نئے پاکستان کا ایک رُخِ زیبا

  • سات عشروں کے فدویانہ رویے کے برعکس قومی غیرت و حمیت کا مظاہرہ
  • گلوں میں ”تھینک یو امریکہ“ کی لٹکتی تختیاں، پیٹھوں پر گندم لادے اونٹ کراچی شہر میں گھمائے گئے
  • بڈھ بیڑ پشاور سے اڑنے والا جاسوس امریکی طیارہ یوٹو روس میں مار گرایا گیا،
  • رد شچیف نے نقشے پر موجود پاکستان کے گرد سرخ دائرہ لگا دیا۔

gulzar-afaqi
صرف چند ماہ پہلے
ہماری قومی غیرت اور حمیت کا جنازہ نکال دیا گیا۔
امریکی ایئرپورٹ پر نون لیگی حکومت کے وزیر اعظم محترم شاہد خاقان عباسی صاحب مدظلہ کے کپڑے اتار لئے گئے اور وہ بھی سرعام کیمروں کی ننگی آنکھوں کے سامنے، بے غیرتی کے اس مظاہرے کے دوران امریکی غلامی کے رسیا شاہد خاقان عباسی نے کوئی مزاحمت کی نہ احتجاج کیا۔ اس کے برعکس وہ کمال خوش دلی کے ساتھ اپنے لئے اور ملک کے لئے رسوائی کی واردات کی تکمیل کرتے رہے۔
امریکی صدر ٹرمپ کے پیٹ میں چند دنوں بعد ایک بار پھر مروڑ اٹھا۔ اس نے اپنے روائتی شیطانی طنطنے سے ایک با ر پھر پاکستان کی طرف رخ کرتے ہوئے منہ سے خبثیانہ ہرزہ سرائی اور دھمکی کے شعلے اگل دیئے، افغان جنگ میں پاکستان کی بے مثل قربانیوں اور ناقابل تلافی جانی و مالی نقصانات کو پس پشت ڈالتے ہوئے ایک بار پھر ڈومور کا مطالبہ داغ دیا۔
مگر ٹرمپ بھول گیا کہ اب پاکستان کا موسم تبدیل ہو چکا تھا۔ یہاں روائتی کاسہ پسوں اور دریوزہ گروں کی بجائے ایک خود دار اور باوقار رجل رشید عمران خان زمام حکومت سنبھال چکا ہے۔
سو ابھی ٹرمپ کے شعلہ اگلنے بیان کی صدائے بازگشت کے تمام ہونے سے پہلے ہی اسے مرد میدان مرد بحران عمران خان وزیر اعظم پاکستان کا جوابی پیغام مل چکا تھا۔ حکومت پاکستان کے چیف ایگزیکٹو کی طرف سے یہ بیان جہاں ایک آئینہ تھا وہاں ایک موٹی چربی اور بھدی سوچ والے ٹرمپ کے لئے ایک نشتر بھی تھا کہ جس نے اس بھدے امریکی صدر کے ہوش ٹھکانے لگا دیئے۔
زیادہ دن نہ گزرے تھے کہ وائٹ ہاو¿س کے مکین کی طرف سے ایک ”الجائیہ“ خط وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی میز پر دھرا تھا۔ اس کا نفس مضمون تھا عجز سے بھیگا ہوا اعتراف کہ افغان جنگ میں واقعی پاکستان نے گرانقدر جانی و مالی قربانیوں کا ذکر تھا اور عمران خان کی قائدانہ صلاحیتوں کے اعتراف کے ساتھ ان سے افغان مسئلے کے حل اور طالبان کے ساتھ مذاکرات کے ضمن میں تعاون مانگا گیا تھا۔
یہاں ہمیں لمحے بھر کو رکنا ہوگا۔ اس تبدیلی پر غور کے لئے جو امریکی رویے میں یکبارگی دیکھی گئی۔ یہ ثمر تھا اس قومی خوداری ، عزت نفس اور وقار کا جس کا مظاہرہ عرصہ دراز بعد عمران خان صاحب کے روپ میں کسی پاکستان حکمران نے دنیا کی سپر پاور کے طاقت ور تین صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے روبرو کیا تھا اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے جتا دیا گیا تھا کہ اب پاکستان میں کسی جُل پُڑئیے کی نہیں عوام کی حکمرانی ہے اور عمران خان اس حکمرانی کا سرخیل ہے۔
عالمی میڈیا نے پاکستانی وزیر اعظم کے اس خود دارانہ طرز عمل کو غیر معمولی تحسین مستوجب قرار دیا اور کہا کہ سی پیک کے ساتھ ساتھ عمران خان کا باوقار طرز حکمرانی بھی ڈپلومیسی کی دنیا اور بطور خاص پاک امریکہ تعلقات میں ”گیم چینجز“ثابت ہوگا۔
مجھے عمران خان کے اتنہائی جرا¿ت مندانہ رویے اور امریکی صدر کو اس کی اوقات کے اندر سکیڑ دینے کی اہمیت کا اس لئے بھی زیادہ ادراک ہو رہا ہے کہ میرے سامنے اپنی تاریخ کا ایک اور ورز بھی کھل رہا ہے جو آج کے باوقار طرز عمل سے یکسر برعکس مفعولیت کا مظہر تھا۔
50کی وسط دہائی کا قصہ ہے۔ ملک پر محمد علی بوگرا کی حکومت تھی۔ جب امریکہ نے پی ایل480سکیم کے تحت پاکستان کو ناکارہ گندم کی ایک کھیپ امداد کے طور پر بھیجی۔ بوگرا حکومت امریکی چاپلوسی(باقی صفحہ نمبر 7بقیہ 52)
اور کاسہ لیسی اس حد تک زمین پر بچھ گئی کہ امریکی گندم کو اونٹوں پر لاد کر ان کی گردنوں میں ”تھینک یو امریکہ“ کے ٹیگ لٹکا کر پورے کراچی شہر میں انہیں کھایا اور اپنی قومی خود داری کا جنازہ نکالا گیا۔
اور اس سے پہلے کہ قابلی صدر احترام لیاقت علی خاں مدظلہ کی حکومت تھی اور ان کے پاس روس کے دورے کی دعوت بھی تھی جس کی ہماری طرف سے توثیق بھی ہو چکی تھی کہ اسی دوران انہیں امریکہ کے دورے کی دعوت موصول ہوگئی۔ ہر سفارتی معیار کی رو سے ہم پر واجب تھا کہ پہلے سے موجود دعوت نامے کی رو سے اپنے ہمسایہ ملک روس کے دورے پر جاتے۔ مگر ہماری طرف سے غیر معمولی اجتہادی غلطی کا ارتکاب ہوا اور اہم روسی دعوت نامے کو پس پشت ڈال کر واشنگٹن روانہ ہوگئے۔ بس پھر کیا تھا۔ ہمارے اس عمل نے تب سے روس کا رخ ہمارے دشمن بھارت کی طرف موڑ دیا۔ہمیں روس سے الگ تھلگ کرنے کے بعد امریکہ نے ہمیں بلیک میل کرنا شروع کر دیا۔ سیٹو اور سینٹو جیسے بین الاقوامی معادوں میں شامل کر کے ہماری طنابیں مزید کس دی گئیں۔ اور پھر ہم امریکی اطاعت گزاری کے کھیل کے ایک ”بے اوقات“ مہرے بن کر رہ گئے۔ یہاں تک کہ 1962میں پشاور کے قریب بڈبیڑھ کے مقام سے ہماری اجازت سے ایک امریکی جاسوس طیارہ ”یوٹو“ اڑا اور روسی فضاو¿ں میں جاسوسی کی غرض سے جاگھسا، روس نے اس طیارے کو مار گرانے کے ساتھ ہی پاکستان کو اپنے دشمنوں کی صف میں شامل کر لیا۔ روسی وزیر اعظم خرو شچیف نے اپنے کمرے میں لٹکتے دنیا کے تقشے پر پاکستان کے گرد سرخ دائرہ کھینچ دیا جس کا مطلب تھا وہ پاکستان پر کسی بھی وقت حملہ کر کے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا سکتا ہے۔
اور اس کے بعد تو ہم بتدریج امریکی تحفظ کی چھتری میں چھپنے کی کوشش کرتے رہے۔ افغان جنگ میں ہماری شرکت اسی مفعولیت کا عکس تھی۔
ان خدویانہ حالات میں عمران خان کی طرف سے ٹرمپ کی دھمکی کو اس شدت سے پلٹا دینے کا باوقار رویہ غیرمعمولی جرا¿ت مندی اور قومی غیرت کا مظہر بن جاتا ہے ۔
جناب عمران خان کے نئے پاکستان کا رخ زیبا

Scroll To Top