آئین اور قومی بیانیہ اول : شجر طیبہ، دوم: شاخ ثمر بار

  • اہل پاکستان خوش قسمت، ملک میں کرپشن فری کلچر کی علمبردار جمہوری حکومت قائم ہے
  • اور تمام ریاستی اداروں کے مابین بے مثال ہم آہنگی موجود ہے

آئین اور قومی بیانہ
اول شجر طیبہ دوم شاخ ثمر بار
آئین اگر ایک ریاست کی اساسی دستاویز ہے تو قومی بیانیہ آئین کی روشنی میں روزمرہ حالات، واقعات اور معاملات کے تناظر میں قومی ترجیحات کا تعین
شکر الحمد للہ ہمارے پاس 1973ءکا متفقہ اسلامی جمہوری آئین موجود ہے، اسی دستاویز کی روسے ملک میں ایک معینہ دورانیے کے بعد عام انتخابات کے ذریعے قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینٹ کے انتخابات ہوتے ہیں جن کے نتیجے میں متعلقہ دائرہ کار میں حکومتوں کا قیام عمل میں آتا ہے۔
پاکستان میں عمومی طور پر دو جماعتی پارلیمانی طرز حکومت کاچلن رہا ہے۔ پچھلے دو عشروں سے پیپلزپارٹی اور ن لیگ کرپشن کے ایک غیر تحریری معاہدے کی رُو سے ملک پر حکمرانی کرتی آ رہی تھیں۔ پہلی بار ہوا2013ءکے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف اپنے چیئرمین جناب عمران خان کی قیادت میں سادہ اکثریت سے مسند اقتدار پر براجمان ہوئی ہے۔
پی ٹی آئی حکومت کو جس تباہ حال معیشت کے ساتھ حکومت ملی اس کی تفصیل سے ہم سب آگاہ ہیں۔ اس پر طرہ سرحدوں پر جاری نامساعدات اور آوزیشن سے بوجھل حالات، بھارت اور افغانستان جیسے ہمسایہ ممالک کی طرف سے ہمارے ملک میں تخریب کاری اور دہشت گردی کی پے در پے وارداتیں، خط متارکہ جنگ کی بار بار خلاف ورزیاں گولہ باری اور مقامی آبادیوں کی تاراجی۔
درایں حالات لازمی تھا کہ پی ٹی آئی حکومت فوری طورپر اپنی ترجیحات کا تعین کرے۔ اس ضمن میں اس نے سبے سے پہلے تباہ حال معیشت کو سنبھالا دینے پر توجہ دی۔ قومی و بین الاقوامی سطحوں پر دیوالیہ پن سے بچنے کی غرض سے اور آئی ایم ایف کی قومی وقار کے منافی شرائط سے پہلو تہی کرتے ہوئے سعودی عرب، چین، قطر، متحدہ عرب امارات اور ملائشیا جیسے ممالک سے اقتصادی پیکج اورمشترکہ تجارتی سرگرمیوں اور صنعتی پیداوار کے فروغ کی غرض سے سرمایہ کاری پر خصوصی توجہ دی گئی اور اس باب میں عمران خان کو غیر معمولی کامیابی بھی حاصل ہوئی۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ ملک سے لوٹی ہوئی دولت کی ہر شکل صورت کو ملک میں واپس لانے کے لئے خاموش اور برسرعام کوششیں کی گئیں جن کے نتیجے میں امیدواثق ہے کہ ملک کو جلد ہی ایک ہمہ گیر اور ہمہ جہت معاشی ریلیف میسر آ جائے گا۔ اور ملک ہر اعتبار سے ایک صحت مند معاشرت اور معیشت کی شاہراہ پر رواں دواں ہو جائے گا۔
یہی وہ ناگزیر پیش آمدہ حقیقت ہے جس سے خوفزدہ ہوتے ہوئے پاکستان کی منتشر اور غالب طور پر کرپٹ اپوزیشن نے عمران حکومت کو اس کے قیام کے پہلے دن سے چلتا کرنے کے جتن شروع کر دیئے اور ہر روز اس کی رخصتی کا نظام الاوقات دینا شروع کر دیا۔
حکومتی ارکان، پارٹی کی تنظیم، چئرمین کی خانگی زندگی کو ابتر کرنے کے لئے افواہ سازی، کارکنوں کے ذاتی جھگڑے اور اختلافات وغیرہ وغیرہ کا سلسلہ ان سب کے سوا، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کرپشن کے خاتمے کے لئے سرگرم عمل اداروں اوران کے وابستگان کی کردار کشی۔
اسی دوران بھارت نے اپنے پیش آمدہ عام انتخابات کے حوالے سے پاکستان دشمن چورن بیچنا شروع کر دیا۔ خط متارکہ جنگ پر گولہ بارود کی بارش کو دن رات کا معمول بنالیا۔
اندرونی و بیرونی سطحوں پر جاری ان حالات کا اثر یقینا حکومتی کارگزاری کو بھی منفی طور پر متاثر کر رہا تھا۔ اپوزیشن نے مزید ظلم یہ کیا کہ حکومت اور ریاستی اداروں کے مابین نام نہاد”آویزش“ اور فاصلوں بابت افواہ سازی شروع کر دی۔ اس ضمن میں لفافہ برانڈصحافت اور سوشل میڈیا کا انتہائی غلط استعمال شروع کر دیا۔
یہی وقت تھا کہ ایک نوزائیدہ جمہوری حکومت جو ملک کی سب سے مہلک بیماری یعنی کرپشن کے خاتمے کا عزم بالجزم کئے ہوئے ہے اسے ریاست کے تمام ادارے تحفظ فراہم کریں۔ اور اسے جمہوریت سے آراستہ پالیسیوں کے سلسلے میں ہر طرح کا اخلاقی تحفظ فراہم کیا جائے۔ اس ضمن میں سپریم کورٹ کے زیر اہتمام تنظیم آبادی کے حوالے سے منعقدہ قومی کانفرنس کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے جس عزت مآب چیف جسٹس آف پاکستان جناب ثاقب نثار نے ریاست مدینہ کے قیام کے حوالے سے وزیر اعظم کو مکمل اعانت فراہم کرنے کی پیشکش کی کچھ روز بعد ایک پریس بریفنگ میں پاکستان کی بہادر اور شجاع افواج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے سربراہ جنرل آصف غفور نے جہاں(باقی صفحہ7 بقیہ نمبر27
معین مفہوم میں ایک قومی بیانیے کی جزئیات بیان کیں معیشت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا۔ گرتی ہوئی معیشت اپنے پاﺅں پر کھڑی ہو گئی ہے۔ ترقیاتی اور اچھے کام ہورہے ہیں، ہم ان کو پلٹنے نہیں دیں گے۔ انہوںنے جرائم کے حوالے سے بتایا کہ آج پاکستان عالمی سطح پر 6ویں نمبر سے 57ویں نمبر پر آ چکا ہے۔ انہوںنے میڈیا پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ چھ ماہ تک اپنا فوکس قومی ترقی پر رکھے پھر دیکھے ہمارا مستقبل کس قدر مسحتکم اور خوشحال ہوتا ہے۔
جنرل آصف غفور نے پاک افواج کی ترجمانی کرتے ہوئے وضاحت کی کہ یہ ریاستی ادارہ کسی ایک پارٹی یا صوبے کا نہیں پورے پاکستان کا ہے۔ انہوں نے اس حقیقت کو بھی کھل کر بیان کر دیا کہ جمہوری حکومتیں سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ سے ان پٹ (INPUT) لیتی ہیں جو ایک معمول کی بات ہے۔
اہل پاکستان خوش قسمت ہیں کہ وہ وقت کے ایسے دورانیے سے گزر رہے ہیں جو انتہائی تاریخ ساز ہے جہاں ایک ایسی جمہوری حکومت قائم ہے جو ملک کو ام الخبائث کرپشن سے پاک صاف کرنے کا عزم صمیم رکھتی ہے۔ اور اسے اس عظیم مشن کی تکمیل کے لئے تمام ریاستی اداروں کی خوشدلانہ اعانت حاصل ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو پاکستان کے قومی بیانیے کی کامیابی کی ضامن ہے۔

Scroll To Top