سکندر اعظم سے کامران خان تک کھیل سارا تلوار کا ہے۔۔۔۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے میڈیا نے لائرز موومنٹ کے دوران جنرل پرویز مشرف کے اقدامات کے خلاف اور چیف جسٹس افتخار چوہدری کی مزاحمت کے حق میں ایک تاریخی جنگ لڑی۔ یہ اور بات ہے کہ وقت نے ثابت کیا کہ لائرز موومنٹ کے پیچھے جو سرمایہ تھا اور جو قوتیں تھیں ان کا مقصد عدلیہ کی سربلندی نہیں بلکہ حکومتِ وقت کو عدم استحکام کا شکار کرکے ایک ایسی قیادت کا راستہ ہموار کرنا تھا جو خطے میں امریکی اہداف کی تکمیل کے لئے قابل اعتماد معاون ثابت ہوسکے۔
بہرحال میڈیا نے اپنی قوت کو منوا لیا۔ ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ اس میڈیا کو اتنے بڑے پیمانے پر آزادانہ انداز میں پھیلنے کا موقع جنرل پرویز مشرف نے اپنی ” اصلاحاتی “ پالیسیوں کے ذریعے فراہم کیا تھا۔
ہمارے میڈیا نے دوسری بار اپنا لوہا بڑے پیمانے پر ہونے والی کرپشن کو بے نقاب کرکے اور کرپشن کے خلاف عمران خان کی جنگ کو موثر ایندھن فراہم کرکے منوایا۔
گزشتہ روز اس سلسلے میں اے آر وائی کے اینکر پرسن ارشد شریف کو اعترافی اعزاز سے بھی نوازا گیا جس کے وہ مستحق ہیں۔ ارشد شریف نے درجنوں پردوں کے پیچھے چھپے ہوئے کراہت انگیز رازوں کو ایک ماہر کھوجی کی طرح بے نقاب کرکے کرپشن کے خلاف لڑی جانے والی جنگ کو نہایت اثر آفرین ایندھن فراہم کیا۔ اس ضمن میں صابر شاکر ` رﺅف کلاسرا` عامر متین ` عارف حمید بھٹی ` ندیم ملک ` مبشر لقمان ` غلام حسین ` سعدیہ افضال اور دیگر متعدد صحافیوں اور اینکر پرسنز کی کاوشوں کا ذکر نہ کرنا بے انصافی ہوگی۔ اس ضمن میں ڈاکٹر شاہد مسعود کا ذکر میں خاص طور پر کروں گا جو آج کل اپنی زندگی کے ایک نہایت غلط فیصلے کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔
بہرحال جو بات میں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ میڈیا اب پاکستان میں بھی درحقیقت ریاست کا چوتھا ستون بن چکا ہے۔ برطانیہ میں بہت پہلے نیشنل پریس کو انتظامیہ مقننہ اور عدلیہ کے بعد ریاست کا چوتھا ستون قرار دیا جاچکا تھا۔
کہا جاتا ہے کہ Power Corrupts یعنی اقتدار کرپشن کا دروازہ کھولتا ہے۔ مزید اس ضمن میںیہ کہا جاتا ہے کہ Absolute Power Corrupts Absolutelyیعنی اگر اقتدار ک±لّی یا بے لگام ہوتو کرپشن کے دروازے ہی نہیں کھولتا کرپشن کی گندگی میں دھکیل دیتا ہے۔
اس تاریخی سچائی کی منہ بولتی تصویریں ماضی قریب کے دو حکمران خاندان ہیں جن کے اکابرین آج کل اپنی کھیتی کا پھل کاٹ رہے ہیں۔
اقتدار یا پاور اچھائی کی طاقت بھی بن سکتا ہے اور ایک نشہ بھی جو چڑھ جائے تو آدمی سوچنے لگتا ہے کہ سکندر اعظم بھی وہی ہے ` چنگیز خان بھی وہی ہے تیمور لنگ بھی وہی ہے نیپولین بھی وہی ہے ہٹلر بھی وہی ہے اور کامران خان بھی وہی ہے۔
اس ضمن میں کامران خان کاذکر آپ کو عجیب لگا ہوگا۔ کامران خان تو پاکستان کے ایک مایہ ناز اینکر پرسن ہیں۔ پاکستان کے میڈیا کے سرکاتاج ہیں۔ ان کا ا±ن تاجداروں کے ساتھ کیا تعلق جو صرف تلواریں لہرانا جانتے تھے۔ اور یہ بھی جانتے تھے کہ تلوار کی زد میں آنے والی گردن کٹ کر گرے بغیر نہیں رہتی۔ کامران خان کے ہاتھ میں تلوار نہیں ہوتی۔ مگر جب وہ بولتے ہیں تو ان کی زبان تلوار بن جاتی ہے۔
میں نے یہاں کامران خان کا نام محض ایک علامت کے طور پر لیا ہے۔ ” صاحبِ زبان “ چاہے تو اپنے منہ سے میٹھے س±روں کا سماں باندھ دے اور چاہے تو تیز دھار لفظوں سے بہت سوں کو لہو لہو کرڈالے۔۔۔
02اگست 2018ء کو جب میں جناب عمران خان سے ملا تھا تو وہ ابھی وزارت عظمیٰ پر فائز نہیں ہوئے تھے۔ مگر عملی طور پر وزیراعظم بن چکے تھے۔۔۔
میں نے ا±ن سے کہا تھا۔۔۔ ” کرپشن کے خلاف جنگ میں عوام آپ کے حلیف تھے۔۔۔ میڈیا کے ایک حصے نے بھی آپ کا ساتھ دیا۔۔۔ مگر بڑی سیاسی جماعتیں آپ کی مخالف تھیں۔۔۔ میڈیا کا ایک بڑا حصہ بھی آپ کا مخالف تھا۔ اب آپ کی جنگ اس نظام کے خلاف ہوگی جس نے کرپشن کو جنم دیا۔۔۔ او ر اس نظام کی ایک پیداوار میڈیا بھی ہے۔۔۔ خدا آپ کا حامی و ناصر رہے۔۔۔

Scroll To Top