امریکہ کیلئے کرائے کی بندوق نہیں بن سکتے:کسی کی جنگ لڑیں گے نہ جھکیں گے ‘ عمران خان

  • اب وہ کریں گے جو ہماری عوام کے مفاد میں ہو گا‘امر یکہ کے ساتھ برابر ی کی سطح پر تعلقات چا ہتے ہیں‘پاکستان میں طالبان کی کوئی پناہ گاہیں نہیں، امر یکہ کو افغا نستا ن سے نکلنے میں جلد با زی نہیں کر نی چا ہیئے،وزیراعظم کا واشنگٹن پوسٹ کو انٹرویو
  • ملک کو پیغمبر اسلام کے سنہری اصولوں پر چلا کر آگے لے جائیں گے‘ چین نے ریاست مدینہ کے اصولوں پرعمل پیرا ہو کر 70 کروڑ عوام کو غربت کی دلدل سے کامیابی سے نکالا ‘ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے طلبہ سے خطاب

واشنگٹن(آن لائن) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کرائے پر لی ہوئی بندوق نہیں، اب ہم وہ کریں گے جو ہمارے مفاد میں بہتر ہوگا۔ امر یکہ کے ساتھ برابر ی کی سطح پر تعلقات چا ہتے ہیں ، پاکستان میں طالبان کی کوئی پناہ گاہیں نہیں، پاک افغان سرحد کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے جہاں سے دہشت گردوں کی آمدو رفت مشکل ہے، امر یکہ افغا نستا ن سے نکلنے میں جلد با زی نہ کر ے ،امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کو دیے گئے انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان نے امریکا کی جنگ لڑتے ہوئے بہت زیادہ نقصان اٹھایا تاہم اب پاکستان امریکا کے ساتھ برابری کی سطح پر باقاعدہ تعلقات چاہتا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ وہ امریکا سے ایسے تعلقات کبھی نہیں چاہیں گے جس میں پیسے دے کر جنگ لڑنے یا پاکستان کے ساتھ خریدی گئی بندوق جیسا برتاو¿ کیا جائے، ہم خود کو دوبارہ اس پوزیشن میں نہیں ڈالیں گے، اس سے انسانی جانوں کا ضیاع، ہمارے قبائلی علاقوں کی تباہی اور ہمارا وقار مجروح ہوتا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم امریکا کے ساتھ باقاعدہ تعلقات چاہتے ہیں، چین کے ساتھ ہمارے یکطرفہ تعلقات نہیں، دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات بھی ہیں اور ہم اسی طرح کے تعلقات امریکا سے بھی چاہتے ہیں۔وزیراعظم سے سوال کیا گیا کہ ‘آپ امریکا کے بہت مخالف ہیں’ جس کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا اگر آپ امریکا کی پالیسیوں سے اتفاق نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ امریکا کے خلاف ہیں، یہ سامراجی سوچ ہے کہ آپ میرے ساتھ ہیں یا میرے خلاف۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے پاکستان میں طالبان کی پناہ گاہوں کا الزام لگایا تھا، جب حکومت میں آیا تو سیکورٹی فورسز سے مکمل بریفنگ لی اور وقتاً فوقتاً امریکا سے کہا کہ بتائیں پاکستان میں پناہ گاہیں کہاں ہیں تاکہ اسے چیک کریں، پاکستان میں طالبان کی کوئی پناہ گاہیں نہیں ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ ٹوئٹ اور اس پر جواب سے متعلق پوچھے گئے سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ ٹوئٹر پر ٹرمپ کو جواب دینے کا مقصد ریکارڈ درست کرنا تھا، جواب میں لکھا تھا کہ امریکی صدر کو تاریخی حقائق پتہ ہونا چاہیے۔وزیراعظم نے واضح کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ہرزہ سرائی کا سوشل میڈیا پر جواب ٹوئٹر جنگ نہیں تھی۔امریکی فوج کے انخلا سے متعلق سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ 1989 میں جب سویت یونین افغانستان سے نکلا تو امریکا نے پاکستان کو تنہا چھوڑ دیا تھا، ہم چاہتے ہیں کہ امریکا افغانستان سے جلد بازی میں نہ نکلے اور افغانستان میں پہلے حالات ٹھیک کرے پھر تعمیر نو کیلیے بھی اس کی ضرورت ہوگی۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں 27 لاکھ افغان مہاجرین اب بھی کیمپوں میں رہ رہے ہیں، پاک افغان سرحد کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے جہاں سے دہشت گردوں کی آمدو رفت مشکل ہے۔دیں اثناءوزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آج واضح کردوں کبھی کسی کی جنگ لڑیں گے اور نہ ہی کسی کے سامنے جھکیں گے ہم سب سے امن چاہیں گے۔اسلام آباد میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ قوم نظریے سے ہے اور نظریہ نہ رہے تو قوم نہیں رہتی، قائداعظم نے پوری کوشش کی کہ مسلمان اور ہندو متحد ہوکر رہیں، قائداعظم نے محسوس کیا کہ مسلمانوں کے لیےالگ ملک ضروری ہے، ہمیں سمجھنا چاہیے کہ ملک کیوں بنا، آج بھارت میں جو مسلمانوں کا حل ہے وہاں نظر ہی نہیںآتا کہ مسلمانوں کو برابر کے حقوق ملیں گے، بھارت میں مسلمانوں کا آج کوئی قائد نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کا مطلب حکمران کا قانون کے نیچے ہونا ہے لیکن ہم جمہوریت سے بادشاہت پرآگئے، چین نے مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر چل کر 70 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا مگر پاکستان میں امیر امیر ہوتا گیا اور غریب غریب ہی رہ گیا، جو علاقے آگے تھے ان پر زیادہ پیسہ لگایا گیا جس سے کم ترقی یافتہ علاقے مزید پیچھے رہ گئے۔عمران خان کا کہنا تھاکہ اندازہ لگایا تو پتا چلا کہ لاہور میں ایک انسان پر 70 ہزار روپے اوسطاً خرچہ کیے گئے جب کہ چھوٹے علاقے راجن پور میں جہاں پیسے کی ضرورت تھی وہاں اوسطاً ایک انسان پر ڈھائی ہزار روپے خرچ کیے گئے، اس طرح امیر اور غریب علاقوں میں فرق بڑھتا گیا۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ اس ملک کو اٹھانا ہے تو نبی کریم? کے اصولوں پر اٹھائیں گے، ہماری کوشش ہے اپنے کمزور علاقوں کو آگے لائیں، بلوچستان پیچھے رہ گیا ہے لیکن اب اسے اچھا وزیراعلیٰ ملا ہے، ہم خواتین کے لیے اسپیشل پروگرام لارہے ہیں، ان کے جائیداد میں حصے کے لیے ایک قانون بنارہے ہیں جس پر عملدرآمد ہو۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم نے پاکستان میں اپنے آپ پر ظلم کیا، ہمارے لیڈروں نے قوم اور دوسرے ملکوں کے سامنے تاثر دیا کہ اگر کسی سپر پاور کی مدد نہیں کریں یا ان کی جنگ نہیں لڑیں گے تو تباہ ہوجائیں گے۔انہو نے کہا کہ آج ہمارے عظیم ملک نہ بننے کی وجہ جھکنا اور ہاتھ پھیلانا ہے جس نے ہماری قومی غیرت ختم کردی، ہم نے اپنے لوگوں کو بتایا کہ سپر پاور کی جنگ نہ لڑی تو نہیں بچیں گے، مگر آج واضح کردوں نہ کبھی کسی کی جنگ لڑیں گے اور نہ ہی کسی کے سامنے جھکیں گے، سب سے امن چاہیں گے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ افغانستان میں ہمیں ڈومور کہا گیا اور کہا گیا کہ پیسے دے رہے ہیں جنگ لڑیں، میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ افغانستان میں جنگ مسئلے کا حل نہیں، شکر ہے جو ڈومور کہہ رہے تھے وہ آج امن قائم کرنے اور مذاکرات کے لیے ہمیں کہہ رہے ہیں، ہم اسی طرح آگے بڑھیں گے اور یہ قوم عظیم بنے گی۔

Scroll To Top