عدالت عظمی کے بعد عدالت عالیہ بھی پانی کے مسلہ پر میدان میں آگی

  • پنجاب بھر کی مساجد و مدارس کے وضو کا استمال شدہ پانی پودوں کو دینے کا حکم
  • 2040 تک پاکستان خطے کا سب سے کم پانی رکھنے والا ملک بن سکتا ہے
  • غیر سنجدیگی کا عالم یہ کہ اہل پاکستان دنیا میں زیادہ پانی استمال کرنے ملکوں میں چھوتھے نمبر پر ہیں
  • پاکستان 1990میں آبی قلت کے مسلہ سے دوچار ہوا اور 2005میں آبی قحط کے خطر ے کی لائن عبور کرلی

وطن عزیز میں پانی کے تیزی سے کم ہوتے زخائر کے پس منظر میں ایک طرف چیف جسٹس ثاقب نثار متحرک ہیں تو دوسری جانب دیگر فاضل جج صاحبان بھی پوری قوت سے میدان عمل میںموجود ہیں۔ اس ضمن میںلاہور ہائی کورٹ کے جناب جسٹس علی اکبر قریشی نے حکم جاری کیا ہے کہ پنجاب بھر کے مدارس اور مساجد کے وضو کا پانی پودوں کو دیاجائے۔ جناب جسٹس علی اکبر قریشی نے دوران سماعت ریمارکیس دیتے ہوئے کہا کہ پانی ضائع ہورہا ہے اور بل بھی نہیں دیا جارہا، سروس اسٹیشن مالکان کو خود کار نظام پر منتقل کرنے کے لیے دوماہ کا وقت دیا تھا لیکن انھوںنے کچھ نہیں کیا،عدالت نے حکم پر عمل درآمد نہ کرنے والے سروس اسٹیشنز کو دس روز میں بند کرنے کا حکم دیتے ہوئے پنجاب بھر کے ڈی سی اور سروسز اسٹنشز سے پانی کا بل وصول کریں۔
و طن عزیز میں 15میڑ سے زیادہ بلند ڈیموں کی تعداد محض 150ہے جس میںمنگلا اور تربیلا سب سے پرانے ہیں، جو بالترتیب 1974اور1967میں مکمل ہوئے تھے۔ اب ملک میںپانی کابحران بدترین شکل اختیارکرتا جارہا ہے۔ رواں سال ہی آئی ایم ایف اور یو این ڈی پی سمیت مختلف عالمی اداروں کی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تیزی سے پانی کے بحران کی جانب بڑھ رہا ہے حتی کہ 2040 تک پاکستان خطے کا سب سے کم پانی والا ملک بن سکتا ہے مگر حکومت اور عوام کی غیر سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ پاکستان دنیا بھر میں زیادہ پانی استمال کرنے والے ملکوں میںچھوتھے نمبر پر ہے۔ ملک بھر میں پانی زخائر جمع کرنے کے محض دو بڑے زرائع ہیں جن میں صرف 30 تک کا پانی زخیرہ کیا جاسکتا ہے۔ پانی کی کمی کا اندازہ یوں بھی لگایا جاسکتا ہے کہ بارشوں کی شکل میں ہر سال تقریبا 145ملین ایکٹ فٹ پانی آتا ہے لیکن پانی زخیرہ کرنے کی سہولیات نہ ہونے کے باعث صرف 13.7ملین ایکٹ فٹ ہی جمع کیا جاسکتا ہے۔ ارسا گذشتہ سال سینٹ میں اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتاچکا کہ ملک میںپانی جمع کرنے کے زخائر نہ ہونے کے سبب ہر سال 21 ارب روپے مالیت کا پانی ضائع ہوجاتا ہے چنانچہ اس پانی کو بچانے کے لیے منگلا ڈیم جتنے تین اور ڈیم بنانے کی ضرورت ہوگی۔
وطن عزیز کی بدقسمتی یہ رہی کہ پاکستان پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن کی پانچ پانچ سال حکومت رہنے کے باوجود آبی زخائر کے لیے خاطر خواہ اقدمات نہ اٹھائے جاسکے، مذکورہ دونوں جماعتیں نہ صرف خود کو تجربہ کار کہتی ہیں بلکہ قومی سیاسی منظر نامے پر کئی دہائیوں سے اپنی موجودگی کا احساس دلار ہیں ۔ مشکل یہ ہے کہ ایک طرف ملک میںزیر زمین پانی کے زخائر تیزی سے کم ہورہے تو دوسری جانب عام شہری پانی کا ضائع روکنے کے لیے آمادہ نہیں۔ تاحال عوامی شعور کو بیدار کرنے کے لیے ایسی مہم شروع نہیں کی جاسکی جس کے نتیجے میں شہری پانی کی قدر وقیمت حقیقی معنوں میں جان سکیں۔
اس پس منظر میں لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ یقینا صائب ہے، جناب جسٹس علی اکبر قریشی نے پنجاب بھر کی تمام نجی ہاوسنگ سوسائٹیز سے پانی کے بل وصول کرنے کابھی حکم دیا۔ عدالت عالیہ کا کہنا تھا کہ نجی ہاوسنگ سوسائٹیز کے مالکان شہریوں سے تو پانی کا بل وصول کررہے ہیںمگر ریاست کو یہ رقم دینے کو تیار نہیں۔ جسٹس علی اکبر قریشی نے مقدمہ کی سماعت کے دوران ریمارکس بھی دئیے کہ عدالتی احکامات نہ ماننے والوں کو جیل بھیجوا دیں گے۔“
پاکستان 1990میں آبی قلت کے مسلہ سے دوچار ہوا، 2005میں وطن عزیز نے آبی قحط کی لائن عبور کی۔ اب حالات اس نہج کو پہنچ چکے کہ ضرورت کا پانی بھی دستیاب نہیں۔ اس ضمن میںارباب اختیار بن ترین لاپرواہی کے مرتکب ہوئے جو پانی جیسے مسلہ کو سنجدیگی سے لینے پر آمادہ ہی نہ ہوئے۔ اب یہ تجویز بھی دی جارہی کہ واٹر سٹریس سے بچنے کے لیے آبی ایمرجنسی لگائی جائے ،یعنی پانی کی ترسیل کاکام راشن کارڈ کے زریعہ کیا جائے اور فی گھر پانی فراہم کرنے کا انتظام کیا جائے ، مذید یہ کہ زیادہ سے زیادہ فلڑیشن پلانٹ نصب کیے جائیں۔
پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے سیاسی ومذہبی جماعتوںکو آگے بڑھنا ہوگا۔ حکومت و اپوزیشن کے امتیاز سے قطع نظر لیڈر شپ کو سمجھنا ہوگا کہ اگر پاکستان میں پانی ہی نہ ہو ا تو تعمیر وترقی کا ہر منصوبہ ناکام ونامراد رہیگا۔ کسی دانشور نے درست کہا کہ انسان اپنی ترجیحات کا اسیر ہوا کرتا ہے، حکومت کی مثال بھی یہی ہے وہ ان ہی شبعوں میںکامیاب وکامران ہوسکتی ہے جو اس کی توجہ کے مستحق قرار پائیں۔پاکستان میں حکومت واپوزیشن دونوں کے لیے لازم ہے کہ وہ پانی کی کمی کے مسلہ کواپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھیں، یہ بھی زھن نشین رہے کہ ڈیم بنانا یا پانی کا ضیاع روکنا عدالتوں کا کام نہیں بلکہ اس کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوںکی زمہ داری ہے۔ اب جبکہ عدالت پانی کا مسلہ حل کرنے کے لیے پر خلوص کوشش کررہیں تو سیاسی قیادت کا فرض ہے کہ وہ پانی بحران پر قابو پانے کے لیے عدالتوں کی معاونت کا سلسلہ اس انداز میں جاری رکھیں کہ کسی قسم کی کوتاہی کا گماں نہ ہو۔ بلاشبہ وفاقی اور صوبائی حکومتوںکا فرض ہے کہ وہ پانی کا ضیاع روکنے کے لیے ایسی بھرپور آگہی مہم چلائے جو مسقبل میں اس کی مشکلات میں خاطر خواہ کمی لانے میںمددگار ثابت ہو۔

Scroll To Top