اب احتساب کا عمل رکنے والا نہیں !

  • نمایاں سیاسی جماعتوں کو جواب دہی کے عمل سے خوف کھانے کی ضرورت نہیں
  • ماضی میں احتساب کو مخالفین کو دبانے کے لیے استمال کیا جاتا رہا مگر اب ایسا نہیں
  • پاکستان تحریک انصاف عوام سے احتساب کا وعدہ کرکے برسر اقتدار آئی چناچہ اقدامات اٹھائے جارہے
  • یقیناکرپشن کا مکمل خاتمہ ممکن نہیںمگر بدعنوانی کا حجم کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے

وطن عزیز میںکرپشن کی موجودگی سے کوئی بھی باخبر پاکستانی انکار نہیں کرسکتا مگر سوال یہ ہے کہ آخر اس عفریت کس طرح قابو پایا جائے۔ ماضی میں ہمارے ہاں ایسا ہونا حیران کن نہیں رہا کہ اہل اقتدار نے احتساب کے عمل کو صرف اور صرف اپنے مفادات کے حصول کا زریعہ بنایا ، مثلا سیاسی مفادات کے حصول کے لیے اہل مخالفین پر سچے جھوٹے مقدمات قائم کیے اور پھر انھیں سے مک مکا کرکے ملک کی بجائے اپنے فائدے کو ترجیح دی، بلاشبہ اس معاملہ کی گہرائی میںجایا جائے تو یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ ماضی کے بہت سارے کردار قانون کے کٹہرے میںہوسکتے ہیں۔ ان سے پوچھا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے اپنے دور میں اس مقدس زمہ داری کو وہ ادا کرنے میںکیونکر ناکام رہے۔
عمران خان کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے اپنی پوری سیاسی جدوجہد بدعنوانی کے خلاف جنگ میںبدل دیا۔ وہ طویل عرصہ سے یہی موقف اختیار کیے ہوئے ہیں کہ ملک کو مسائل سے آزادی دلوانی ہے تو اس کے لیے کرپشن کو ختم کرنا ہوگا۔ اس پس منظر میں صدرمملکت عارف علوی کا کہنا ہے کہ نئے پاکستان کا مطلب ہے کہ قانون کی پاسداری ہو، پاکستان سے کرپشن کا لیکج بند کرنا ہوگا۔ ہزاروں اربوں ڈالر چوری کرکے باہر بھیجے گے ، اب بھی پاکستانیوں کے اربوں ڈالر سوئس بینکوں میں پڑے ہیں۔ ادھر قومی احتساب بیورو کے چیرمین نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دوٹوک انداز میں کہا کہ ملک 95ارب ڈالر کا مقروض ہے،اگر نیب نے پوچھ لیا کہ 95 ارب ڈالر کی یہ رقم کہا خرچ ہوئی تو کیا گستاخی ہے،جسٹس جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ نیب کا کوئی سیاسی کردار نہیں نہ ہی اس کا کسی سیاسی جماعت یا گروہ سے تعلق نہیں۔ اس کا تعلق صرف ریاست پاکستان سے ہے۔ “
دنیا کے کسی بھی ملک میں بدعنوانی کا خاتمہ آساں نہیں۔ اس بدترین رججان کے اثرات کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ ترقی پذیر ملک ہی نہیںترقی یافتہ ریاستوں میں بھی کرپشن کی موجودگی سے انکار ممکن نہیں۔ مگر آج کے مہذب ممالک اس لحاظ سے داد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے اپنے ہاںایسے سخت قوانین کا نفاذ ممکن بنایا جو بڑی حد تک بدعنوانی کا حجم کم کرنے میں معاون بنے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کا معاملہ یہ ہے کہ ہم خواہش کے باوجود اس مقام تک پہنچنے میں ناکام ہیں جہاں کمزور اور طاقتور پر یکساں انداز میں قانون کا نفاذ ہو، اعلی عہدوں پر براجمان افراد خود کو عوام کا خادم سمجھیں اور قومی خزانے کی پائی پائی سوچ سمجھ کر خرچ کی جائے۔اہل وطن کی بدقسمتی ہے کہ گزرے ماہ وسال میںاحتساب کا عمل غیر جانبداری سے محروم رہا جو بالاآخر عام آدمی کا اعتبار کھو بیھٹا ۔
رواں سال ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میںپاکستان تحریک انصاف وفاق و پنجاب میں برسر اقتدار آئی تو بلوچستان میں اس کی حثیثت اہم اتحادی جماعت کی سی ہے چنانچہ خبیر تا کراچی عام آدمی یہ امید کرنے میں حق بجانب ہے کہ اب بااثر طاقتور کرپٹ لوگوں کا احتساب ہوگا، لوٹی ہوئی دولت واپس لی جائے گی اور پھر سزا اور جرمانے کا عمل اپنے منطقی انجام کو پہنچے گا ، یہ بھی خیال ہے کہ منتخب ایوانوں میںجواب دہی کا ایسا نظام فعال ہوگا جس کی نظیر ماضی میں ملنی مشکل ہے، بلاشبہ مسائل کے حجم سے انکار نہیںمگر یہ کہنا غلط ہوگا کہ مختلف قسم کے مافیاز کے خلا ف کسی قسم کی کوئی کاروائی نہیںہونے والی۔
پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی ہی نہیں ملک کی کئی اور سیاسی جماعتیں بھی سٹیٹس کو کی حامی ہیں، وہ اس پر یقین رکھتی ہیںکہ کچھ لو اور کچھ دو کے بغیر معاملات حل نہیں ہونے والے ، چنانچہ عملا صورت حال یہ رہی کہ وفاق اور صوبوں کے بڑے بڑے مافیاز بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر سیاسی جماعتوں کے ساتھ رابطے میں رہے۔ہر انتخابات میں یہ منعظم جرائم پیشہ لوگ مختلف سیاسی جماعتوںکے امیدواروں کے پر پیسے خرچ کرکے انھیں احسان مند بنانے کا عمل بھی جاری رکھے ہوئے ہیںچنانچہ کامیابی کی صورت میں سرکاری منصوبوں سے فائدہ اٹھانے کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔ شاعر نے کہا تھا
ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا
ورنہ ہمیں دکھ تھے بہت لادوا نہ تھے
آج کے پاکستان میں ماضی کے برعکس امیدیں افزا واقعات رونما ہورہے، مثلاہر عام وخاص کو بڑی حد تک بات کہنے کی آزادی میسر ہے۔ ایسا نہیں کہ مثالی ماحول ہے مگر پھر بھی خیالات کااظہار آسان ہوچکا۔ میڈیا کی تیز ترین ترقی کا ہی ثمر ہے کہ ہر سرکاری وغیر سرکاری ادارہ کسی نہ کسی شکل میںلوگوں کے سامنے جواب دہ ہے، حد تو یہ ہے کہ قومی احتساب بیورو اور عدلیہ جیسے اہم اداروں پر بھی سوشل میڈیا پر تنقید معمول بن چکا۔ درپیش صورت حال میں جہاں بہتری کے بہت سارے مواقع میسر ہیں وہی خدشات بھی ہیں جن کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے پیشگی منصوبہ بندی لازم ہے۔
سمجھ لینا چاہے کہ جواب دہی کے عمل کسی بھی معاشرے کو بالغ نظری اور احساس زمہ داری کا عاری بناتا ناممکن ہے چنانچہ ماضی کے واقعات سے صرف نظر کرتے ہوئے قوم کے ہر فرد کو بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پاکستان تحریک انصاف احتساب کے وعدے کے ساتھ برسر اقتدار آئی لہذا آنے والے دنوں میں امید کی جاسکتی ہے کہ وہ لوگ بھی قانون کے کہٹرے میںموجود ہوں جو ماضی میں ہر احتساب سے بالاتر رہے۔

Scroll To Top