پدرم سُلطان بُود

  • ”اگر دولت سے ایک نوجوان براہ راست حکومت کا سیکرٹری فوج کا جنرل، ہسپتال کا ڈاکٹر اور سرجن اور ڈیم سازی کا انجینئر نہیں بن سکتا تو پھر آخر سیاست اور حکمرانی کا ہی کیوں دولت کے ذریعے بیڑا غرق کیا جاتا ہے۔ ان شعبوں میں بھی تعلیم و تربیت اور تجربے، مطالعے اور مشاہدے کے درجہ بدرجہ ارتقا کے اصول کو کیوں نہیں اپنایا جاتا ہے۔“

معیشت اور معاشرت لازم و ملزوم
دونوں ایک دوسرے کی ضرورت، طاقت اور کمزوری بھی۔
ہمارا وسیب اور رہن سہن سبھی ان دونوں کے اسیر
برصغیر کے ہمارے حصے پر مسلط فیوڈل کچلر نے یہاں بسنے والوں کے اجتماعی لاشعور اور مائنڈ سیٹ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ جس کا ایک عکس ہماری سیاسی پارٹیوں اور ان پر مسلط قیادتوں کی ساخت میں نظر آتا ہے۔ باپ کے بعد بیٹا یا بیٹی، پھر اس کی اولاد اور یہ سلسلہ یونہی شیطان کی آنت کی طرح دراز ہوتا رہتا ہے۔ اور ستم یہ کہ چند محترم استثناﺅں کے ساتھ، ہمارے اہل قلم، صحافی اور دانشور بھی اسی روش میں بہتے ہوئے وراثتی نظام کی تقویت میں اپنا حصہ ڈالتے رہتے ہیں۔
معاف کیجئے میں سیاسی جماعتوں یا سیاسی عمل کے ارتقاءکا مخالف نہیں، نہ ہی میں نوجوان جذبوں کی تلقیص کا مرتکب ہونے کا سوچ ہی سکتا ہوں۔ میرا سوال تو یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے کہ سونے کا چمچہ منہ میں لے کر پیدا ہونے والے کو شیر خواری میں ہی سیاستدان، حکمران اور رہنما ڈیکلیئر کر دیا جاتا ہے اور جو بیچارے غریب مسکین ہیں وہ عمر بھر شبانہ روز کی خدمت اور مشقت کے باوجود سیاسی کارکن کے کارکن رہتے ہیں۔ میں اپنے محترم دانشوروں اور قلم کاروں سے پوچھتا ہوں کہ کیا انہوں نے کبھی کسی غریب کے نوجوان لخت جگر کے لئے بھی ویسے ہی لکھا ہے جس طرح طبقہ بدمعاشیہ کے سونے کا چمچہ منہ میں لے کر پیدا ہونے والے بچے بابت زمین آسمان کے قلابے ملا کر رکھ دیتے ہیں۔ میں انہیں کسی غریب سیاسی کارکن کے کارکن کے صاحبزادے میں بھی رہنمائی کا کوئی وصف، کوئی اہلیت اور کوئی خوبی دکھائی دی ہے۔ نہیں ہرگز نہیں۔ یہ میرا مشاہدہ بھی ہے اور مطالعہ اور تجربہ بھی۔
مجھے یاد ہے ایک بار ذوالفقار علی بھٹو کو اپنے صاحبزادے شاہنواز بھٹو کی امیج سازی کا شق چڑایا تھا۔ انہوں نے ارشاتاً اپنے اس وقت کے ایک معتمد خاص کو اپنے اس شوق بابت بتا دیا۔ بس پھر کیا تھا منشی منیموں اور بھاڑے کے ٹٹوﺅں کا ایک طائفہ تیار کرلیا یا۔ اس طائفے کے سبھی طنبورے اس نو عمر وڈیرہ زادے میں سوشلزم اور کمیونزم کی اصطلاحوں میں ملغوف ترقی پسندی اور انقلاب پروری کے جرائم تلاش کرنے میں جت گئے تھے۔ یہاں تک کہ یہ کہانی ملوث کی گئی کہ نو عمر شاہنواز بھٹو لاڑکانہ میں واقعہ بھٹو خانوادے کے آبائی (باقی صفحہ7 بقیہ نمبر47
علی ”المرتضیٰ“ کے لن میں گھاس پھونس کی ایک جھونپڑی میں رہتا ہے۔ اور رات کو کیروسین آئل کی لالٹین کی روشنی میں مارکس کی داس کیپتال اور ماﺅزے تنگ کی لال کتاب کا مطالعہ کرتا ہے۔ کہانی کاروں نے یہ تو نہ بتایا کہ محل کے احاطے میں جھونپڑی نشین امیر زادے نے کس یورپی ملک کے ملبوسات اور جوتے پہن رکھے تھے اور ی ہکہ وہ کس ملک کا درآمدی منزل واٹر نوش جان کرتا تھا۔
بات بڑی صاف ہے کہ سیاست کو تجارت سمجھنے والے صاحبان دولت و ثروت اپنے دھندے کی توسیع کی غرض سے اپنی اولاد کی امیج سازی چاہتے ہیں ان کی ذات کے گرد ایسی فینٹسی کھڑی کی جاتی ہے کہ وہ سادہ لوح عوام کے لئے قابل قول بن جائیں۔
اس غرض کے لئے وہ ہمارے دانشوروں اور لفافیوں کو شوفرڈرون چمچماتی گاڑیاں بھجواتے ہیں جو گمنٹوں ان کے گھر کے باہر کھڑی رہتی ہیں اور ہر آتے جاتے ہمسایے کو دانشور صاحب کے قرب شاہی کا پیغام دیتی ہےں اور موصوف کے ٹیگے کا باعث بنتی ہے۔ پھر دانشور صاحب بہادر ایسی گاڑی میں سوار ہوکر اپنے دو چار دوستوں اور رشتے داروں کے ہاں بھی وزٹ کرتا ہے پھر اپنے مربی حکمران کے ایوان میں لنچ یا ڈنر تناول فرماتا ہے اور حق نمک ادا کرنے کی غرض سے اس کے ”پوت“ کی امیج سازی کا ایسا سکرپٹ تیار کرتا ہے جس میں رئیس زادے کی ذات میں انسانی ہمدردی، غریب پروری، اور فہم و فراست کے ایسے ایسے اوصاف ٹھونس ٹھاس کر بھر دیئے جاتے ہیں کہ وہ امیر زادہ خود کو اپنے آپ سے اجنبی سا خیال کرنے لگتا ہے۔
بازار سیاست کے اس سارے ناٹک کا سب سے مہلک پہلو یہ ہے کہ اس میں طبقہ امراءکے اس نوجوان کو پہلی سیڑھی سے ہی براہ راست چھت کی طرف اچھال دیا جاتا ہے۔ اسے سیاست کے ارتقائی مراحل کے تجربے مطالعے اور مشاہدے سے محروم رکھا جاتا ہے۔ چنانچہ وہ جب حکمران بنتا ہے تو اپنی نااہلیت کے باعث نوکر شاہی کے ہتھے چڑھ جاتا ہے جو اپنی ہنر مندی اور چالاکی سے اسے کٹھ پتلی کی طرح انگلیوں پر نچواتی ہے۔ ایسی کٹھ پتلیاں عوا مکی کیا خدمت بجا لا سکتی ہیں۔ اس کا تصور کچھ مشکل نہیں۔
سیاست کو انگریزی زبان میں پولیٹیکل سائنس کہتے ہیں۔ گویا علم اور خدمت کی یہ شاخ سائنسی اصولوں کے مطابق فکر و عمل کا تقاضہ کرتی ہے۔ مگر کیا کیجئے کہ ہمارے ہماں صرف دولت ہی سیاست کی ضرورت اور معیار بن کر رہ گئے ہیں۔ اگر دولت سے ایک نوجوان براہ راست حکومت کا سیکرٹری، فوج کا جنرل، ہسپتال کا ڈاکٹر یا سرجن اور ڈیم سازی کا انجینئر نہیں بن سکتا تو آخر سیاست اور حکمرانی کا کیوں دولت کے ذریعے بیڑہ غرق کیا جاتا ہے۔ اس شعبے میں بھی تجربے، مطالعے اور مشاہدے یعنی تعلیم و تربیت کے درجہ بدرجہ ارتقاءکے اصول کو کیوں نہیں اپنایا جاتا۔ کیا ہمارے ہاں ایسی ضابطہ بندی ممکن نہیں جس کے تحت دولت و ثروت اور حکمرانی کی خاندانی روایت سے قطع نظر اگر کوئی فرد سیاست کے میدان میں داخل ہونا چاہتے ہو تو وہ سب سے پہلے اپنے محلے کی سطح پر سیاسی عمل میں حصہ لے اور پھر وقت کے ساتھ اپنی اہلیت اور میرٹ کے مطابق درجہ بدرجہ اوپر چڑھتا چلا جائے اس ارتقائی عمل سے اس کی شخصیت میں سنجیدگی اور پختگی بھی آئے گی اور اعتماد ذات بھی بڑھے گا۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہماری سیاست میں امیر غریب کی تفریق بھی کم ہوگی۔
کیا ہمارے متوسط اور نیم متوسط افراد اورنہایت قابل احترام دانشور اور غریب کارکن اس اہم ایشو پر غور و فکر کریں گے۔

Scroll To Top