بڑھتی ہوئی آبادی ملک کا سب سے بڑا مسلہ قرار

  • ماہرین کے مطابق پاکستان کی آبادی میں سالانہ چالیس لاکھ نفوس کی شکل میںاضافہ ہورہا
  • پاکستان میں آبادی بڑھنے کی شرح دوفیصد ہے جو بھارت، بنگلہ دیش اور ملایشیاءسے بھی زیادہ ہے
  • مولانا طارق جمیل نے درست کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کی بڑی وجہ جہالت ہے۔
  • وزیر اعظم اور چیف جسٹس آف پاکستان آبادی کی شرح کم رکھنے کے لیے پوری قوت طرح پر عزم ہیں

zaheer-babar-logoپاپولیشن ریفرنس بیورو کی تازہ رپورٹ کے مطابق 2050تک دنیا کی آبادی میں10ارب کا اضافہ ہوجائیگا جبکہ اگلی صدی تک یہ تعداد 16ارب تک بھی جاسکتی ہے۔دراصل دنیا کی آبادی جس تیزی سے بڑھ رہی ہے کہ ماہرین نے اسplosion) (Populataion Exکا نام بھی دیا جارہا ، اس پس منظر میںیہ سوال بھی اہمیت اختیار کرگیا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کو صحت ، روزگار اور تعلیم سمیت دیگر ضروریات زندگی کب اور کیسے فراہم کی جاسکتی ہیں۔
وطن عزیز کا شمار دنیا کے ان ممالک میںکیا جارہا جہاںآبادی میںاضافہ خطرناک شکل اختیارکرگیا ۔ہمارے دانشور توانائی بحران اور پانی کی کمی کو بڑے مسائل کے طور پر پیش کررہے مگر درحقیقت بڑھتی ہوئی آبادی سنگین مسلہ بن چکی، قیام پاکستان کے دنوں میںمغربی پاکستان کی آبادی تین کروڈ بیس لاکھ تھی جس میں اب کم وبیش سات گنا اضافہ ہوچکا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ملک کی آبادی میںسالانہ چالیس لاکھ نفوس کی شکل میںاضافہ ہورہا۔ پاکستان اس وقت آبادی کے اعتبار سے دنیاکا چھٹا بڑا ملک سمجھا جارہا ، آبادی اگر اسی انداز میں بڑھتی رہی تو 2050 تک 35کروڈ کی آبادی کے ساتھ پاکستان دنیا کا پانچواں ملک بن سکتے ہیں۔ پاکستان میں آبادی کے بڑھنے کی شرح دوفیصد ہے جو بھارت ، بنگہ دیش اور ملایشیاءسے بھی زیادہ ہے، ہمارے 44فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، آبادی کا پانچواں حصہ خطہ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے ، ناکافی تعلیمی سہولیات کے باعث46فیصد سے زائد بالغ آبادی ناخواندہ ہے۔
مقام شکر ہے کہ وزیر اعظم پاکستان اور چیف جسٹس آف پاکستان نے بڑھتی ہوئی آبادی کے مسلہ کو موضوع بحث بنایا۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ حکومت آبادی کنڑول کرنے کے لیے جامع مہم شروع کررہی ہے۔ لاءاینڈ جٹس کمیشن آف پاکستان کی جانب سے منعقد ہونے والے ایک روزہ سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ خاندانی منصوبہ بندی اور ماحول کا تحفظ نصاب کاحصہ بنایا جائیگا، ان کے بعقول لوگوں میں شعور بیدار کرنے کے لیے علماءکرام ، سوشل میڈیا سمیت تمام وسائل بروئے کار لائے جائینگے۔ چیف جٹس آف پاکستان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے ہمارے وسائل کم پڑ رہے ہیں ، پانی جیسے وسیلے کو پہلے ہی دباو کا سامنا ہے، انھوں نے کہا کہ مدینہ جیسی ریاست کے قیام کے لیے عدلیہ حکومت سے بھرپور تعاون کریگی “
اس پر افسوس کا اظہار ہی کیا جاسکتا ہے کہ ماضی کی حکومتوں نے بڑھتی ہوئی آبادی کے مسلہ پر توجہ نہیں دی۔بڑے بڑے دعوے تو کیے گے مگر یہ نہیں سوچا گیا کہ جب وسائل اور مسائل ملحوظ خاطر نہیں رکھے جائیں گے تو پھر کامیابی کیسی ۔ سیاسی قیادت کی زمہ داری یہی ہے کہ وہ نہ صر ف مسائل کی نشاندہی کرے بلکہ ان کو حل کرنے کے ٹھوس حکمت عملی بھی وضح کرے ۔ کسی نے خوب کہا کہ سیاست دان کی نظر آئندہ عام انتخابات میںکامیابی پر ہوتی ہے جبکہ لیڈر وہ کہلاتا ہے جو آئندہ نسلوں کا سوچے۔ اہل پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ قومی افق پر ایسے لوگ کم ہیں جو انفرادی مفاد کی بجائے اجتماعی مفاد کو اہمیت دے رہے۔ چاروں طرف جمہوریت جمہوریت کی دہائی ہے مگر یہ نہیں سمجھا جارہا کہ جب تک جمہور کے مفادات کو اولیت نہیں دی جائیگی اس وقت تک جمہوریت کا راگ الاپنا بے معنی ہے۔ یقینا اب تک اگر کوئی سیاسی رہنما ملک کے مسقبل کو درپیش خطرات پر توجہ مرکوز کرتا تو اس کے لیے بڑا مسلہ آبادی ہوتا۔ وزیر اعظم پاکستان کا مذہبی حلقوں کا تعاون حاصل کرنے کا اعلان خوش آئند ہے، لا اینڈ جسٹس کمیشن کی جانب سے منعقدہ ہونے والی تقریب میں معروف مذہبی شخصیت مولانا طارق جمیل کا خطاب بھی توجہ کا باعث بنا۔ مولانا طارق جمیل نے دوٹوک انداز میں بڑھتی ہوئی آبادی کی بنیادی وجہ جہالت کو قرار دیا ، ان کے بعقول شہروں کی بجائے دیہاتوں میں جس طرح نرینہ اولاد کی خواہش کی جاتی ہے جو بچوں کی پیدائش میں اضافہ کو بڑھا رہی۔
کوئی شک نہیں کہ بڑھتی ہوئی آبادی کو کنڑول کرنا بڑا چیلج ہے، اس میں کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب حکومت ہی نہیںپاکستان کا عام شہری بھی اس میںبڑھ چڑ ھ کر حصہ لے۔ میڈیا اور اساتذہ کے زریعہ بھی پاکستان کے شہروں ودیہاتوں میں رہنے والوں کو باور کروایا جائے کہ اچھی اور محفوظ زندگی گزرانے کے لیے وسائل کی موجودگی لازم ہے،ہر شہری کو معیاری زندگی کی فراہمی تک ہی ممکن ہوسکتی ہے جب آبادی کم سے کم ہو۔
عمران خان نے مذہبی طبقہ کو ساتھ ملانے کا جو اعلان کیا اسے بھی پسند کیا جارہا۔ وطن عزیز کے بڑے مسائل حل کرنے کے لیے حکومت واپوزیشن ہی نہیں میڈیا اور سیاسی ومذہبی قوتوں کو آگے بڑھنا ہوگا۔ ارض وطن جن مشکلات کا شکار ہے وہ بجا طور پر تقاضا کررہیں کہ قومی سطح پر اپنی صفوں میںاتفاق واتحاد رکھا جائے ۔ کون نہیں جانتا کہ کون سے لیڈر کتنے اصلی اور کتنے جعلی وعدے کرتا رہا۔
حکومت کی جانب سے بڑھتی ہوئی آبادی کی روک تھام کے لیے مہم کو دنوں اور مہینوں تک محدود رکھنا مناسب نہ ہوگا بلکہ حالات کا تقاضا ہے کہ پی ٹی آئی اپنے پانچ سالہ دور کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیساں تشکیل دے۔ حوصلہ افزاءہے کہ ملک کی بشیتر سیاسی ومذہبی جماعتیں آباد کو کم رکھنے کے لیے کی جانے والی کوششوں پر حکومت سے تعاون کرنے کاپہلے ہی اعلانیہ وعدہ کرچکیں۔

Scroll To Top