غداری اور بغاوت اسلامی تاریخ کے آئینے میں

کبھی کبھی یہ خیال آئے بغیر نہیں رہتا کہ پاکستان کو ” وفاق “ کہنا اس نظریہ کی نفی ہے جس کی بنیاد پر یہ مملکت قائم ہوئی تھی۔ وفاق ایک مغربی تصور ہے اور اس کا مطلب اس کے سوا اور کوئی نہیں اس میں مختلف اکائیاں رضاکارانہ طور پر یا کسی انتظام کے تحت شامل ہوگئی ہیں۔ پاکستان چونکہ دو قومی نظریہ کی بنیاد پر عالم ِ وجود میں آیا تھا اس لئے اس امر میں کوئی شک و شبہ ہونا ہی نہیں چاہئے کہ اس میں اُمتِ محمد ی کے علاوہ دوسری کوئی قوم بھی اس انداز میں آباد ہے کہ مملکت کووفاق کا درجہ دینا ضروری ہو۔ یقینی طور پر اس میںغیر مسلم بھی آبادہیں جنہیں ہم اقلیتوں کانام دیتے ہیں اور جن کے حقوق اور جن کی سلامتی کا تحفظ ہماری دینی ذمہ داری ہے۔
جب ہم اسلامی جمہوریہ ءپاکستان کو وفاقِ پاکستان کے نام سے یاد کرتے ہیں تو ہم نادانستہ طور پر اپنی ملی شناخت کومنقسم کردیتے ہیں۔ ” وفاق “ کی اصطلاح سوویت یونین یا یوگوسلاویہ کے لئے تو استعمال کی جاسکتی تھی کیوں کہ وہاںواقعی مختلف علاقوں میں مختلف قومیں آباد تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ” وفاق“ کی بنیاد یوگوسلاویہ میں کمزور پڑی تو کروشیا الگ ہوگیا ¾ سربیا الگ ہوگیا اور بوسنیا الگ ہوگیا۔ اسی صورتحال کا سامنا سوویت یونین کو بھی کرنا پڑا۔ میں جب سوویت یونین اور یوگوسلاویہ کا حشر یاد کرتا ہوں تو ” وفاق “ کا لفظ میرے پورے وجود میں ایک سرد لہر دوڑائے بغیر نہیں رہتا۔
گزشتہ دس بارہ برس میں امریکی سرپرستی میں ” اسلامی تشخص “ اور ” پولٹیکل اسلام “ کی اصطلاحوں کو زبردست پروپیگنڈے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
پاکستان کی نظریاتی اساس پر ضربِ کاری 18ویں ترمیم کے ذریعے لگائی گئی جس میں صوبائی خود مختاری کے نام پر اسلامی جمہوریہ ءپاکستان کو چار علاقائی شناختوں میں تقسیم کردیا گیا۔ اگر میں یہ کہوں توغلط نہیں ہوگا کہ ہم نے دو قومی نظریہ پر قائم ہونے والے پاکستان کے سینے میں ایک ٹائم بم نصب کردیاہے جسے کوئی بھی طالع آزما ¾ غیر ملکی طاقتوں کا کوئی بھی ایجنٹ اور ہوسِ اقتدار سے مغلوب کوئی بھی سیاست دان کسی بھی وقت پھاڑ سکتا ہے۔
ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے پاکستان کے مستقبل کوتباہی و بربادی کے آتش فشاں کے دہانے پر بٹھائے رکھنے کے لئے ایک بڑے ہی حسین اور دلکش نظر آنے والے جواز کا انتخاب کر رکھا ہے۔ ہمارے سیاست دان اب بھول کر بھی پاکستا ن کو اسلامی فلاحی مملکت بنانے کے ارادے کا اظہار نہیںکرتے ¾ اُن کے منہ سے صرف ایک اصطلاح نکلتی ہے ۔ ” جمہوریت “ ۔
کوئی شک نہیں کہ جمہوریت ایک عظیم تصور ہے۔ مغرب میں اس کے معنی جوبھی لئے جاتے ہوں ¾ ہماری تاریخ میں جمہور کا مطلب خلقِ خدا ہے۔ اور جمہوریت کا مطلب خدا کے بتائے ہوئے قوانین کے مطابق روئے زمین پر خلقِ خدا کی حکومت قائم کرناہے۔
یہ تصور پوری رعنائیوں جولانیوں اور توانائیوں کے ساتھ ” خلافتِ ابوبکر صدیق ؓ “ کے قیام کے ساتھ ابھر کر سامنے آیا تھا۔ مگر اس تصور میں خلقِ خدا کا مطلب خلقِ خدا تھا ¾ یا اُمتِ رسول تھا مختلف نسلی لسانی اور قومیتی شناختیں ہرگز نہیں تھا۔یہ نسلوں اورقومیّتوں کے فرق آپ نے اپنے آخری خطبے میں بڑے واشگاف انداز اور الفاظ میں مٹا دیئے تھے۔
” تم میں اب نہ تو کوئی عجمی ہے اور نہ ہی عربی۔ نہ کوئی گورا ہے اور نہ ہی کوئی کالا ۔ تم ایک امّت ہو۔ تمہارا خدا ایک ہے۔ تمہارا قرآن ایک ہے اور تمہارا ایمان ایک ہے۔“
بقیہ صفحہ نمبر 8پر ملاحظہ فرمائیں
میں نہیں سمجھتا کہ جو بھی شخص دانستہ یا نادانستہ طور پر آنحضرت کے فرمان کو نظرانداز کرتا ہے یا ٹھکراتا ہے ¾ اس کے مسلمان ہونے کے بارے میں شکوک نہیں ہونے چاہئیں۔ اس فرمان کے تحت آپ نے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہمارے قومی تشّخص کی واضح تعریف کردی تھی۔ اس بات کا مطلب یہ نہ لیا جائے کہ دنیا بھر کے مسلمان ایک مملکت کے شہری بن سکتے ہیں۔ اس کرہءارض کی اپنی جغرافیائی صداقتیں موجودہیں۔ مملکتیں ہمیشہ جغرافیائی وحدت کے نتیجے میں قائم ہوتی ہیں۔پاکستان ایک جغرافیائی وحدت ہے ۔ یہ درست ہے کہ اس کے مختلف علاقوں میں مختلف زبانیں بولنے اور مختلف نسلوں اور قبیلوں سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد ہیں لیکن ان کی ” شناخت “ کو مملکت کی نظریاتی شناخت سے جُدا کردینا ¾ ایسے طوفانوں کو دعوت دینے کے مترادف ہے جن کا متحمل ہمارا پاکستان نہیں ہوسکتا۔
اگر پاکستان کو ایک مخصوص انداز میں وفاق بنانا ہی مقصود ہے تو اسے درجنوں انتظامی یونٹوں کا وفاق بنایا جانا چاہئے تاکہ اقتدار کی برکات براہ راست خلقِ خدا تک پہنچیں ¾ اور ان وڈیروں خوانین ¾ سرداروں ¾ نوابوں اور چوہدریوں تک محدود نہ رہیں جو نسلی و علاقائی عصبیتوں کوہوا دے کر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کویقینی بناتے ہیں۔اس موضوع پر لکھنے کی ضرورت مجھے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل کے اس تکلیف دہ بیان کو پڑھ کر پیش آئی ہے کہ اگر کشمیریوں کو حقِ خودارادیت ملنا چاہئے تو بلوچوں کوکیوں نہیں ؟ یہ بیان انہوں نے عام انتخابات میںحصہ لینے کے فیصلے کے اعلان سے پہلے دیا۔ وہ ایک دو روز قبل ہی اپنی غیر ملکی محفوظ پناہ گاہ سے وطن واپس پہنچے تھے ۔ ایک بلوچ قوم پرست تنظیم بلوچستان نیشنل فرنٹ کے ایک کمانڈر ڈاکٹر اللہ نذر نے ان کی آمد پر مطالبہ کیا تھاکہ وہ بلوچوں کی جدوجہدِ آزادی کے ساتھ یک جہتی کے لئے ”غاصب پاکستان “کے تحت ہونے والے انتخابات کا بائیکاٹ کریں۔
آپ نے لغت میں غداری ¾ ملک دشمنی ¾ بغاوت اور اس مفہوم کے کئی دیگر الفاظ دیکھے اور پڑھے ہوں گے۔ ہوسکتا ہے کہ ہر شخص ان الفاظ کی تشریح اپنے انداز میں کرتا ہو۔ اور کچھ لوگوں کی نظروں میں غدار درحقیقت غدار نہ ہوں اور ملک دشمن اصل میں ملک دشمن نہ ہوں۔ ہمارے پاس الفاظ کے کچھ ایسے ذخیرے بھی ہیں جو خطرناک سے خطرناک اصطلاحوں کے مفہوم تبدیل کرڈالتے ہیں۔ مثلاً انسانی حقوق ۔ اور جمہوری امنگیں وغیرہ وغیرہ۔
لیکن میرے خیال میں یہاں ہمیں رہنمائی اپنی تاریخ سے لینی چاہئے۔
اس حقیقت سے اسلام کے بدترین دشمن بھی اختلاف نہیں کرتے کہ آپ درحقیقت امن کے پیغام برتھے ¾ رحمت الالعالمین تھے ۔ مشہور امریکی مصنفہ کیرن آرمسٹرانگ نے آپ کو اِن ہی الفاظ سے یاد کیا ہے۔
پھر آپ نے بنو قریظہ کے غداروں کو معاف کیوں نہ کیا؟
بنو قریظہ ایک طاقتور یہودی قبیلہ تھا۔ ان لوگوں کا ریاست ِمدینہ کے ساتھ ایک باقاعدہ معاہدہ تھا کہ دشمن کے حملے کی صورت میں وہ ایک دوسرے کادفاع کریں گے۔ مگر جنگِ خندق میںبنو قریظہ نے در پردہ قریش حملہ آوروں کی بھرپور مدد کی اور ان کی اس بدعہدی اور غداری کے نتیجے میں مسلمانوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
جنگِ خندق کے بعد آپ پر وحی نازل ہوئی کہ بلاتاخیر بنو قریظہ کو ان کی غداری کی سزا دی جائے ۔ آپ نے خیبر پر چڑھائی کی۔ایک عَلم حضرت علی ؓ کو اور ایک حضرت زبیر بن العوام ؓ کو دیا۔ طویل محاصرے کے بعد یہودیوں نے ہتھیار ڈال دیئے۔ بہت سارے لوگوں نے آپ کو مشورہ دیا کہ نرم رویہ اختیار کیا جائے۔ آپ نے فرمایاکہ فیصلہ حضرت سعد ؓ بن معاذ کریں گے جنہوں نے معاہدہ کرایا تھا اور جو شدید زخمی حالت میں مدینہ میں تھے۔ حضرت سعدؓ بن معاذ کو وہاں لایا گیا اور انہوں نے فیصلہ یہ دیا کہ غداروں کی سزا موت کے سوا اور کوئی ہو ہی نہیں سکتی۔چنانچہ بنو قریظہ کے سات سو مرد تہ تیغ کردیئے گئے۔
میں سمجھتا ہوں کہ یہ اقدام ایک نبی کا نہیں ایک مملکت ساز سٹیٹسمین کا تھا۔ جو قومیں اپنے غداروں کوسزا دینے میں کوتاہی برتا کرتی ہیںانہیں اس عمل کی قیمت بڑی بھاری ادا کرنی پڑتی ہے۔
اسی نوعیت کا فیصلہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے سامنے بھی آیا۔ جب مدینہ کے گردونواح کے قبائل نے زکوٰة ادا کرنے سے انکار کردیا۔ اس کے ساتھ ہی فتنہءارتداد بھی اٹھ کھڑا ہوا۔
صحابہ کرامؓ کی اکثریت نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو مشورہ دیا کہ چونکہ ایک اسلامی لشکر حضرت اسامہ بن زید ؓ کی سالاری میں شام کے محاذ پر لڑرہا ہے ¾ اس لئے باغی قبائل کے ساتھ مذاکرات اور مصلحت سے کام لیا جائے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ حضرت عمر فاروق ؓ کامشورہ بھی یہی تھا۔
حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اس مشورے کو ماننے سے انکار کردیا۔ انہوں نے فرمایا۔
” خدا کی قسم زکوٰة دینے سے انکار کرنے والا خدا کا باغی ہے۔ اور میرے نبی کا حکم ہے کہ خدا کے کسی بھی باغی کو معاف نہ کیا جائے۔ وہ لوگ بھی خدا کے باغی ہیں جو دین سے مرتد ہوگئے ہیں۔ اب اُن کی گردنیں ہوں گی اورہماری تلواریں ہوں گی۔“
میں اپنے اکابرین سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ ” کیا آج کا پاکستان حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے ابتدائی دور کے مدینہ سے بھی زیادہ کمزور اور بے بس ہے ؟“

Scroll To Top