پاک فوج کا نام لے کر ڈرایا کیوں جارہا ہے ؟ 23-05-2014

kal-ki-baat
ڈان نیوز پر مہر بخاری (جو اب مسزکاشف عباسی ہیں)پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کا انٹرویو لے رہی تھیں۔ زیادہ سوالات کی بوچھاڑ ایک ہی نقطے پر تھی۔
دھاندلی کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا خیال آپ کو ایک سال کے بعد کیوں آیا ہے ؟
اگر انصاف حاصل کرنا ہی مقصود ہے تو آپ نے پارلیمنٹ کا فورم کیوں استعمال نہیں کیا ؟
آپ سڑکوں پر آکر کیا مقصد حاصل کرناچاہتے ہیں ؟ کیا اس لائحہ عمل سے ایسے حالات پیدا نہیں ہوں گے جو 1977ءکی صورتحال دوبارہ پیدا کردیں ؟۔ یعنی فوج سیاسی میدان میں اتر آئے۔؟عمران خان سے یہ تمام سوالات اور اسی نوعیت کے دوسرے کئی سوالات پوچھے گئے۔
انہوں نے محترمہ کی توجہ اس حقیقت کی طرف مبذول کرانے کی بہت کوشش کی کہ مبینہ دھاندلی کے خلاف آواز مئی 2013ءمیں ہی بلند ہونی شروع ہوگئی تھی اور تحریک انصاف نے آزمائشی طور پر چار حلقوں کی نشاندہی کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ اگر یہاں کے سرکاری نتائج کی تصدیق غیر جانبدارانہ چھان بین کے ذریعے کرا دی جائے تو احتجاج کا کوئی جواز باقی نہیں رہے گا۔ خان صاحب نے اس بات پر خاصا زور دیا کہ تحریک انصاف نے انصاف کے حصول کے لئے ہر دروازہ کھٹکھٹایا لیکن کوئی بھی دروازہ اب تک نہیں کھولا گیا۔
جواب میں مہر بخاری نے یہ سوال دا غ دیا کہ ” کیا آپ کے احتجاج سے فوج کی آمدکا راستہ ہموار نہیں ہورہا ۔؟“
” کوئی بھی نہیں چاہتا کہ فوج دوبارہ سیاست میں قدم رکھے۔ لیکن اس ڈر سے کہیں فوج نہ آجائے ہم دھاندلی کے سامنے ہتھیار ڈال دیں۔ یہ ممکن نہیں۔“ خان صاحب نے جواب دیا۔
خان صاحب نے ایک سیاستدان والا جواب دیا۔ مجھ جیسا کوئی بے فکر شخص ہوتا تو کہتا۔ ” آپ فوج کا خوف تو اس انداز میں دلا رہی ہیں کہ جیسے بندے ماترم کی فوج ہوگی۔!سیاست میں بگاڑاگر فوج کی مداخلت سے ہوا ہے تو بگاڑ کا خاتمہ کرنا بھی شاید فوج کی ہی ذمہ داری ہو۔۔۔! ہمیںوطنِ عزیز کی حفاظت کرنے والی فوج سے لوگوں کو ڈرانا نہیں چاہئے۔۔۔۔“

Scroll To Top