بھارت کے ریاستی انتخابات میں بی جے پی کو واضح شکست

  • طویل عرصہ بعد کانگریس نے بھارتیہ جنتاپارٹی کو کئی ریاستوں سے نکال باہر کیا
  • 2019 میں مودی کی دوبار ہ جیت کے امکانات موجودہ انتخابی نتائج کی روشنی میں معدوم ہوچکے
  • بھارت کے عام شہریوں نے ووٹ کی طاقت سے نریندر مودی کی پالیسیوں کو عملا مسترد کردیا
  • نریندرمودی نے سیکولر اقدار کی بجائے ہندو انتہاپسندی کی شکل میں بھارت کو خوب نقصان پہنچایا

بھارت کے ریاستی انتخابات میں بی جے پی کو شکست نریندر مودی کے لیے خطرے کی گھنٹی قرار دی جارہی۔اب تک کے نتائج کے مطابق حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کانگریس نے ریاست چھتیس گڑھ میں بی جے پی کو اقتدار سے نکال باہر کیا جبکہ راجستان میں بھی اکثریت حاصل کرلی۔ ادھر شمالی ریاست مدھیہ پردیش کے انتخابی نتائج کے آخری مرحلہ میں کانگریس بھارتیہ جنتا پارٹی سے آگے ہے۔ بھارت کی جنوبی ریاست تلنگانہ میں ٹی آر ایس کامیاب جبکہ کانگریس دوسرے نمبر پر آئی ادھر بھی بھارتیہ جنتا پارٹی خاطر خوا ہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میںناکام رہی،شمالی مشرقی ریاست میزورم میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔
بھارت میںآئندہ سال عام انتخابات ہونے جارہے، سیاسی مبصرین کے مطابق ریاستی انتخابات میں بھارتیہ جنتاپارٹی کو جس وسیع پیمانے پر شکست ہوئی اس کے اثرات 2019کے عام انتخابات پر پڑ سکتے ہیں، یہ بھی کہا جارہا کہ بھارتیہ جتنا پارٹی تیزی سے اپنی حمایت کھو رہی ، یعنی آئندہ عام انتخابات کے لیے اسے کچھ ایسا کردکھانا ہوگا جو اسے کامیابی سے ہمکنار کرسکے۔ریاستی انتخابات کے نتائج بھارتیہ جتنا پارٹی کی مشکلات میں اضافہ کی نوید سنا رہے، زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب یہ کہا جارہا تھا کہ آئندہ انتخابات میں بھی نریندر مودی ہی کامیاب ہونگے مگر شائد اب ایسا نہیں ہوگا۔ کانگریس بعض ریاستوں میں پندرہ برس کے بعد اپنی سیاسی قوت کا مظاہرے کرنے میں کامیاب ہوئی ہے ، کانگریس پہلے سے ہی اکھلیش یادو،مایاوتی اور لالوپرشاد کی جماعت کے ساتھ وسیع تر اتحاد بنانے کی تیاری کررہی ہے ، ان انتخابی نتائج کے بعد اس میں مذید تیزی آنے کا امکان ظاہر کیا جارہا۔
یہ بھی کہا جارہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی شکست عملا نریندر مودی کے اس موقف کی ہار ہے جسے وہ پوری قوت سے سامنے لارہے تھے۔ مودی نے جہاں ایک طرف انتہاپسند ہندووں کو یہ باور کروایا کہ اس کی جیت اکھنڈ بھارت کا خواب شرمندہ تعبیر بنانے میں معاون ثابت ہوگی وہی شائنگ انڈیا کا نعرہ لگا کر کاروباری طبقہ کو بھی ساتھ ملانے کی کامیاب کوشش کی۔ بطور وزیر اعظم نریندرمودی نے خارجہ محاذ پر تو کچھ کامیابی ضرور حاصل کی مگر عام بھارتی کے لیے وہ ایسا کچھ نہ کرسکے جو اس کی مشکلات میں خاطر خواہ کمی لاتا۔
نریندر مودی پر یہ محض الزام نہیں کہ اس نے سیکولر بھارت کو ہندو ریاست میں تبدیل کرنے کی منعظم کوشش کی، بے جے پی کے دور اقتدار میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ جو ظلم واستحصال پر مبنی رویہ اختیار کیا گیا وہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کشمیر کو مودی سرکار نے طاقت کے زور پر جس طرح دبانے کی کوشش کی اس کا نتیجہ بھی الٹ نکلا، غرض نریندر مودی کی بہت ساری ایسی ناکامیاں ہیں جو آئندہ سال ہونے والے عام انتخابات میں ان کی کامیابی میںرکاوٹ بن سکتی ہیں۔
حال ہی میں پاکستان کی جانب سے کرتارپور راہداری کھولنے کا فیصلہ بھی بی جے پی کی سفارتی شکست کے طور پر دیکھا گیا۔ بھارتی میڈیا کے سنجیدہ حلقوں نے کھل کر کہا کہ لگتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی پاکستان کی جانب سے ایسے کسی بھی اقدام کی توقع نہیں کررہی تھی، کروڈوں سکھوں کو بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کے بیانات کے زریعہ یہ تاثر ملا کہ شائد بی جے پی اس راہداری کے کھلنے سے خوش نہیں ہوئی۔
پاکستان کسی طور پر بھارت میں ہونے والی سیاسی تبدیلیوں سے لاتعلق نہیں۔مخصوص حوالے سے تو کہا جاسکتا کہ پاکستانی عوام خوش ہوئے کہ ریاستی انتخابات کے بھارتیہ جنتا پارٹی جیسی انتہاپسند جماعت کی بجائے اعتدال پسند کامیاب ہوئے۔ یہ امید کرنا غلط نہ ہوگا کہ بھارتی ریاستوں کے حالیہ نتائج کے بعد بھارت میںامن پسند حلقوںکا حوصلہ بڑھے گا، وہ پورے عزم کے ساتھ ایک بار پھر کوشاں ہونگے کہ آئندہ سال نئی دہلی میںایسی حکومت براجمان ہو جوکسی انتہاپسند ایجنڈے کی تکمیل کی خواہشمند نہ ہو۔
پاکستان اور بھارت دوایٹمی قوت کی حامل ریاستیں ہیں۔یہ سوچنا بھی پاگل پن ہے کہ دونوں ملکوں میں معاملہ جنگ تک جا پہنچے ، وزیر اعظم عمران خان نے درست کہا کہ اب پاکستان اور بھارت کے پاس سوائے امن کے کوئی راستہ نہیں بچا۔ مودی سرکار کا المیہ یہ ہے کہ اس کی سیاسی طاقت کا دارومدار ہی پاکستان ، مسلمان یا اسلام دشمنی پر ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے انتہاپسندہندووںکو خواب دیکھا رکھا ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب بھارت کو ہندو ریاست کا درجہ دے دیا جائیگا۔ ٹھیک کہا گیا کہ انتہاپسند چاہے جس بھی شکل میں ہوں عقل وشعور سے بیگانے ہوا کرتے ہیں، ان سے ہوشمندی پر مبنی اقدمات اٹھانے کی امید کرنا خام خیالی کے سوا کچھ نہیں۔
بھارت کے نریندر مودی کے دور اقتدار کی ناکامیاں کامیابیوں سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے نظریاتی طور پر بھارت کو جو نقصان پہنچایا اس کی تلافی کب اور کیسے ہوگی کچھ نہیں کہاجاسکتا۔ آئندہ سال ہونے والے عام انتخابات میںایک طرف اعتدال پسند جماعتیں لوگوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کریں گی تو دوسری جانب بی جے پی کی شکل میںایسی سیاسی قوت پھر زور لگائے گی جو پہلے ہی عوام کی توقعات پر پوری نہیں اتری۔حالیہ ریاستی انتخابات میں جس طرح بھارتیہ جنتا پارٹی کو مسترد کیا گیا اسے بھارتی عوام کے مہذب اجتجاج کے طور پردیکھا جارہا جو یقینا بی جے پی کے خلاف سامنے آیا ۔

Scroll To Top