈھنڈھورچیوں یا پی پی پی اور پی ایم ایل این کے پیدائشی ثناءخوانوں کے ہاتھوں ہورہی ہے اس کے پیشِ نظر ہمیں علامہ اقبال قائداعظمؒ اور جمال الدین افغانیؒ سے لے کر لینن اورماﺅ وغیرہ کی روحوں کے سامنے نہایت عاجزانہ انداز میں اظہارِ شرمندگی کرنا چاہئے۔ اب تو بات کبھی الطاف بھائی کے ویژن کی ` کبھی آصف علی زرداری کے ویژن کی اور کبھی میاں نوازشریف کے ویژن کی ہوتی ہے۔ اور وہ دن اب زیادہ دور نظر نہیں آتا جب رانا ثناءاللہ ` عابد شیر علی ` شیر میلا فاروقی اور شرجیل میمن وغیرہ سب کا اپنا اپنا ویژن بھی ہوگا۔
حال ہی میں میاں نوازشریف کے ویژن کی ایک مدح سرا خاتون نے جوشِ جذبات میں پی ٹی آئی کے ایک ایم پی اے کو پنجاب اسمبلی کے اندر تھپڑ دے مارا۔ پھر یہ خاتون اپنے قائد کا حقِ ثناءخوانی ادا کرنے کے لئے پنڈی بھٹیاں کے انتخابی میدانِ کا ر زار میں جا پہنچیں جہاں جب پی ٹی آئی کے جوشیلے جوانوں نے اُن کا ” پرُ تپاک “ استقبال کیا تو قانون حرکت میں آگیا۔ اس منظر نامے کے پیچھے رانا ثناءاللہ کا ” ویژن “ کام کررہا ہے۔
تو قارئین کرام۔۔۔ آپ کو اب ہر قسم کے ” ویژن “ کا سامنا کرنے کے لئے اپنے آپ کو تیار رکھنا چاہئے۔
”ویژن “ اب ہر منڈی میں دستیاب ہے۔۔۔

Scroll To Top