لوہے کا چنا ہوا چنا چورگرم

  • ”کل کے سائیکل سوار اور خستہ حال کوٹھڑی کے مکین آج دنیا کی مہنگی ترین لگژری گاڑیوں اور وسیع و عریض زمینی رقبوں کے مالک کیونکر بن بیٹھے؟ جب ایسی جادوئی دولت آفرینی کی گرفت کی جاتی ہے تو ’جمہوریت خطرے میں ہے‘ کا واویلا اور پٹ سیاپا شروع کر دیا جاتا ہے۔ اب مگر یہ ناٹک نوٹنکی زیادہ دیر چل نہیں سکے گی۔“

لاہورکا تاریخی لوہاری دروازہ
ایک چھوٹی سی گلی میں چھوٹا سا بوسیدہ مکان
بیٹھک میں میں خواجہ محمد رفیق کا انٹرویو کررہا تھا۔
خواجہ صاحب رزق حلال کمانے والے ایک درویش صفت انسان تھے۔ قریب ہی میوہسپتال روڈپر ایک چھوٹے سے دستی پرنٹنگ پریس کے مالک تھے۔ سینما گھروں کی ٹکٹیں چھاپا کرتے اور پھر خود ہی ان کے چھوٹے چھوٹے بنڈل بنا کر گاہکوں کو ڈلیور کرنے جاتے تھے۔
انٹرویو کے دوران ایک سات آٹھ سالہ ننگ دھڑنگ بچہ کمرے کے سامنے سے گزرا تو خواجہ صاحب نے اسے ڈانٹتے ہوئے گھر کے اندر جانے اور سابق یاد کرنے کا کہا۔ پھر میری طرف متوجہ ہوئے”ایہہ میرا نلائق پترا اے پڑھائی وڑھائی چ دلچسپی نئیں لیندا“
48 سال پہلے کا وہی ننگ دھڑنگ بچہ سعد رفیق آج ننگ تہذیب کرپشن کے الزام میں نیب کے ہتھے چڑھ گیا تھا کل تک بڑے طنطنے اور ترنگ کے ساتھ خود کو ”چناچورگرم“ کی اوقات پر آ چکا تھا۔ نیب نے سے اس کے بھائی سلمان سمیت اربوں روپے کرپشن کے الزام میں حراست میں لے لیاتھا۔
اس ظالم نے بڑی کشادگی سے تہمتیں جمع کر رکھی تھیں۔ کون سا الزام دشنام یا اتہام نہیں جو اس کی ذات سے چمٹا نہ ہو۔
چند سال پہلے تک پرانے بائیسکل اور پھر 70سی سی موٹر سائیکل سوار آج لاکھوں روپے مالیت کی پجاور کا مالک بن چکا تھا۔ جس کا باپ اندرون شہر کے چھوٹے سے بوسیدہ مکان میں رہتا تھا آج بیٹا اربوں روپے مالیت کی زمینوں کا مالک کیونکر ہوگیا۔
مارشل لاءدور میں وہ کس طرح اپنے مربی نواز شریف کو دغا دے کر مشرف کیمپ میں شامل ہوا، مختلف الزامات کی پاداش میں اسے نون لیگ سے نکال بھی دیا گیا، بعد میں سیاسی وچولوں کی مدد سے اس نے دوبارہ ناشریفوں اور اعتماد حاصل کرنے کے جتن کئے۔ ایک عرصے تک وضع دار سیاستدان چوہدری شجاعت اور پرویز الٰہی اس کے گھر کا کچن چلاتے رہے۔ پھر جب سیاست کو تجارت بنانے کا کیڑا اس کے کھوپڑے میں اچھل کود کرنے لگا تو اس نے اپنے سیاسی اثرورسوخ کے ذریعے مختلف اسامیوں بطور خاص پراپرٹی ڈیلروں کے الٹے سیدھے کام کروانے شروع کئے۔ اسی دوران اس کی مڈبھیڑ قیصر امین بٹ نامی پراپرٹی ڈیلر سے ہوئی جس نے علاقہ اقبال ٹاﺅن میں سعد رفیق کی رہائش کا بندوبست کیا۔ مکان کا کرایہ بھی یہی قیصر امین بٹ ادا کرتا رہا۔ جس نے اس ملاقات اپنے ایک خاص کارندے ندیم ضیاءسے کرائی۔ اس کے بعد بدی کی اس تکون نے مختلف پٹواریوں اور محکمہ مال کی ملی بھگت سے شہر کے مختلف حصوں بطور خاص چھاﺅنی کی حدود یا اس سے ماورا زمینوں پر قبضے شروع کئے اور بہت کم عرصے میں تین چار ہاﺅسنگ سوسائٹیاں بناڈالیں، جب ایک کمپنی کے فراڈی کاموں پر غریب متاثرین کی گرفت مضبوط ہونے لگتی یا احتسابی اداروں کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع ہوتا تو اس کمپنی کو تحلیل کرکے کسی نئے سائن بورڈ کے سات نئی کمپنی کھڑی کرلی جاتی۔ اس سارے دو نمبری دھندے میں خواجہ سعد رفیق کا اثرورسوخ ان کی ڈھال بن جاتا رہا۔ اسی دوران شہباز شریف کی نگرانی میں آشیانہ اقبال و آشیانہ قائداعظم کے ناموں سے ہاﺅسنگ پروجکیٹس شروع ہوئے تو سعد رفیق وغیرہ پیراگون ہاﺅسنگ سوسائٹی کے نام سے ان پروجیکٹس میں کود پڑے اور مال مفت اینٹھنے میں پیش پیش رہے۔
بکرے کی ماں مگر کب تک خیر منا سکتی تھی۔ ملک میں انسداد کرپشن کی جو ہوا چلی تھی۔ اب تندخو آندھی بنتی جا رہی ہے اور اسی کے زیر اثر ریاستی ادارے ماضی کے مقابلے میں زیادہ مستعد اور چوکس ہوچکے ہیں چنانچہ اس وقت کیفیت یہ ہے کہ ایف آئی اے ہو یا نیب اور دوسرے ادارے ان کی جرائم پیشہ عناصر بطور خاص عوامی عہدوں پر متمکن رہنے والوں کا محاسبہ تیز تر کر دیا گیا ہے۔ اور خواجہ برادران کی گرفت بھی اسی سلسلے کڑی ہے۔
سعد رفیق چونکہ اپنی معاشی حرام پائیوں سے اچھی طرح آگاہ تھا اس لئے اس نے ایک عرصے سے پیش بندی کے طور پر پی ٹی آئی اور منتخب ہونے کے بعد اس کی حکومت کے خلاف شدید حد تک ہرزہ سرائی شروع کر رکھی تھی۔ اس سے پہلے کیا پیپلزپارٹی اور کیا نون لیگ دونوں ہی نیب کے ادارے کو ایک دوسرے کے خلاف بلیک میلنگ کے ہتھیار کے طورپر استعمال کرتے رہے مگر اب کہ قومی سطح پر اینٹی کرپشن کی آندھی چل نکل یہے تو پیپلزپارٹی اور ن لیگ دونوں میں نیب کے خلاف ہذیان بکنے لگی ہیں اور پی ٹی آئی نیب گٹھ جوڑ کی خود ساختہ طوطا مینا برانڈ کہانیاں سنانے لگی ہیں۔
یہی نہیں ان دونوں پاٹیوں نے اندر خانے یہ غیر تحریری معاہدہ بھی کررکھا ہے کہ آنے والے ایام میں حکومت پر دباﺅ بڑھانے ےک لئے پارلیمانی اداروں کی معمول کی کارورائی میں روڑے اٹکائے جائیں گے۔ پھر قومی اسمبلی میں ایک جعلی اتحاد کے ذریعے حکومت کو نفسیاتی دباﺅ میں لانے کا جتن کیا جائےگا۔
دوسری طرف مگر نون لیگ کی اندرونی صفوں میں بھی ٹوٹ پھوٹ کا عمل تیز ترہو چکا ہے۔ تقریباً دو درجن نون غنے ارکان اسمبلی فارورڈ بلاک بنانے کا تہیہ کئے بیٹھے ہیں۔ نون لیگ کی قیادت بھ یاس امر سے بخوبی آگاہ ہے چنانچہ جاتی امرائکی اونچی فیصلوں کے اندر ایک بار پھر ”طاقت کے مراکز“ سے ڈیل کی مشاورت شروع ہو چکی ہے۔ ایک ذریعے کے مطابق مسروقہ دولت کا 80فیصد حصہ لوٹانے اور تاحیات جلاوطنی کی آفر پیش کی گئی ہے۔ حمزہ شہباز کا براستہ دوحہ لندن ”فرار“ کی مہم جوئی اسی سلسلے کا حصہ ہے۔ جس کی تفصیل میں آئندہ پیش خدمت کرونگا۔

Scroll To Top