بھنور میں پھنسی کشتی اور ساحل مراد

  • برائی کو برائی سمجھنے کا احساس مرجائے تو سارا سماج ہی مرجاتا ہے
  • طبقہ بدمعاشیہ نے منظم منصوبہ بندی سے کرپشن کو عزت کا سٹیٹس دے دیا
  • حالات و اقعات معاملات، تعصبات کا انبار، حقیقت سامنے آئے تو کیونکر
  • سال ہا سال کے فکری جالے ادھیڑ نے میں وقت تو ہوتی ہے
  • اندھی اندھیری سرنگ کے دوسرے کنارے پر رحمت الہٰی کے اجالے

gulzar-afaqi
حالات واقعات اور معاملات
اور ہمارے تعصبات
ملاوٹ اور آمیزش جابجا
ایسے میں حقیقت پسندانہ اور معروضی تجزیہ ہو تو کیونکر
سماج پر اور اس کی سوچ پر تو صدیوں سے غالب طبقہ بدمعاشیہ کا اجارہ ہے ۔ اور جس نے بد عنواتی اور بدمعاشی کو اپنا وطیرہ بنا رکھا ہے اور ہر جا بدعنوانی اور بد معاشی کو سکہ رائج الوقت اور وطیرہ حیات بنا دیا ہے۔
پچاس ساٹھ سال پہلے کسی کی دھیلے کی رشوت کی خبر نکل آنے پر گلی محلے میں اس کا جینا مرنا حرام ہو کر رہ جاتا تھا ، لوگ اس کا حقہ پانی بند کر دیتے تھے آج جو کوئی جتنا بڑا راشی ہے، حرام خور ہے وہ اتنا ہی زیادہ معزز اور معتبر ہے۔
اپنے گردوبیش کا جائزہ لیں تو ہر جا ایک سے ایک بڑھ کر پاپی ملتا ہے مگر یوں کہ اس سے بڑا صافی کوئی دوجا کہاں ہوگا۔ سماج سے جب برائی کو برائی سمجھنے کا احساس ہی مر جائے تو یوں جانیئے سارا سماج ہی مرجاتا ہے۔ چلتا پھرتا لاشہ، ایک سایہ۔
مگر کیا کیجئے ہر اندھیری سرنگ کے دوسرے کنارے پر اجالے کا ایک آدھ ٹکڑا ضرور موجود ہوتا ہے۔ جو اس امر کی نوید ہوت اہے کہ افتادگان خاک ابھی اوپر والے کی رحمت و برکت سے محروم نہیں وہ اگر آنکھیں کھول لیں تو اس اجالے کی مدد سے اپنی منزل کی راہ پہنچان سکتے ہیں۔ ان کا رب ماں سے ستر گنا زیادہ شفقت کرنے والا ہے۔ تم ذرا کوشش کرو وہ تمہیں تھام لے گا۔
اللہ سوہنے کا مگر اسلوب یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں میں سے ہی کسی کو کسی بڑے مقصد کے لئے چن لیتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس نے ہم بھٹکے ہوئے افتادگان خاک اور اہلِ پاکستان کو ذلت و رسوائی کی اندھیری سرنگ سے نکالنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اور ایک بطلِ جلیل اور رجلِ رشید کے ذریعے پاکستانی قوم کو ترقی، سلامتی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کر دیا ہے۔
عمران خان میرے نزدیک وہی بطلِ جلیل اور رجلِ رشید ہے ۔
نیکی کا چراغ روشن ہوتا ہے تو بدی کے سارے اندھیرے خوفزدہ ہو کر متحد ہو جاتے ہیں۔ پٹ سیاپا اور واویلا ان کا صبح شام کا وطیرہ بن جاتا ہے ۔ آپ اپنے گردوپیش کا جائزہ لے لیجئے۔ ملک کے سارے کرپٹ عناصر، سیاستدان، بیوروکریٹس ، تاجر، بجلی و گسی چور، زیر زمین پانی کے ڈکیت، کک بیکس لینے والے کمیشن اور بھتہ خور، دہشگرد مافیاز سب یکجا ہو چکے ہیں۔ نیکی، بہتری اور بھلائی کے ایک چراغ کو بجھانے کے لئے بدی کی ساری(باقی صفحہ7 بقیہ نمبر26
اندھی اندھیریاں متحد ہو گئی ہیں۔ مگر ناکامی ان کا نصیبہ ہوگی۔ آخر کو چراغ مصطفوی ہی نے اس دھرتی پر اپنے اجلاے بکھیر نے ہیں۔
پچھلے روز ایک محفل میں شرکت کا موقع میسر آیا۔ ہر قبیل اور ذہنی سطح کا آدمی موجود تھا۔ خوشی ہوئی کہ وہاں مجھے عوامی سوچ میں تبدیلی کے واضح اشارے ملے۔ طبقہ بدمعاشیہ کے ایک گرگے نے جب عمران خان کے بہت لتے لے لئے اور حالیہ ایام میں ہونے والی بعض اشیائے ضروریہ کی مہنگائی کی بنیاد پر شرکائے محفل کو اپنے تئیں بھڑکانے کا بہت جتن کیا مگر خوشگوار حیرت یہ ہوئی کہ بعض بہت غریب اور نادار لوگوں نے بھی اس گرگے کی ہاں میں ہاں ملانے سے انکار کر دیا۔
ایک بزرگ نے ٹھیٹھ پنجابی زبان میں جو کچھ کہا اس کا مفہوم کچھ یوں ہے ”باپ کے بعد ماں نے گھر چلانے کے لئے اپنے دو بیٹوں کی باریاں لگائیں۔ ایک بیٹے نے چالاکی، مکاری اور عیاری سے باپ کا سارا اثاثہ برے کاموں اور ذاتی عیاشیوں میں پھونک دیا۔ جب کنگال ہو گیا تو دوسروں سے قرض لے کر گھر چلانے لگا۔ اپنے کرتوتوں پر پردہ ڈالے رکھنے کے لئے اس نے گھر کے کچھ افراد کو اپنے ساتھ ملا لیا تھا۔ اور قرض کے کچھ افراد کو اپنے ساتھ ملا لیا تھا۔ اور قرض کے پیسوں سے ان کا منہ بھی بند کرا دیتا تھا۔ یہاں تک کہ ان کے لئے آرام و آسائش کا سامان بھی فراہم کرتا رہتا۔
پھر ایک ایسا دن بھی آیا کہ قرض دینے والوں نے اسے پہلے سے لئے گئے قرضے کی واپسی کے تقاضے شروع کر دیئے۔ اسی دوران وہ کسی موذی مرض میں مبتلا ہو کر بستر سے لگ گیا۔ ماں نے اپنے دوسرے بیٹے کو اب گھر چلانے کی ذمہ داری سونپی۔
وہ ایک نیک سیرت اور پاک طینت شخص تھا۔ اس نے بڑے بھائی کی قرض خوری اور بد اتنظامی سے خود کو بالکل الگ رکھنے کی ٹھان لی۔ گھر والوں کو اپنی چادر کے مطابق پیر پھیلانے کی تلقین کرنے لگا۔ مگر انہیں اس طرز زندگی کو اختیار کرنے میں شدید مشکل پیش آنے لگی۔ سال ہا سال کی تن آسانی اور قرض کے پیسوں پر آرام و آسائش کی غارتوں کو چھوڑنا ان کے لئے محال ہو گیا مگر ماں کا یہ دوسرا بیٹا اپنے قول و فعل پر ڈٹا رہا۔ یہاں تک کہ چند ماہ بعد گھر کی معیشت سدھرنے لگی۔ گھر کا ہر فرد اپنے اپنے کام پر جُت گیا چادر کے مطابق پیر پھیلانے کا کلچر پیدا ہونے لگا۔ ہر کوئی گھر کے اخراجات میں اپنا حصہ ڈالنے لگا۔ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ گھر خود کفیل اور خوشحال و نہال بن گیا۔ اور زندگی کی ساری خوشیاں ان کا مقدر بن گئیں۔“
بزرگ مرد دانا نے خوبصورت تمشیلی پرائے میں جس گھر کا نقشہ کھینچا تھا۔ میرا پاکستان بھی تو ویسا ہی گھرانہ نہیں ہے۔ ہم بھی تو ویسے ہی حالات سے دوچار ہیں۔ قدرت نے عمران خان کے روپ میں ہمیں دھرتی ماں کا ایک ایسا بیٹا عطا کر دیا ہے جس کے ہاتھوں ہماری بھنور میں پھنسی کشتی ایسا انشاءاللہ جلد ہی خوشحالی اور سلامتی کے ساحل مراد پر پہنچ جائے گی۔۔

Scroll To Top