اب تہذیبوں کا تصادم ہمارے اپنے ملک کے اندر ہورہا ہے ! 21-05-2014

kal-ki-baat
جب کسی قوم کے رہنما اور ناخدا اپنے قومی فرائض سے بے نیاز ہو کر اپنی تمام تر کاوشوں کو حصولِ اقتدار ` تحفظ اقتدار اور اپنے مالی و تجارتی مفادات تک محدود کرلیں اور انہیں اس بات سے کوئی دلچسپی نہ رہے کہ جس ملک کی زمین نے ان کے ذاتی خزانوں کو بھرنے کے لئے سونا اگلا ہے ` اس ملک کی اساس پر بھرپور یلغار کرنے کے لئے دشمن قوتیں پوری طرح سرگرم عمل ہوچکی ہیں۔۔۔ تو ذات باری تعالیٰ کی طرف سے مداخلت ہوئے بغیر نہیں رہتی۔ ایسی صورت میں قوم کو قہرالٰہی کا سامنا بھی کرنا پڑسکتا ہے اور ایسی صورت میں رحمت الٰہی بھی جوش میں آکر ایسے حالات پیدا کردیتی ہے کہ قوم کی آنکھیں کھل جائیں اور وہ اپنی بقاءکی خاطر اپنے رہنماﺅں اور ناخداﺅں کی خود غرضیوں اور بے حسِوں کے خلاف احتجاج کا طوفان بن کر اٹھ کھڑا ہو۔
پاکستان آج ایسی ہی صورتحال سے گزر رہا ہے۔ اس ضمن میں اس رائے سے اختلاف ممکن نہیں کہ جو لوگ باری تعالیٰ کی عائد کردہ حدود کو بے دھڑک توڑ رہے تھے اور توڑ رہے ہیں اور جنہوں نے اپنی مسلمہ دینی اقتدار اور قومی روایات کے تقاضوں کو وحشیانہ شقی القلبی کے ساتھ پا مال کیا ہے۔ وہ بالآخر حضرت محمد ﷺ کے رب کی پکڑ میں آچکے ہیں۔
اب بات صرف ایک میڈیا ہاﺅس کے مادر پدر آزاد رویوں کی نہیں رہی۔ اب بات پوری میڈیا انڈسٹری کی اُس شرمناک روش تک پہنچ چکی ہے جس کے آگے اگر بند بندھنے کا موجودہ موقع ضائع ہوگیا تو رحمتِ الٰہی کو قہرالٰہی میں تبدیل ہونے میں ذرا دیر نہیں لگے گی۔
ہماری میڈیا انڈسٹری آج وہاںکھڑی ہے جہاں آنحضرت کے وصال کے فوراً بعد حجاز کے وہ علاقے آکھڑے ہوئے تھے جہاں متعدد کذابوں نے دعویٰ ہائے نبوت کر ڈالے تھے۔ اسلام پر کاذبوں کی یہ یلغار کس قدر تباہ کن سمجھی گئی اس کا اندازہ خلیفہ ءاول کی فوری جوابی کارروائی سے لگایا جاسکتا ہے۔
میں اپنے تمام ٹی وی چینلز کے کرتا دھرتا اصحاب سے یہاں ایک سوال کرتا ہوں۔
” اگر حضرت عمر فاروق ؓ منشائے الٰہی سے آکر ہمارے ٹی وی چینلز کے پروگرام دیکھیں تو ملک کا کون سا چوراہا ہوگا جہاں احکاماتِ خداوندی کی دھجیاں بکھیرنے والوں کو کوڑے نہیں مارے جارہے ہوں گے ۔؟
یہ درست ہے کہ ہم اکیویں صدی میں رہ رہے ہیں۔ مگر بنی عاد بنی صمود اور صدوم وغیرہ کی جو تہذیبیں قہرالٰہی نے مٹا ڈالیں وہاں بھی لبرل افکار اور لبرل اعمال کا راج ہوا کرتا تھا !

Scroll To Top