سیاسی کارکن۔۔ بے مہر موسموں کی فصل

  • کیازندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح سیاسی کارکنوں کے سماجی و معاشی حقوق بھی ہوتے ہیں۔ اگر ہوتے ہیںتو ان کے تحفظ کی فکر کسے ہے۔ بڑھاپے، معذوری اور لاغری میں ان کے لئے باعزت زندگی بسر کرنے کے سامان رزق کی فراہمی کس کی ذمہ داری ہے؟

مجھے اس واقعہ پر کوئی حیرت نہیں ہوئی کہ موجودہ سیاسی کلچر میں ایسا ہی ہو سکتا ہے۔ تبدیلی خواہش نہیں کوشش سے ہوتی ہے۔ کوشش بھی درست سمت میں، اور سمت بھی وہ جس کی منزل مساوات اور عدل و احسان ہو اس کے بغیر سب دھول اور فضول ہے۔ ایسی فضا میں ایسے ہی واقعات کی فصل یہاں اٹھتی رہے گی۔

وہ میرے جواں عمری کے زمانے کے رفیق رہے ہیں۔ پر جوش اور خلوص و لگن سے مالا ”سیاسی کارکن“۔ فیوڈل اور سرمایہ دارانہ خاندانوں کی دو نسلوں کے غبی نوجوان ان کی آنکھوں کے سامنے سیاستدان ہی نہیں”جہاندیدہ سیاستدان“ اور ”سیاسی رہنما“ کے مرتبے تک جا پہنچے۔ ان میں سے کچھ حکمران بھی بن بیٹھے مگر وہ حسب معمول سیاسی کارکن کے سیاسی کارکن ہی رہے۔ حالانکہ اسلام اور عوام کے نام پر بننے والی پارٹی کو جن غریبوں نے اپنے خون پسینے سے سینچا تھا میرے رفیق بھی ان ہی میں شمار ہوتے ہیں۔
تین عشروں کے طویل سیاسی سفر میں انہوں نے کیسی کیسی کھٹناﺅں کا سامنا نہیں کیا۔ لاٹھی گولی، پولیس گردی، آنسو گیس، جیل حوالات، تھانہ کچہری، ہتھکڑی، نظر بندی، مقدمے بازی اور قید و بند، روٹی روزی سے محرومی۔ مگر ان سب کے باوجود لگن، خلوص اور خود سپردگی کا یہ عالم کہ ہفتوں گھربار کارخ ہی نہ کیا۔ مالی وسائل کے ساتھ اولاد کو باپ کی شفقت سے محرومی کا دوہرا عذاب بھی سہنا پڑا۔ چنانچہ بچوں کی تعلیم و تربیت ادھوری ہی رہ گئی۔ کرایے کے جس مکان میں انہوںنے آنکھ کھولی تھی۔ اب ان کے بچے اور بچوں کے بچے بھی اسی چاردیواری میں سسک رہے ہیں۔ مگر میرے وہ رفیق ان تمام مسائل اور مطائب سے ماورا اپنی ہی ہٹ کے ہیں۔ پارٹی سے وفاداری اور کمٹ منٹ اور خلوص کے پیکر، بے مثل ایثار و قربانی کا روشن استعارہ
مگر میرا سوال تو یہ ہے کہ اتنے شاندار شخصی اوصاف رکھنے والے بے مثل شخص کا کیا یہی مقدر ہونا چاہئے کیا اسے تمام عمر ہی ”سیاسی کارکن“ یعنی سیاسی مزارع کے خول میں ہی بند رکھا جانا چاہئے، کیا وہ سیاستدان نہیں کہلائے جا سکتے۔ پارٹی کے اعلیٰ عہدے کیا ان پر حلال نہیں ہو سکتے۔ اور حکومت کی صورت میں کیا وہ فیصلہ سازی کی پوزیشن نہیں پاسکتے۔ ان کا سیاسی تجربہ، فہم و فراست اور تجزیے کا ملکہ و ادراک ملک و قوم کے کسی کام نہیں آ سکتا۔ اور کیا میرے اس رفیق اور دوست کو ہمیشہ ہی صاحبان ثروت کے لئے ”بے ساکھی“ کا کردار ہی ادا کرنا ہوگا؟ اور اس کے ساتھ ایسے ہی واقعات پیش آتے رہیں گے جس کی ایک جھلک اس روز بھی دیکھنے سننے کو ملی۔
اس روز وہ بہت بیمار اور لاغر تھے۔ انہیں پچھلے مہینے ہی انجائنا کا ایک اٹیک ہوا تھا شوگر اور بلڈپریشر بھی روگ کی طرح چمٹ گئے تھے۔ ڈاکٹروں نے انہیں مخصوص غذا، دوا اور آرام کا پابند کیا ہوا تھا۔ وہ نوے فیصد تک ان ہدایات پر عمل پیرا تھے۔ البتہ کچھ وقت کے لئے پارٹی آفس کی حاضری اور سیاسی بیٹھک کی صورت میں خلاف ورزی کے مرتکب ضرور ہوتے تھے۔
ایک روز صبح سویرے ہی ایک سیاسی ورکر انہیںگھر سے پارٹی کے کسی اعلیٰ عہدیدار کے پاس لے گیا۔ جو پارٹی ٹکٹ پر پارلیمانی اداروں کے لئے منتخب ہوتاآیا تھا۔ مگر اب اسے خدشہ تھا کہ پارٹی قیادت بوجوہ اسے ٹکٹ جاری نہیں کرے گی۔ چنانچہ اس نے اپنی جگہ ایک متبادل آسامی کو گھیرا۔ یہ ایک صاحب ثروت شخص تھا۔ مگر کسی سیاسی پس منظر سے تہی دامن۔ اس خلا اور کمی کے ساتھ پارٹی کی اعلیٰ قیادت تک کیونکر رسائی ممکن تھی۔ ان صاحبان وسائل نے افی سوچ بچار کے بعد میرے دور ماضی کے اس رفیق کو سیڑھی اور بیساکھی بنانے کا فیصلہ کیا۔ تاکہ اس کے پارٹی میں دیرینہ تعلقات کے ذریعے وہ نو وارد پارٹی کی اعلیٰ قیادت تک پہنچ کر اپنی پی آر بنا سکے۔ میرا وہ غریب دوست علیل تھا اور لاغر بھی۔ پھر اسے یہ سارا سلسلہ بھی کچھ مناسب بھی نہیں لگ رہا تھامگر ستم یہ ہو ا کہ وہاں موقع پر موجود کچھ اسی طرح کے دوسرے غریب اور سادہ لوح کارکنوں نے بھی ان پر اپنا اخلاقی دباﺅ ڈالنا شروع کر دیاں ایک تیز طراز کارکن نے یہ تھیوری پیش کی کہ نو وارد صاحب ثروت سیاستدان پارٹی ٹکٹ ملنے کی صورت میں محروم طبقے کی فلاح و بہبود کا زبردست منصوبہ رکھتا ہے۔ یہ کہ وہ اپنے وسائل سے پارٹی کو مزید مضبوط بنائیں گے۔ میرے دوست اس ماحول کے زیر اثر آ گئے اور خرابی صحت کے باوجود امیر زادے کی سیڑھی اور بیساکھی بننے کوتیار ہوگئے۔
لاہورسے اسلام آباد تک کا تین چار گھنے کا سفر بلاشبہ آرام دہ تھا۔ ایئرکنڈیشنڈ پجارو اور دوران سفر کی بہترین تواضع بھی اپنی جگہ میسر رہی۔ مگر بیماری کی نقاہت نےمیرے دوست کو خاصا نڈھال بنائے رکھا۔
درالحکومت پہنچ کر وہ اپنی ”اسامی“ کو لے کر کچھ پارٹی عہدیداروں اورگرگوں سے ملواتے رہے۔ ان کے سیاسی اثرورسوخ نے ان کی آسامی کو بہت متاثر کیا یہاں تک کہ رات گئے میرے دوست اسے ایک ایسے ”رابطے“ تک لے گئے جس کا اثر سرمایہ دارآسامی سے دور پار کارشتہ نکل آیا۔ آسامی کو اس مرحلے (باقی صفحہ7 بقیہ نمبر17
میں اپنی لائن کلیئر ہوتی نظر آئی۔ میرے دوست بتاتے ہیں کہ اس کے ساتھ ہی اس آسامی کا طرز عمل یوٹرن لینے لگا۔ اور پھر چند لمحوں کے ادنر ہی اندر اس کی طرف سے سرد مہری کا ایک ایسا غیر متوقع جھٹکا آیا کہ میرے رفیق چاروں شانے چت ہوکر رہ گئے۔
وہ بتاتے ہیں کہ انہیں ایک گھنٹے سے زیادہ دیر تک شدید سردی میں اس صاحب ثروت کی پجارو میں بیٹھے رہنا پڑا نقاہت اور کپکپی سے ان کا برا حال ہو رہا تھا مگر مروت ہر لمحے ان کے آڑے آ رہی تھی۔ وہ صبر شکر کے ساتھ انتظار کرتے رہے۔ یہاں تک کہ عالیشان بنگلے کے اندر سے ایک ملازم ہاتھ میں دو ہزار کے لوٹ لئے ان کے پاس اس ہدایت کے ساتھ آیا کہ صاحب کا حکم ہے کہ آپ ان پیسوں سے کسی ہوٹل میں جاٹھہرو، وہاں سے صاحب کے موبائل پر فون کردینا۔ وہ کل بارہ بجے تمہیں وہاں سے لے لیں گے۔
میرے رفیق کہتے ہیں کہ اس طرز عمل نے انہیں غصے سے پاگل کر دیا۔ ان کا جی چاہا کہ گلا پھاڑ پھاڑ کر احتجاج کریں۔ طعن و تشنیع کا ایک ہنگامہ کھڑا کر دیں مگر وہ صبر کے ساتھ کچھ نہ کر سکے انہوں نے ملازم کو دونوں نوٹوں کے ساتھ واپس بھجوا دیا۔ اور خود دھکے کھاتے ہوئے رات گئے میرے پاس پہنچ گئے۔
مجھے اپنے دوست اپنے رفیق سے ہمدردی بھی ہوئی اوران پر غص بھی بہت آیا۔ مگر ان کی بزرگی کا تقدس اور احترام بھی میرے شامل حال رہا۔
یہاں سوال یہ ہے اور یہ ایک بہت بڑاسوال ہے کہ آخر کب تک غریب کارکن سیاس پارٹیوں پر مسلط جاگیرداروں، سرمایہ داروں ، پتھاریداروں اورسہ گیروں کے رحم و کرم پر ان کے سیاسی مزارع اور کمی کمین بنے ر ہیںگے کیا ان کی جوانیاں بڑھاپے محض اس لئے اترتی رہیں گی کہ وہ ہمیشہ صاحبان ثروت کو اپنے کندھے پیش کرتے رہیں گے۔ اور اپنی جوانیوں اور زندگیوں کو ان کی فصل تمنا کی کھاد بنائے رکھیں گے۔
آیئے سوچیں ساری سیاسی پارٹیوں سے وابستہ غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے کارکن اس اہم اور سلگتے ہوئے مسئلے بابت سوچیں اور تبدیلی کی کوئی سبیل بنائیں۔ یاد رہے تبدیلی محض خواہش کا نام نہیں یہ کوشش سے ہی ممکن ہے۔ اور کوشش بھی درست سمت میں اور سمت بھی وہ جس کی منزل مساوات اور عدل و احسان ہو۔ اس کے بغیر سب دھول فضول ہے۔

Scroll To Top