یقینا پاکستان کو کرائے کا قاتل نہ سمجھا جائے

  • وزیر اعظم پاکستان نے امریکہ سے ماضی بھول کر باوقار انداز میں تعلقات استوار کرنے کا مطالبہ کیا
  • اففانستان کے امن کو پاکستان کی ضرورت قرار دیتے ہوئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی گی
  • بلاشبہ ترقی پذیر ملک ہونے کی حیثیت سے پاکستان کسی طور پر امریکہ سے محاذآرائی کا متحمل نہیں
  • واشنگٹن کے لیے لازم ہے کہ وہ بھارت کو خوش کرنے کی پالیسی کی بجائے زمینی حقائق مدنظر رکھے

zaheer-babar-logo
وزیر اعظم پاکستان کا واشنگٹن پوسٹ کو دیا جانے والا انٹرویو دراصل اس بدلے ہوئے پاکستان کا پتہ دے رہا جو ماضی میں کئی دہائیوں تک امریکہ آشیربار کا متلاشی رہا ۔ پاکستانی سیاست کی تاریخ سے واقف کسی بھی شخص کے لیے یہ کوئی راز نہیں کہ امریکہ پاکستانی حکمرانوں کو اقتدار میں لانے اور نکالنے میں کردار ادا کرتا رہا۔ درحقیقت عمران خان کی جانب سے پاکستان کو کرائے کا قاتل نہ بنانے کا اعلان کو تاریخی پس منظر کی روشنی میںہی دیکھا یا سمجھا جاسکتا ہے۔ روس اور افغانستان کی جنگ میں پاکستان نے امریکہ کے لیے جو کردار اداکیا وہ تاریخ کا حصہ ہے مگر بعدازاں یہ جواب سنے کو ملا کہ اسلام آباد کو ان تمام ”خدمات “ کا معاوضہ دیا گیا جو اس نے سرانجام دیں،امریکہ کا متکبرانہ لب ولہجہ بین الاقوامی تعلقات کی روشن میں تو درست ہوسکتا ہے مگر عام پاکستانی کے نقطہ نظر سے افسردہ کردینے والا رہا۔ امریکہ کے بڑے حریف روس کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے بدلے میں واشنگٹن نے جو کچھ بھی پاکستان کو دیا وہ کسی طور پر اس تعاون کا نعم البدل نہیں جو واشنگٹن کے لیے مثالی ثابت ہوا۔، نائن الیون کے بعد ایک بار پھر اس تاریخی موقعہ کو پرویز مشرف سمجھنے میں ناکام رہے اور واشنگٹن کو کہنا پڑا کہ سابق صدر نے وہ بھی دے دیا جس کی توقع نہیںکی جارہی تھی۔ سابق وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن اعلانیہ تسلیم کرچکیں کہ روس کی شکست کے بعد پاکستان کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہ تھا۔ عمران خان کا کہنا غلط نہیںکہ مسقبل میںکسی طور پر پاکستان کو ایسے حالات سے دوچار نہیںہونے دیں گے جن کا شکار پاکستان میں ماضی میں رہا، اسی لیے وزیر اعظم پاکستان کو دوٹوک انداز میں کہنا پڑا کہ امریکہ سے تعاون کے نتیجے میں ہمارا جانی نقصان ہوا، قبائلی علاقوں میں تباہی ہوئی ، ملک کا وقار مجروع ہوا اب ہم امریکہ کے ساتھ حقیقی تعلقات چاہتے ہیں۔“
پاکستان جیسا ترقی پذیر ملک اس بات کا متحمل نہیں کہ وہ امریکہ کے ساتھ محاذآرائی پر مبنی رویہ اختیار کرے مگر اب واشنگٹن کو پاکستان کے ساتھ باوقار رویہ اختیار کرنا ہوگا۔ صدر ٹرمپ آئے روز جس طرح پاکستان پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کے الزمات عائد کرتے ہیں اس سے باشعور پاکستانی یہ سوچنے میںحق بجانب ہے کہ آخر کیوں واشنگٹن ہماری جانی ومالی قربانیوں کی قدر نہیںکررہا۔امریکی جاری حکمت عملی سے شناسا ہرکوئی آگاہ ہے کہ اگر پاکستان کے کسی بھی شہر یا گاوں میں واشنگٹن کو مطلوب شخص موجود ہو تو اسے نشانہ بنانے سے گریز نہیںکیا جائیگا۔ گذشتہ سالوں میں ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن اور نوشکی میں افغان طالبان کے سربراہ ملا اختر منصور کا مارا جانا اس کا بڑا ثبوت ہے لہذا یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں طالبان کا کوئی بھی اہم فرد موجود نہیں۔
عمران خان نے امریکی اخبار کو دئیے گے انٹرویو میں واضح کیا کہ افغانستان میں امن پاکستان کے مفاد میں ہے چنانچہ صدر ٹرمپ کی جانب سے لکھے گے خط کے جواب میں ہم کہہ چکے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان بات چیت کے لیے پاکستان سب کچھ کریں گا۔“
افسوسناک ہے کہ امریکہ پاکستان پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام عائد کرکے نئی دہلی کو خوش کرتا رہا۔ بھارت میں برسر اقتدار بھارتیہ جتنا پارٹی کی سیاسی طاقت کا نمایاں پہلو پاکستان ، اسلام اور مسلمان دشمنی ہے۔ ایک طرف نریندر مودی پاکستان پر الزام عائدکررہا کہ مقبوضہ کشمیر میں حالات کی خرابی کا زمہ دار پاکستان ہے جبکہ دوسری طرف امریکی دہائی ہے کہ افغانستان میں اسے کامیابی نہ ملنے کا سبب سرحد پار دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ہیں۔ مذکورہ دونوںملکوں نے اپنے اس موقف میں افغانستان کو بھی شامل کیا جو اپنے ہاں ہونے والی تک دہشت گردی کی ہر کاروائی کا زمہ دار پاکستان کو قرار دیا۔ حکومت کے ساتھ پاکستان میں خارجہ امور پر سنجیدہ لکھنے اور بولنے والے بار بار کہتے رہے کہ افغانستان میں جاری جنگ نظریاتی بنیادوں پر لڑی جارہی، طالبان نے امریکہ کے خلاف ایک بیانیہ تشکیل دے رکھا ہے جسے افغانوں کی قابل زکر تعداد تسلیم کرچکی چنانچہ یہی سبب ہے کہ واشنگٹن تمام تر جدید ٹیکنالوجی و معاشی طاقت کے باوجود طالبان کو شکست دینے میں مسلسل ناکام ہے۔یہ محض اتفاق نہیںکہ عمران خان طویل عرصہ سے افغانستان مسلہ کا حل بات چیت قرار دیتے رہے، وزارت عظمی کا منصب سنبھالنے سے پہلے بھی عمران خان کا موقف تھا کہ امریکہ اور طالبان کو مل بیٹھ کر تنازعہ کا حل نکالنا ہوگا۔ زمینی حقائق امریکہ کے خلاف ہوچکے، معتبر غیر ملکی نشریاتی ادارے تواتر سے کہہ رہے کہ کم وبیش 40 فیصد سے زائد افغانستان پر طالبان قابض ہیں، وہاں ان کا قانون چلتا ہے ، تنازعات میں لوگ ان ہی کو ثالث مانتے ہیںلہذا طالبان امریکہ کے اففانستان میں ہونے کے باوجود حکومت کررہے ۔ یقینا ہر گزرتا دن افغانستان میں امریکہ کی مشکلات میںاضافہ کررہا، کوئی شک نہیں کہ افغانستان میں واشنگٹن کے مقاصد دہشت گردی کے خاتمہ کے علاوہ بھی ہیں مگر جاری صورت حال اکلوتی سپرپاور ہونے کی دعویدار ریاست کو شرمندہ کررہی۔ امریکہ کو افغانستان بارے پالیسی میں ہنگامی بنیادوں پر تبدیلی لانا ہوگی مگر فوری طور پر افغانستان سے امریکی انخلاءکسی طور پر سودمند ثابت نہ ہوگا۔ فریقین کو طاقت کی بجائے اب بات چیت کا سلسلہ شروع کرنا ہوگا جس کے لیے روس،چین ، ایران اور پاکستان جیسے ممالک اپنا مثب کردار ادا کرسکتے ہیں۔

Scroll To Top